Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Abaid Ullah Khamees/
  4. Hazrat Imam Hussain (1)

Hazrat Imam Hussain (1)

نواسہ رسول اللہ ﷺ، نوجوانان جنت کے سردار، حق و سچ کے علمبردار، امام الانبیاء ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک جناب سیدنا حضرت امام حسینؑ حضرت محمد ﷺ کے نواسے اور شیر خُدا سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰٰ عنہ اور سیدالنساء فاطمتہ زہرا کے بیٹے اور سردار سیدنا حسنؑ کے لاڈلے اور چھوٹے بھائی تھے۔ آپ اسلامی کیلنڈر کے چوتھے سال یعنی 4 ہجری شعبان کے مہینے مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔

آپ کی ولادت با سعادت کی خبر سن کر سرکار دو عالم امام الانبیاء جناب محمد رسول اللہ ﷺ حضرت علیؓ کے گھر تشریف لائے اور آپ کے کان میں آزان دی (مستدرک حاکم)۔ آپ کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور آپ کے لیے دعا فرمائی۔ آپ ﷺ نے ساتویں دن آپ کا نام حسینؑ رکھا۔ عقیقہ کیا اور سر کے بال منڈوا کر اس وزن کے برابر چاندی صدقہ کی۔ ابو عبداللہ آپ کی کُنیت ہے۔

حضرت حسنین کریمینؑ نے بچپن کے تقریباً سات سال امام الانبیاء سید المرسلین ﷺ کی شفقت اور محبت میں گزارے۔ آپ دنیا کے خوش قسمت ترین بچے تھے، جنہیں نبوت والے کندھوں پر سواری کرنے کا موقع ملا نبی محترم ﷺ کو آپ سے بہت لگاؤ تھا۔ پیغمبر اکرم ﷺ سے محدثین نے حضرت حسنؑ و حسینؑ کے بارے بہت زیادہ احادیث بیان کی ہیں۔ محمد ﷺ کا ارشاد ہے کہ حسینؑ مجھ سے ہیں اور میں حسینؑ سے ہوں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو حسینؑ سے پیار کرتا ہے وہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔ اور جو حسینؑ سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ حسنین کریمین سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ جب تک ہم اِن سے محبت نہ کریں، ہمارا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے، کہ حسنؑ اور حسینؑ یہ دونوں میرے پھول ہیں۔ ایک صحابی رسول کا بیان ہے کہ ایک دن امام الانبیاء نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین کریمینؑ آپ کی پشت پر سوار ہو گئے کسی نے روکنا چاہا تو حضور پاک ﷺ نے اشارہ سے منع کر دیا۔

سرور کائنات نے ارشاد فرمایا ہے "الحسن والحسین سیداشباب اہل الجنة"حسنؑ اور حسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اگر کسی نے جنتی دیکھنا ہے تو حسینؑ کو دیکھ لے۔ حضرت امام حسینؑ نہایت عبادت گزار اور عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے۔ آپ کی سخاوت لاثانی تھی۔ آپ کے کمال اخلاق کے مالِک تھے۔ آپ کے دروازے پر حاجت مندوں کا تانتا بندھا رہتا، کوئی سائل آپ کے در سے محروم نہ جاتا۔

آپؑ کا فرمان تھا کہ جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمہارے سامنے سوال کے ليے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمہارے ہاتھ بیچ ڈالی، اب تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو، کم سے کم اپنی ہی عزتِ نفس کا خیال کرو۔ آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔ آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوتا تھا۔

آپ کو تلاش کرنے والوں نے ہمیشہ آپ کو علمی مجالس میں ہی پایا۔ مذہبی مسائل میں مشکل پیش آنے پر آپ کا رُخ کیا جاتا تھا۔ امام حسینؑ سے کی ہر ادا سے نبی کریم ﷺ کی تربیت اور محبت نمایاں نظر آتی۔ آپ کے مناقب اور محاسن لا تعداد ہیں۔ آپ ہمیشہ سے ظالم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں ڈٹ جاتے۔ آپ کی اخلاقی جراَت، راست بازی اور راست کرداری، قوتِ اقدام، جوش عمل اور ثبات و استقلال، صبر و برداشت کی تصویریں معرکہ کربلا میں محفوظ ہیں۔

ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا، کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا، اس سے ایک انچ نہ ہٹے۔ انہوں نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں اپنی جماعت کی اس طرح قیادت کی کہ جس کی اپنے وقت میں اطاعت بھی بے مثل تھی اور قیادت بھی لا جواب۔ جو تا قیامت دنیا کے غیور انسانوں کے لئے مشعل راہ بن گئی۔

جب کبھی ضمیر کے سودے کی بات ہو

ڈٹ جاؤ تم حسینؑ کے انکار کی طرح

(جاری ہے)

Check Also

Paise Bachane Ka Asan Tareen Tariqa

By Zafar Bashir Warraich