Thursday, 23 April 2026
  1.  Home
  2. Saadia Bashir
  3. Inbox, Naay Sandooq, Aik Naya Rawaiya

Inbox, Naay Sandooq, Aik Naya Rawaiya

ان باکس، نیا صندوق، ایک نیا رویہ

ان باکس محض ایک لفظ نہیں رہا۔ یہ عہدِ حاضر کا ایک استعارہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا صندوق، جس میں باتیں رکھی بھی جاتی ہیں اور اکثر چھپائی بھی جاتی ہیں۔ صندوق ہمیشہ سے امانت، اعتماد اور پردہ پوشی کی علامت رہا ہے۔ یادوں کا صندوق تو ایسا ہوتا ہے، جسے نہ دھوپ درکار ہوتی ہے نہ ہوا۔ وہ وقت کی نمی میں بھی اپنی مہک برقرار رکھتا ہے، کبھی ہر گھر میں ایک مضبوط سا صندوق ہوا کرتا تھا۔ لکڑی یا لوہے کا۔ جس کے اندر ایک خاموش دنیا آباد ہوتی تھی، اس میں کپڑے بھی ہوتے، زیور بھی اور کچھ ان کہی باتیں بھی۔

موسم بدلتا تو اسے کھولا جاتا۔ دھوپ دکھائی جاتی، تاکہ نمی اور زنگ اس کے وقار کو متاثر نہ کر سکیں، مگر اب جو صندوق "ان باکس" کے نام پر ہمارے ہاتھوں میں ہے، اس کی فطرت یکسر مختلف ہے، یہ بیک وقت کھلا بھی ہے اور بند بھی۔ یہ چھپاتا بھی ہے اور کبھی ظاہر بھی کر دیتا ہے۔ آج کل اشتہارات کی بہتات ہے۔ ہر سمت خرید و فروخت کا شور ہے۔ جائیداد، خدمات، اشیا۔ سب کچھ دستیاب ہے، مگر شفافیت ناپید۔ ہر اعلان کے آخر میں ایک جملہ ابھرتا ہے۔ جیسے کوئی خفیہ دروازہ ہو۔ "ان باکس میں آئیے"۔

یہ جملہ اب سہولت سے زیادہ ابہام کی علامت بن چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں معاملات عام نہیں رہتے۔ بلکہ شخصی ہو جاتے ہیں، اگر چیز سب کیلئے ہے تو قیمت چھپانے کا مقصد کیا ہے؟ اگر معاملہ صاف ہے تو گفتگو خفیہ کیوں؟ ایک عام فروخت کنندہ بھی اپنی چیز کھلے عام پیش کرتا ہے۔ قیمت سب کیلئے یکساں ہوتی ہے۔ لہجہ بھی ایک سا۔ وہ ہر خریدار کو الگ بلا کر مختلف نرخ نہیں بتاتا۔

مگر یہاں معاملہ مختلف ہے۔ ہر شخص کیلئے الگ دروازہ۔ الگ بات اور اکثر الگ قیمت۔ یہ طرزِ عمل محض کاروباری حکمت نہیں بلکہ رویوں کی پیچیدگی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ "ان باکس میں آئیے" اب ایک ایسا جملہ بن چکا ہے جس میں دعوت بھی ہے اور پردہ بھی اور بعض اوقات ایک غیر اعلانیہ تقسیم بھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صندوق اب وہ نہیں رہا، جو کبھی رازوں کا امین ہوا کرتا تھا۔ اب تو حال یہ ہے کہ ان باکس میں ہونے والی گفتگو اکثر وہیں نہیں رہتی۔ ذرا سی بات۔ ایک معمولی سا جملہ اور اس کا اسکرین شاٹ پھر وہی بات محفلوں، گروپس اور سوشل دنیا میں گردش کرتی نظر آتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے صندوق کے ڈھکن پر تالہ تو ہے مگر چابی ہر ہاتھ میں۔ جو کہہ رہی ہے کہ صندوق میں پدھاریے۔ یہ وہ صندوق نہیں رہا جس میں امانت رکھی جائے، یہ اب ایک عارضی ٹھکانہ ہے۔ جہاں سے باتیں سفر پر نکلتی ہیں۔

کبھی کبھی یہی ان باکس انسان کے باطن کی ایک خاموش پناہ گاہ بھی بن جاتا ہے، کچھ لوگ وہ باتیں جو محفل میں نہیں کہہ پاتے، اسی صندوق میں رکھ دیتے ہیں۔ یہاں لہجے نرم ہوتے ہیں۔ لفظ محتاط اور جذبات کسی حد تک بے نقاب، مگر المیہ یہ ہے کہ یہی نرمی اور اعتماد اکثر غلط فہمی یا غلط استعمال کی نذر بھی ہو جاتا ہے۔ ایک سادہ سی بات۔ جسے نجی رہنا تھا۔ جب سیاق سے ہٹ کر سامنے آتی ہے۔ تو نہ صرف تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ لفظوں کی سچائی بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔ یوں ان باکس محض ایک ذریعہ گفتگو نہیں رہتا۔ بلکہ ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ اعتماد کی بھی اور ظرف کی بھی۔

بھاری ہیں صندوق ہمارے
کون ہمیں اس پار اتارے

گڈ مارننگ کے پیغامات۔ دعائیں، پھول، سورج کی کرنیں اور رات کی تاریکی۔ یہ سب اس صندوق میں یوں جمع ہوتے ہیں۔ جیسے کسی رسم کی ادائیگی ہو رہی ہو۔ بعض لوگ تو صرف اسی مقصد کیلئے ان باکس کا در کھٹکھٹاتے ہیں۔ نہ کوئی گہری بات، نہ کوئی مستقل ربط۔ بس ایک رسمی سی دستک۔ "کیسے ہیں آپ؟"اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان باکس کو ایک نرم دروازہ سمجھ کر داخل ہوتے ہیں، مگر گفتگو کا انداز نیم جتانے والا یا دباؤ لیے ہوتا ہے۔ جو تعلق کی سادگی کو متاثر کرتا ہے۔

ہم گویا ہر ایک کے صندوق سرِ عام کھولنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ نہ رازداری۔ نہ شفافیت۔ نہ مکمل تحقیق۔ صرف ادھوری بات اور فوری رائے۔ جیسا رویہ بعض اوقات عوامی شخصیات کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ جو افسوسناک ہے۔ پرانے صندوق امانت کے امین تھے۔ نئے صندوق مفاد، رسم اور بعض اوقات مصلحت کے ترجمان بن گئے ہیں۔ کبھی ان میں یادیں محفوظ ہوتی تھیں۔ اب ان میں رویے تشکیل پاتے ہیں اور بکھر بھی جاتے ہیں سوچیے! اگر بازار میں ہر فروخت کنندہ قیمت بتانے کے بجائے ہر گاہک کو الگ صندوق میں بلائے۔ تو اعتماد کہاں باقی رہے گا؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صندوق کی حرمت کو سمجھیں۔ دھوپ اور دیمک کے فرق کو پہچانیں اور پردہ پوشی اور پردہ کشائی میں تمیز کرنا سیکھیں۔ اشتہارات میں قیمت وہی ہو جو ظاہر ہو اور گفتگو وہی جس پر پردہ ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ورنہ یہ صندوق۔ چاہے جتنے بھی بھرے کیوں نہ ہوں۔ نہ اعتماد بچا سکیں گے۔ نہ کسی کو پار لگا سکیں گے۔ رہے نام اللہ کا۔

Check Also

Hum Sub Rewar Ka Hissa Hain

By Syed Mehdi Bukhari