یہ کھیل پرانا ہے

کافی دیر سے سوچ رہا ہوں کہ تیل کی بڑھتی گرتی قیمتوں پر کیا واقعی لکھنا چائیے جو میں لکھنا چاہ رہا ہوں یا پھر لوگ خوش ہیں تو ہونے دیں۔ رنگ میں بھنگ کیوں ڈالیں۔ کہاوت یاد آئی لوگوں کو بیوقوف بنانا آسان ہے بہ نسبت اس کے انہیں آپ قائل کریں کہ آپ کو بیوقوف بنایا جارہا ہے۔
ابھی تیل کی قیمتیں ہی دیکھ لیں۔ سب کہہ رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں نہیں بڑھیں توپھر ہمارے ہاں کیوں۔ قیمتیں تو امریکہ میں 4 ڈالر تک بڑھ گئی ہیں جو تیل خود پروڈیوس بلکہ ایکسپورٹ کرتا ہے۔
کینڈا میں بھی ریکارڈ تیل کی قیمت بڑھی ہے۔
آپ کو یاد ہو عمران خان نے شاید فروری 2022 میں اعلان کیا تھا کہ قیمت دس روپے فی لٹر کم کی جارہی ہے اور جولائی تک قیمت نہیں بڑھے گی کیونکہ ان کی حکومت جارہی تھی لہذا وہ آئی ایم ایف کی ڈیل توڑ کر جانا چاہتے تھے تاکہ آنے والوں کی چیخیں نکلیں چاہے عوام کا بٹھا بیٹھ جائے۔
اب آپ بتائیں وہ دس روپے فی لٹر رعایت کا فرق جو ڈھائی سو ارب روپے بنتا تھا وہ ائل کمپنیوں کو کس نے دینا تھا۔۔ یہ کبھی کسی نے سوچا ہے وہ ڈھائی سو ارب کہاں سے آنے تھے جو آئل کمپنیوں کو دس روپے فی لٹر کم کرنے کے لیے ادا کیے گئے؟ آئل کمپنیوں نے تو پوری قیمت لینی تھی۔
آج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ وہ ڈھائی سو ارب روپے کا فرق کیسے پورا ہوا تھا جس پر آئی ایم ایف ڈیل سے نکل گیا کہ یہ ملک قوم یا لیڈر نہیں سدھر سکتے۔ یہ لوگ یا حکمران سیریس نہیں ہیں۔ عوام کو اس سے غرض نہیں تھی ڈھائی سو ارب کہاں سے پورا ہونا تھا۔ وہ دراصل ترقیاتی فنڈ پر کٹ لگا کر جو پیسہ ترقیاتی کاموں کے لیے رکھا تھا وہ سب پٹرول پر دے دیا اور ترقیاتی بجٹ کم ہوگیا۔
وہ پیسہ جو پورے ملک میں پراجیکٹس پر لگتا، سڑک، سکول موٹر وے، ہسپتال پر لگتا اور سب لاکھوں مزدور غریب، وینڈرز، سمینٹ، سریا، ڈھابے یا ہوٹل یا کسی کے کاروبار کو جاتا اور وہ کچھ چند ماہ سارا پٹرول ڈیزل سستا کرنے پر گیا اور چند تیل کمپنیاں ارب پتی ہوگئیں۔ لیکن لوگ آج تک عمران خان کی اس فیاضی کو یاد رکھتے ہیں۔
یہی کچھ شہباز شریف کررہے ہیں کہ ترقیاتی فنڈز پر کٹ لگا کر وہ پیسہ پٹرول ڈیزل سستا کرنے پر لگا رہے ہیں۔ طریقہ واردات ایک ہی ہے کہ لوگ اگر ملک بھر میں ترقیاتی کاموں سے ہٹ کر صرف پٹرول ڈیزل پر پھونکنا چاہتے ہیں تو خوش رکھیں عوام کو۔
عوام پٹرول اور ڈیزل کا استمعال کم کرنے کو تیار نہیں اس لیے ابھی رپورٹ کے مطابق صرف مارچ میں تیل کا استعمال بہت بڑھ گیا جب جنگ عروج پر ہے اور ہمیں توانائی اور تیل بچانا ہے۔ ابھی اپنی سڑکیں دیکھ لیں وہ مہنگے تیل کی وجہ سے سنسنان ہیں یا سڑکوں پر ٹریفک جام جیسی صورت حال ہے؟
آئی ایم ایف کا کہنا تھا آپ اپنے لوگوں سے مشکل سے ٹیکس اکٹھا کرکے جو ترقیاتی فنڈ اکٹھا کرتے ہو وہ اچانک اٹھ کر پٹرول سبسڈی پر چند دنوں میں پھونک دیتے ہو۔ عام پاکستانی عوام کو تیل سستا کرکے بیچنے کی چلیں سمجھ آتی ہے لیکن اب دنیا بھر کے ایک سو سے زائد سفارت خانوں کی اسلام آباد لاہور کراچی میں ہزاروں گاڑیوں کو بھی وہی سستا تیل دے رہے ہیں اپنی جیب سے یا قرضہ لے کر؟
اس طرح ملک بھر میں بنکوں کی ہزاروں گاڑیوں، ہاوسنگ سوسائٹیز کی لاکھوں گاڑیوں، بڑے بڑے ارب پتی تاجروں، میڈیا مالکان، کروڑ پتی ٹی وی اینکرز، بہت سارے امیر لوگوں، ہزاروں فیکڑی مالکان تک سب کو ترقیاتی فنڈز سے پیسہ نکال کر پٹرول سستا کرکے دے رہے ہو یہ کہاں کی دانشمندی ہے؟
آئی ایم ایف کہتی تھی ان بڑے بڑے امیر لوگوں سے پوری قیمت اور پورا ٹیکس لو اور پھر ان غریبوں کو ٹارگٹ سبسڈی دو جیسے موٹر بائیکرز یا درمیانہ طبقہ ہے یا کسان یا بہت غریب مزدور ہیں۔
اس وقت سبسڈی دینے کے لیے بنکوں سے اربوں کا سود پر قرضہ لیا جاتا ہے جو چند ماہ بعد اسی عوام نے اپنی جیب سے ہی دینا ہے۔ شہباز شریف یا عمران خان نے جیب سے وہ سبسڈی نہیں دینی۔ وہ سب سبسڈی بنک سے سود پر قرضہ یا پھر ترقیاتی فنڈز پر کٹ سے آئے گی۔
اب یہ حکومت بنکوں سے مزید مہنگے سود پر قرضہ لے گی جو پہلے خطرناک حد کو عبور کر چکا ہے اور بنک بیٹھے بٹھائے اربوں کا سود لے رہے ہیں۔ اس کمرشل قرضہ سے حکومت آئل سستا کرے گی اور پھر بنکوں کو اربوں روپے قرض سود سمیت واپس کرنے کے لیے کچھ عرصہ بعد اسی تیل یا گیس یا بجلی کی قیمت بڑھا دے گی تاکہ اس سبسڈی کا خرچہ پورا کرے۔۔ دینا سب کچھ آپ نے ہی ہے۔۔ پڑول یا ڈیزل پر ابھی دے دیں یا بنکوں کو سود سمیت ادائیگی کے وقت مہنگی بجلی گیس یا موٹر وے پر ٹول ٹیکس بڑھا کر دے دیں۔ یاد رہے پٹرول سستا کرنے کے لیے لیے گئے قرضے پر اربوں روپوں کا بنکوں کو سود بھی دینا ہے۔
میں ذاتی طور پر ڈیزل کی قیمت بہت زیادہ بڑھانے کے خلاف ہوں کہ عوام اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ ڈیزل عوامی ٹرانسپورٹ میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ پٹرول پر سبسڈی کا مطلب ہے آپ ان لاکھوں گاڑیوں کو اپنی جیب سے سستا تیل دے رہے ہیں جو غیر ملکی سفارت خانوں کی ہیں، ہزاروں امیر ہاوسنگ سوسائٹیز، بنکوں یا ارب پتی تاجروں، امیر لوگوں اور فیکٹری مالکان کو بھی دے رہے ہیں۔ غریبوں کو بچاتے بچاتے آپ غیر ملکیوں، ارب پتیوں اور بہت امیروں کو بھی سبسڈی دے رہے ہیں۔
عوام بھی مہربانی کرے اور ان دنوں پٹرول ڈیزل کم سے کم خرچ کرے۔ جنگ خطرناک موڑ پر جارہی ہے۔ لمبی چلنے والی ہے۔
آپ کے ہمسائے انڈیا کی حالت دیکھ لیں وہاں پٹرول پمپس پر کیا دنگل ہورہا ہے۔ ایک آدھ ملک میں تو فوج تک بلا لی گئی ہے۔ پٹرول سستا ضرور کرائیں لیکن اسے کم سے کم استمعال کریں۔ سڑکیں ابھی بھی گاڑیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ کسی سڑک سے لگتا ہے اس ملک میں پٹرول مہنگا ہوا ہے؟
بہرحال وہی بات بیوقوف بنانا آسان کام ہے لہذا حکمران وہی کرتے ہیں کہ دینے پیسے تو اسی عوام نے ہی ہیں، چند دن کے بعد ان کا بازو مروڑ کر لے لیں گے۔۔ ابھی خوش ہو لینے دو۔
جلدی کاہے کو رے۔

