Sunday, 07 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Shumali Ilaqa Jaat: Sair Kijye, Khud Ko Aziyat Na Dein

Shumali Ilaqa Jaat: Sair Kijye, Khud Ko Aziyat Na Dein

شمالی علاقہ جات: سیر کیجیے، خود کو اذیت نہ دیں

دو سال قبل جون کے آغاز میں ہم اپنی بائیکس پر شمالی علاقہ جات کی سیر کو نکلے۔ ناران، کاغان، جھیل سیف الملوک اور بابوسر ٹاپ جیسے سحر انگیز مقامات گھومے۔ بائیکس کی وجہ سے آمد و رفت میں کچھ سہولت تو رہی، لیکن وہاں سیاحوں کا بے پناہ رش تھا۔ ہوٹلوں میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور بہت سے خاندان چھت کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے تھے۔ جو کچھ کمرے خالی تھے، ان کے کرائے عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھے۔

دریا کے کنارے لوہے کے عارضی کنٹینرز کھڑے تھے، جن کے ارد گرد گندگی تھی اور ان کا ایک رات کا کرایہ بھی آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ مجبوری میں کئی خاندانوں نے رات گزارنے کے لیے انہیں بھی کرائے پر لیا۔ میلے کچیلے بستر اور دس پندرہ کنٹینرز کے لیے ٹین کی چھتوں والے محض دو تین واش رومز دریا کنارے بنے ہوئے تھے۔ انسانوں کے اس سیلاب کی وجہ سے ہوٹلوں کے کرائے اور کھانے پینے کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی تھیں، ہر طرف گاڑیوں کے ہجوم سے گھنٹوں ٹریفک جام ہونا معمول بن چکا تھا۔ یکدم امڈ آنے والے اس رش کی وجہ سے سارا نظام درہم برہم تھا۔

​پاکستان کے شمالی علاقے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہیں۔ ناران، کاغان، سوات، کمراٹ، وادیٔ نیلم، مری، ہنزہ اور اسکردو جیسے مقامات اپنے دلکش مناظر کی وجہ سے لاکھوں دلوں کو لبھاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک عجیب رجحان پیدا ہو چکا ہے۔ جیسے ہی عید کی تعطیلات کا اعلان ہوتا ہے، پورا ملک گویا ایک ہی وقت میں ایک ہی سمت روانہ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو راستے قدرتی حسن تک پہنچنے کے لیے بنائے گئے تھے، وہ طویل پارکنگ کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں، جہاں گاڑیوں کے انجن گرم اور مسافروں کے اعصاب شل ہو جاتے ہیں۔

​عید کے دنوں میں لوگ فطرت سے لطف اندوز ہونے جاتے ہیں، لیکن ان کا زیادہ تر وقت ہوٹل کی تلاش، پارکنگ کی تگ و دو یا کھانے کے لیے جگہ حاصل کرنے کی جدوجہد میں گزر جاتا ہے۔ ہوٹلوں میں اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ کھانے کی ایک میز حاصل کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف بن جاتا ہے اور ایک کپ چائے کے لیے بھی طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ عید کے ان چند دنوں میں کاروباری عناصر پورے سال کی کسر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک کمرہ جو عام دنوں میں پانچ ہزار کا ہوتا ہے، وہ پندرہ سے بیس ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء مہنگی اور ان کا معیار ناقص ہو جاتا ہے، یوں سیاح اپنی جیب بھی خالی کرتے ہیں اور دل کا سکون بھی کھو بیٹھتے ہیں۔

​اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سیاحت اور ہجوم میں فرق کرنا بھول گئے ہیں۔ سیاحت کا اصل مقصد تو کسی خاموش وادی میں بیٹھ کر پہاڑوں کو دیکھنا، دریا کے گیت سننا، ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنا اور اپنے تھکے ہوئے ذہن کو تازگی بخشنا ہے، لیکن جہاں ہر طرف گاڑیوں کے کان پھاڑتے ہارن، شور شرابا اور دھکم پیل ہو، وہاں فطرت کا حسن بھی اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو عید کے فوراً بعد کے بجائے ایک دو ہفتے بعد سفر کا منصوبہ بنائیے۔ چند دنوں کا یہ انتظار آپ کو گھنٹوں کی ذہنی اذیت، ہزاروں روپے کے اضافی اخراجات اور بے شمار پریشانیوں سے بچا سکتا ہے۔ ​

Check Also

Arastu: Fikr, Fitrat Aur Falsafay Ki Darvesh

By Asif Masood