Sunday, 07 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Asatza Qaum Ke Muammar Hain, Bhikari Nahi

Asatza Qaum Ke Muammar Hain, Bhikari Nahi

اساتذہ قوم کے معمار ہیں، بھکاری نہیں

قوموں کی تعمیر و ترقی، سائنسی ایجادات، معاشی استحکام اور سماجی خوشحالی کا براہِ راست تعلق اس کے تعلیمی نظام اور اساتذہ کی قدر و منزلت سے ہوتا ہے، لیکن جب کسی صوبے کا اعلیٰ ترین تعلیمی عہدیدار ہی استاد کی بنیادی معاشی حیثیت کا مذاق اڑانے لگے تو قوم کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کا آؤٹ سورس کیے گئے اسکولوں کے اساتذہ کے حوالے سے یہ بیان کہ "15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے اساتذہ لاکھ روپے تنخواہ والے اساتذہ سے بہتر پڑھاتے اور رزلٹ دیتے ہیں"۔ اساتذہ کی عزتِ نفس اور معاشی انصاف پر گہرا وار ہے۔

​موجودہ دور کی کمر توڑ مہنگائی میں پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کی بات کرنا جو کہ ملک کی مقرر کردہ کم از کم قانونی اجرت سے بھی بہت کم ہے، ایک قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔ وزیرِ تعلیم کا یہ کہنا کہ اتنی کم تنخواہ پانے والے اساتذہ زیادہ بہتر پڑھاتے ہیں، دراصل نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے کیے جانے والے بدترین معاشی استحصال کو حکومتی تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ کیا حکومت خود اپنے وزراء، بیوروکریٹس یا سیکرٹریز کے لیے یہ فارمولا لاگو کرنے کو تیار ہے کہ "کم تنخواہ میں کام زیادہ بہتر ہوتا ہے"؟ یقیناً نہیں۔ کارکردگی کا تعلق بھوک اور کسمپرسی سے نہیں بلکہ معقول مراعات اور ذہنی اطمینان سے ہوتا ہے۔

​تدریس کوئی مشینی کام نہیں، یہ ایک اعلیٰ درجے کا ذہنی اور تخلیقی عمل ہے۔ شدید معاشی فکر اور ڈپریشن میں مبتلا استاد کبھی بھی کلاس روم میں پرسکون ہو کر طلبہ کی ذہنی نشوونما نہیں کر سکتا۔ پندرہ ہزار روپے کی بات کرکے حقیقت میں استاد کو قوم کا معمار نہیں بلکہ شاید "بھکاری" سمجھا گیا ہے۔ وزیرِ تعلیم جن ممالک میں تعلیمی کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں، کاش وہاں کے نظامِ تعلیم کا مطالعہ بھی کرتے۔ اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اساتذہ کو معاشی طور پر مستحکم کرکے ریاست کے اعلیٰ ترین طبقات کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔

​لگسمبرگ میں ایک نوآموز استاد کی ابتدائی سالانہ تنخواہ تقریباً 99,600 ڈالرز سے شروع ہو کر 137,400 ڈالرز تک جاتی ہے اور ان کا معاشرتی مرتبہ ججوں کے مساوی ہے۔ جرمنی میں اساتذہ کی تنخواہ 90,500 سے 122,200 ڈالرز سالانہ ہے۔ سابق چانسلر اینجلا مرکل نے ڈاکٹروں کے احتجاج پر تاریخی جواب دیا تھا کہ "میں ان اساتذہ کی تنخواہ آپ کے برابر کیسے کر دوں جنہوں نے آپ کو ڈاکٹر اور انجینئر بنایا ہے؟" سوئٹزرلینڈ میں بھی بہترین ذہنوں کو فلٹریشن کے بعد 90,400 ڈالرز کی ابتدائی تنخواہ پر رکھا جاتا ہے۔

​آسٹریا، ناروے اور اسپین میں اساتذہ کو سول سرونٹس کا درجہ حاصل ہے، تنخواہیں 61,000 سے 126,000 ڈالرز سالانہ کے درمیان ہیں اور تعلیمی پالیسیوں میں ان کی رائے کو بیوروکریسی پر فوقیت حاصل ہے۔ ​ڈنمارک اور نیدرلینڈز میں اساتذہ کو مکمل اکیڈمک آزادی اور جدید تحقیق کے لیے خطیر فنڈز دیے جاتے ہیں، جہاں تنخواہیں 121,000 ڈالرز سالانہ تک پہنچتی ہیں۔۔ آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا میں اساتذہ کی تنخواہیں ٹاپ فنانشل مینیجرز کے برابر ہیں تاکہ بہترین ٹیلنٹ اس شعبے میں آئے۔ کینیڈا کارپوریٹ سیکٹر سے بہتر ہیلتھ اور پینشن پلانز دیتا ہے تاکہ اساتذہ مستقبل سے بے فکر رہیں۔ فن لینڈ میں صرف ٹاپ 10 فیصد ماسٹرز ڈگری ہولڈرز استاد بن سکتے ہیں جنہیں معاشرے میں غیر معمولی احترام حاصل ہے۔ سنگاپور کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم اساتذہ کو اتنا دیتے ہیں کہ انہیں اپنے کچن کی فکر نہ رہے اور وہ صرف ملک کا مستقبل تیار کر سکیں۔

​جنوبی کوریا اور جاپان کی ثقافت میں استاد کا رتبہ والدین کے برابر ہے اور پارلیمنٹ و عدالتوں میں ان کے لیے خصوصی نشستیں ہوتی ہیں۔ ​اس کے برعکس جس 15,000 پاکستانی روپے ماہانہ تنخواہ کی بات ہمارے وزیرِ تعلیم کر رہے ہیں، وہ موجودہ شرحِ مبادلہ کے مطابق محض 54 امریکی ڈالر ماہانہ اور تقریباً 646 ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی معیار تو دور، یہ رقم ایک انسان کی بنیادی بقا کے لیے بھی ناکافی ہے۔

​جب حکومت یا معاشرہ اساتذہ کو ان کی محنت کا صلہ چند ہزار روپے کی شکل میں دے گا تو ملک کا کوئی بھی قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تدریس کے شعبے کا رخ نہیں کرے گا اور جو اساتذہ واقعی قابل ہیں، وہ بیرونِ ملک ہجرت (Brain Drain) کر جائیں گے۔ وزیرِ تعلیم کا یہ بیان اس مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے جو تعلیم کو ایک مقدس فریضہ تو مانتا ہے، لیکن استاد کو ایک انسان تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ​اگر پنجاب اور پاکستان میں تعلیم کا معیار واقعی بلند کرنا ہے تو اس کا راستہ اساتذہ کا معاشی استحصال نہیں، بلکہ انہیں عزتِ نفس، معقول تنخواہیں اور ذہنی سکون فراہم کرنا ہے۔

Check Also

Awami Action Committee, Hartal Aur Mumkina Hal

By Syed Mehdi Bukhari