Sunday, 29 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Agha Shoaib Abbas
  4. Sindh Mein Smart Agriculture Ka Jaiza

Sindh Mein Smart Agriculture Ka Jaiza

سندھ میں اسمارٹ ایگری کلچر کا جائزہ

سندھ اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل یعنی زراعت، لائیوو اسٹاک اور معدنیات کی وجہ سے مالا مال صوبہ ہے۔ ان قدرتی وسائل سے نہ صرف سندھ کے عوام کی غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں بلکہ زائد پیداوار کو برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جاتا ہے۔ صوبہ سندھ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بندرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں سامان درآمد و برآمد ہوتا ہے۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں زراعت سے خام مال حاصل ہوتا ہے جو صنعتوں کو فراہم ہوتا ہے صنعت اس خام مال کی قدر میں اضافہ کرکےمقامی ضرورت پورا کرکے باقی برآمد کردیتا ہے۔ یہی صورتحال سمندری حیات کی ہے جہاں سی فوڈ مثلاً مچھلی جھینگے اور دوسری آبی حیات برآمد کردی جاتی ہے۔

اسی طرح سندھ میں مختلف اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں، جن میں سے بہت سی مقامی صنعتوں میں استعمال ہوتی ہیں اور کچھ بین الاقوامی سطح پر برآمد کی جاتی ہیں۔ پاکستان کی مجموعی معدنی برآمدات میں سندھ کا حصہ اہم ہے، خاص طور پر تعمیراتی پتھروں اور صنعتی معدنیات کے حوالے سے سندھ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے جس کی ایک مثال تھرپارکر کا کوئلہ ہے جس سے بجلی کی پیداوا ر بھی ہورہی ہے۔

دوسری طرف سندھ میں روزگار صرف فصلیں اگانے تک محدود نہیں بلکہ اس کی کئی شاخیں ہیں، گندم، کپاس، چاول اور گنے کی کاشت میں لاکھوں ہاری اور مزدور شامل ہیں۔ دیہی سندھ میں مال مویشی پالنا ایک مستقل کاروبار ہے۔ میرپور خاص اور نواب شاہ میں آم اور کیلے کے باغات ہزاروں خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔ سندھ کا ساحلی علاقہ ٹھٹھہ، بدین اور کراچی اور منچھر جھیل جیسے مقامات مچھلی کے شعبے سے وابستہ لاکھوں لوگوں کو روزگار دیتے ہیں۔

دنیا میں بہت سے ممالک اپنی معیشت کا بڑا حصہ زرعی آمدنی اور برآمدات سے حاصل کرتے ہیں۔ ان ممالک کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے، ایک وہ جو دنیا کے بڑے برآمد کنندگان ہیں اور دوسرے وہ جن کی معیشت کا کل انحصار زراعت پر ہے۔ مثلاً امریکہ دنیا کا سب سے بڑا زرعی برآمد کنندہ ہے۔ یہاں سے مکئی، سویا بین، گندم اور گوشت پوری دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ برازیل یہ سویا بین، گنے، کافی اور گائے کے گوشت کی برآمد میں عالمی لیڈر ہے۔ نیدرلینڈ رقبے میں چھوٹا ہونے کے باوجود، یہ ملک پھولوں، ڈیری مصنوعات اور سبزیوں کی برآمد میں دنیا میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ اسی طرح چین دنیا میں سب سے زیادہ زرعی پیداوار حاصل کرنے والا ملک ہے یہ چاول، چائے اور مختلف پھل برآمد کرتا ہے۔ ہمارا پڑوسی بھارت چاول خاص طور پر باسمتی، مصالحہ جات، چائے اور چینی کی برآمد سے بھاری زرمبادلہ کماتا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر فصلیں اگاتے ہیں اور انہیں دوسرے ممالک کو فروخت کرکے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔

اسی طرح دیکھا جائے تو لائیو اسٹاک یا مال مویشی پالنا عالمی معیشت کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے۔ کئی ممالک کی معیشت کا پہیہ صرف فصلوں پر نہیں بلکہ جانوروں اور ان سے حاصل ہونے والی مصنوعات دودھ، گوشت، اون اور چمڑا پر چلتا ہے۔ کچھ ممالک ایسے ہیں جنہوں نے لائیو اسٹاک کو ایک بڑی صنعت میں بدل دیا ہے۔ مثلاً برازیل یہ دنیا میں گائے کے گوشت کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ برازیل کی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ گوشت کی عالمی منڈی سے وابستہ ہے۔ برازیل اور امریکہ جیسے ممالک نے اپنی زراعت او ر لائیواسٹاک کو "صنعت" بنا لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ کم رقبے سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں آسٹریلیا بھیڑ بکریوں اور اون کی پیداوار میں دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ ممالک زندہ جانوروں اور گوشت کی برآمد سے اربوں ڈالر کماتا ہے۔ نیوزی لینڈ ڈیری مصنوعات یعنی دودھ، مکھن، پنیر کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ اپنی دودھ کی مصنوعات کا تقریباً 95 فیصد حصہ برآمد کرتا ہے۔ امریکہ پولٹری اور بیف کی پیداوار میں بہت آگے ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس شعبے سے بھاری منافع کماتا ہے۔ بھارت میں دنیا کی سب سے زیادہ بھینسیں پائی جاتی ہیں اور یہ دودھ کی پیداوار میں دنیا کے ٹاپ ممالک میں شامل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی معیشت میں بھی زراعت اور لائیوو اسٹاک "ریڑھ کی ہڈی" کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی کل برآمدی آمدنی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ ملک کی تقریباً اتنی ہی افرادی قوت اسی شعبے سے منسلک ہے۔۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں زئد آبادی ہونے کی وجہ سے لائیو اسٹاک کی بہت اہمیت ہے پاکستان کے لیے لائیو اسٹاک محض ایک پیشہ نہیں بلکہ دیہی معیشت کی بنیاد ہے۔ پاکستان کی زراعت میں لائیو اسٹاک کا حصہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جو کہ فصلوں جیسے گندم اور کپاس وغیرہ سے زیادہ ہے۔ کیونکہ پاکستان مشرقِ وسطی کو حلال گوشت برآمد کرکے کافی زرمبادلہ کما رہا ہے۔ اس تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ چمڑے کی صنعت پاکستان کا لیدر سیکٹر جوتوں، جیکٹس اور کھیلوں کے سامان کی صورت میں لائیو اسٹاک کی مرہونِ منت ہے۔ آج کل دنیا میں "سمارٹ فارمنگ" کا دور ہے۔ نیدرلینڈز اور ڈنمارک جیسے ممالک کم جانوروں سے زیادہ دودھ اور گوشت حاصل کرنے کے لیے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ لاگت کم اور منافع زیادہ ہو۔

اسمارٹ فرامنگ کی طرح اسمارٹ ایگریکلچر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جس کی تعریف یہ ہے کہ یہ زراعت کا وہ جدید طریقہ کار ہے جس میں روایتی ہل اور بیل کے بجائے جدید ٹیکنالوجی جیسے انٹرنیٹ، سینسرز، ڈرونز، سیٹلائٹ اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد "کم سے کم وسائل یعنی پانی، کھاد، بیج کے استعمال سے زیادہ سے زیادہ اور بہترین معیار کی پیداوار حاصل کرناہے۔ اسمارٹ ایگری کلچر کے کام کرنے کے طریقے کو ان اہم نکات سے سمجھا جا سکتا ہےعام طور پر کسان اندازے سے پانی یا کھاد دیتا ہے۔ اسمارٹ زراعت میں زمین کے اندر سینسرز لگا دیے جاتے ہیں۔ یہ سینسرز کسان کو موبائل پر بتاتے ہیں کہ مٹی میں نمی کتنی ہے، زمین کو کس خاص کھاد (نائٹروجن، فاسفورس وغیرہ) کی ضرورت ہے مٹی کا درجہ حرارت کیا ہے ڈرون کے ذریعے پوری فصل کا فضائی معائنہ کیا جاتا ہے۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کھیت کے کس حصے میں بیماری لگ رہی ہے یا کہاں پودے کمزور ہیں۔ بجائے پورے کھیت میں مہنگی دوا چھڑکنے کے، صرف اسی حصے پر اسپرے کیا جاتا ہے جہاں ضرورت ہو۔ اسمارٹ ایریگیشن میں ایسے سسٹم ہوتے ہیں جو خود بخود چلتے ہیں۔ مثلاً اسمارٹ اریگیشن جب سینسرز دیکھتے ہیں کہ زمین خشک ہو رہی ہے، تو موٹر خود بخود چل پڑتی ہے اور مطلوبہ نمی پوری ہوتے ہی بند ہو جاتی ہے۔ ڈرپ اریگیشن پانی ضائع کیے بغیر قطرہ قطرہ پودے کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسان کو پہلے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ کب بارش ہونے والی ہے یا کب شدید گرمی پڑے گی، تاکہ وہ اپنی کٹائی یا بوائی کا وقت اسی حساب سے طے کر سکے۔

جس کا سب سے بڑا فائد ہ یہ ہوتا ہے کہ کھاد، پانی اور کیڑے مار ادویات کا غیر ضروری استعمال ختم ہو جاتا ہے جس سے کسان کے پیسے بچتے ہیں۔ پودوں کو ان کی ضرورت کے مطابق خوراک ملتی ہے جس سے فصل کی مقدار اور کوالٹی بڑھ جاتی ہے دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کیمیکلز کےکم استعمال سے زمین اور زیرِ زمین پانی کو زہریلا ہونے سے بچاتا ہےجس سے ماحولیاتی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ کسان کو خود کھیت میں جا کر ہر پودے کو دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے، وہ موبائل ایپ کے ذریعے نگرانی کر سکتا ہے۔ اگر سادہ الفاظ میں کہا جائے تو اسمارٹ ایگری کلچر زراعت کو ایک "سائنس" بنا دیتا ہے جہاں ہر قدم حقیقت اور ڈیٹا پر مبنی ہوتا ہے۔ سندھ میں اسمارٹ ایگریکلچر کے نفاذ کے حوالے سے کوئی ایک حتمی سرکاری عدد موجود نہیں ہےکیونکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے۔ تاہم حالیہ رپورٹس (2025-2026) اور زرعی ماہرین کے تخمینوں کے مطابق اس کی صورتحال کچھ یوں ہے۔ پاکستان بھر میں مجموعی طور پر اسمارٹ ایگریکلچر کے مختلف اجزاء کا اوسط نفاذ تقریباً 10 سے 18 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ سندھ میں یہ شرح ابھی 5 سے 8 فیصد تک محدود سمجھی جاتی ہے۔

اگرچہ سندھ اور مجموعی طور پر پاکستان میں اسمارٹ ایگری کلچر ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن کچھ مخصوص علاقوں اور منصوبوں میں اس کا عملی آغاز ہو چکا ہے۔ سندھ میں اس وقت ان علاقوں اور سیکٹرز میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھا جا رہا ہے جیسے زیریں سندھ کے علاقے ٹھٹھہ، سجاول اور بدین وغیرہ ان علاقوں میں ساحلی پٹی ہونے کی وجہ سے زمین میں نمکیات کا مسئلہ زیادہ ہے۔ یہاں کچھ نجی فارمز اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ڈرپ اریگیشن کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے اور زمین کی صحت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔

میرپورخاص اور حیدرآباد آم اور کیلے کے باغات ہیں یہ علاقے سندھ کے باغات کا مرکز ہیں۔ یہاں کئی ترقی پسند زمینداروں نے اسمارٹ سینسرز نصب کیے ہیں جو مٹی میں نمی اور درجہ حرارت کی پیمائش کرتے ہیں۔ یہاں کچھ فارمز پر ایسی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے جو پھلوں کے سائز اور رنگت کو اسمارٹ کیمروں کے ذریعے چیک کرتی ہے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پیکنگ کی جا سکے۔ سانگھڑ جو کپاس کی پیداوار کے لیے مشہور ہے وہاں اب ڈرون ٹیکنالوجی کا تجرباتی استعمال شروع ہو چکا ہے۔ ڈرون اسپرےکپاس کی فصل پر کیڑے مار ادویات کے اسپرے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے وقت کی بچت اور ادویات کے بہتر نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

تھر کے صحرائی علاقوں میں جہاں پانی کی شدید قلت ہے، وہاں سولر پاورڈ اسمارٹ فارمنگ کے چھوٹے منصوبے لگائے گئے ہیں۔ یہاں "گرین ہاؤسز" کے اندر درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے اسمارٹ آلات استعمال ہو رہے ہیں تاکہ صحرائی گرمی میں بھی سبزیاں اگائی جا سکیں۔ کراچی کے مضافاتی علاقوں جیسے ملیر اور گڈاپ میں ہائیڈروپونکس یعنی مٹی کے بغیر پانی میں پودے اگانے کی ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے۔ یہاں کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے پودوں کو خوراک اور پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں "اسمارٹ ایگری کلچر" سندھ کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ وہاں حکومت نے کئی "اسمارٹ آئی لینڈز" بنائے ہیں جہاں کسانوں کو ڈیجیٹل آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ یہاں پھلوں کی مانیٹرنگ کے لیے موبائل ایپس اور ڈیجیٹل مارکیٹ کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

اسمارٹ ایگری کلچر کی اہمیت کے پیش نظر سندھ کے وزیرِاعلیٰ سید مراد علی شاہ نے محکمہ زراعت کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے زور دیا کہ صوبے میں فصلوں کے پیٹرن کو بتدریج اس طرح تبدیل کیا جائےتا کہ وہ موسمیاتی حالات، پانی کی دستیابی اور منڈی کی طلب سے مطابقت رکھ سکیں۔ کیونکہ روایتی طریقۂ کاشت پانی کی قلت، مٹی کی خرابی اور بدلتے موسمی حالات کے باعث تیزی سے غیر پائیدار ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے چھوٹے کاشت کاروں کے لیے قرضوں کے طریقہ کار کو آسان بنایا جارہا ہے، اجلاس میں سبسڈی اور امداد کی تقسیم کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیرِاعلیٰ نے زراعت کو سندھ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کو جدید، تحقیق پر مبنی اور مالی شمولیت کے اصولوں کے مطابق ترقی دینا وقت کی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کسان دیہی معیشت کی بنیاد ہیں۔ ہمیں انہیں بروقت قرضوں، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی رہنمائی کے ذریعے مدد فراہم کرنا ہوگی تاکہ وہ پیداوار میں اضافہ کریں اور زیادہ قدر والی فصلوں کی جانب منتقل ہو سکیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی یہ بات قابل ستائش ہے کہ وہ صوبے میں بےتحاشہ آبادی اور اس کے نتیجے میں روزگار اور خوراک کے آئندہ آنے والے مسائل کو ابھی سےحل کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں کیونکہ روزگار، خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمیہ داری ہے۔

اس وقت سندھ حکومت تحقیقی اداروں اور جامعات کے درمیان تعاون بڑھانے پر زو ر دے رہی ہے اس حوالے سے سندھ یونیورسٹی ٹنڈو جام اسمارٹ ٹیکنالوجی پر تحقیق کر رہا ہے اور کسانوں کو تربیت دے رہا ہے۔ اسی طرح اینگرو کمپنی یہ کمپنیاں کسانوں کو ایسی ایپس فراہم کر رہی ہیں جن سے وہ اپنی زمین کا تجزیہ کر سکتے ہیں تاکہ نئے بیج کی اقسام متعارف کرائی جا سکیں، مٹی کی صحت بہتر بنائی جا سکے اور اسمارٹ زراعت کو فروغ دیا جا سکے۔ کیونکہ زرعی ترقی تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ بیج سے لے کر مٹی اور پانی کے انتظام تک ہر مرحلے میں سائنس کی رہنمائی ضروری ہے۔ تحقیقی ادارے کسانوں کے ساتھ براہ راست کام کررہی ہیں اور انہیں قابلِ عمل حل فراہم کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے نام سے سندھ حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت 2028 تک 4,500 کسانوں کو براہ راست اسمارٹ ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی۔ اسی طرح چھوٹے کسانوں کو بیج اور کھاد کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار سے مالی معاونت دی جا رہی ہے تاکہ وہ ٹیکنالوجی کی طرف مائل ہوں۔ سندھ کے کچے اور بنجر علاقوں میں کارپوریٹ کمپنیوں کو زمینیں دی گئی ہیں جہاں 100 فیصد اسمارٹ ایگریکلچر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی مجموعی زراعت اور صوبہ سندھ کی زراعت کا موازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سندھ کو پاکستان کی زراعت میں ایک "فوڈ باسکٹ" کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا موازنہ مختلف پہلوؤں سے کیا گیا ہے مثلاً مجموعی طور پر ملک میں مختلف موسمی زونز ہیں پنجاب کا میدانی علاقہ، کے پی کے کے پہاڑ اور بلوچستان کا خشک ریگستان یہاں گندم اور چاول سب سے بڑی فصلیں ہیں۔ جبکہ سندھ کا موسم زیادہ گرم اور خشک ہے۔ یہاں کی زمین دریائے سندھ کی لائی ہوئی مٹی کی وجہ سے انتہائی زرخیز ہے، جو خاص طور پر نقدی فصلوں (Cash Crops) کے لیے بہترین ہے۔ مثال کے طور پر سندھ کی کپاس کا ریشہ زیادہ بہتر معیار کا مانا جاتا ہے، سندھ میں گنے کی چینی بننے کی شرح پنجاب سے زیادہ ہے، سندھ کا سنھڑی آم خوشبو اور ذائقے میں عالمی سطح پر نمبر ون ہے اسی طرح سندھ کا شہر کنری ایشیا کی سب سے بڑی مرچوں کی منڈی ہے۔

دیکھا جائے تو سندھ کا نہری نظام دنیا کے بڑے نظاموں میں سے ایک ہے۔ سندھ مکمل طور پر دریائے سندھ اور اس کے تین بڑے بیراجوں مثلاً سکھر، گڈو، کوٹری پر انحصار کرتا ہے۔ سیم و تھور سندھ کو پنجاب کے مقابلے میں سیم و تھور اور زمین کے بنجر ہونے کا زیادہ سامنا ہے، کیونکہ یہ دریا کے آخر (Tail) پر واقع ہے اور یہاں زیرِ زمین پانی اکثر نمکین ہے۔ سندھ کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو باقی پاکستان میں اس پیمانے پر نہیں ہوتیں مثلاً پاکستان کی کل پیداوار کا تقریباً 80% سے 90% کیلا اکیلے سندھ کے علاقے خیرپور اور نواب شاہ میں پیدا ہوتا ہے۔ خیرپور کی کھجوریں عالمی معیار کی ہیں اور بڑی تعداد میں برآمد کی جاتی ہیں۔ اگرچہ پنجاب کو "پاکستان کا اناج گھر" کہا جاتا ہے، لیکن سندھ کوالٹی اور تنوع یعنی مختلف اقسام کے لحاظ سے زراعت کا مرکز ہے۔ اگر سندھ میں جدید آبپاشی (Drip Irrigation) اپنائی جائے، تو یہ صوبہ اکیلا پورے ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حالات میں روایتی فصلوں کے پیٹرن اب قابلِ عمل نہیں رہے، اس لیے انہیں تبدیل کرنا ہوگا۔ سندھ کو ایسے زرعی پیٹرن اپنانا ہوں گے جو پانی کی بچت کریں، بہتر پیداوار دیں اور منافع بخش ہوں۔ کسانوں کو قدیم طریقوں سے نکل کر موسمیاتی لحاظ سے لچکدار اور منڈی سے ہم آہنگ فصلوں کی طرف جانا ہوگا۔ اس حوالے سے سندھ بینک کی ٹیم نے کسانوں، خاص طور پر مالی مشکلات کا شکار چھوٹے کاشتکاروں کو مناسب شرح پر قرضوں کی فراہمی کے منصوبے پر کام کررہی ہے۔ قرضوں کے طریقۂ کار کو آسان بنایا جارہا ہے اور ایسے دیہی علاقوں تک سہولت بڑھائی جارہی ہے جہاں کسانوں کی رسائی کم ہے۔

حقیقت یہ ہےکہ مالی رسائی چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنانے کی کنجی ہےاس لحاظ سےہر کسان کو بیج، کھاد اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے بروقت اور منصفانہ قرض ملنا چاہیے۔ سندھ حکومت کسانوں کی بہتری اور ایک مضبوط زرعی معیشت کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ مقصد واضح ہےکہ ایک خوشحال، جدید زرعی شعبہ جو کسانوں کو سہارا دے، غذائی تحفظ کو مضبوط کرے اور دیہی ترقی کو آگے بڑھائے۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب سب اسٹیک ہولڈرز مل کرسندھ کی زراعت کو مستقبل کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Check Also

Pakistanio, Aankhen Kab Kholo Ge

By Shahid Nasim Chaudhry