لیہ پولیس گردی کا انصاف کیسے ہوگا؟

اپنے گائوں میں پولیس گردی کی روداد فیس بک اور ٹوئٹر پر لکھی تو کاروائی شروع ہوئی۔ ایک اعلی افسر کا فون آیا جنہوں نے فوراََ متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین کو اپنے پاس بلایا ہے تاکہ قانونی کاروائی کی جائے۔
بتایا گیا ہے اس خاتون کو ڈیوٹی سے واپس لیہ بس اسٹینڈ سے اس کی چھوٹی بچی چھین کر گاڑی میں ڈال کر کروڑ لے جا کر مرضی کے برعکس قید کیا گیا۔ چند ماہ کی بچی ماں سے چھین کر خاوند بھاگ گیا تاکہ بیوی پیچھے آئے۔
اسے کروڑ لے جا کر گھر قید کرکے خاوند نے اپنے بھائی کو پستول دے کر اپنی بیوی کے گائوں (کروڑ سے ہمارا گائوں پچاس کلو میٹر دور ہے) بھیجا تاکہ وہ گھر میں دوسری دو سالہ دوسری بیٹی گن پوائنٹ پر لے آئے جس پر اس کے نانا اور ماموں نے مزاحمت کی اور نہیں لے جانے دی۔
اس دوران خاوند کوٹ سلطان پولیس سے جا ملا۔ انہیں پولیس گاڑی میں اپنے سسرال کے گھر لے آیا کہ میری بیٹی برامد کرکے دیں۔
رات کا وقت تھا۔ نہ پولیس کے پاس عدالت کا آڈر، نہ کوئی مقدمہ نہ لیڈی پولیس۔۔ پنجاب پولیس کے شیر جوان سیدھے خواتین والے گھر میں گھسے اور دو سالہ سوئی ہوئی بیٹی کو پولیس نے پک کیا۔ اس کے نانا اور ماموں کو پکڑا اور انہیں پولیس ڈالے میں ڈالا اور نکل گئے۔
میری اب افسران اعلی سے بات ہوئی ہے کہ پولیس کیسے کسی گھر میں گھس کر سوئی ہوئی ایک دو سالہ بچی کو روتے چلاتے اپنے ساتھ لے جاسکتی ہے، پولیس کیسے کسی گھر گھس سکتی ہے خصوصا اگر ساتھ میں لیڈی پولیس نہیں ہے؟ ہاں اگر عدالت کا حکم ہوتا تو سمجھ آتا ہے کہ بیٹی کو ریکور کرائو۔ دو سالہ بیٹی تو ویسے ہی قانون کے تحت ماں کے پاس رہ سکتی ہے۔
پولیس ہمارے ہاں خود جج جیوری جلاد بن چکی ہے۔ یہ ہمارے گائوں کا واقعہ ہے جو پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور ایک رپیوٹیشن ہے اور یہاں یہ پولیس اہلکار دندناتے ایک گھر میں گھس کر چادر چار دیواری توڑ کر دو سالہ سوئی ہوئی بچی کو بستر سے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔
پولیس کو ون فائیو پر فون آیا تو بھی آپ بچی کی والدہ کو پہلے چیک کریں کہ وہ کدھر ہے (جو خاوند کی قید میں تھی جسے وہ لیہ اڈے سے اغوا کرکے لے گیا تھا) یا پھر اس بچی کے نانا یا ماموں سے پوری بات پوچھیں کہ ان کی بیٹی سات ماہ سے ان کے گھر بیٹھی تھی کیونکہ خاوند نے بیٹیاں پیدا ہونے کے بعد تشدد کرکے نکال دیا تھا اور والدین گھر لے آئے تھے۔
کیا ایک فون کال پر پولیس کسی کے گھر گھس کر دو سالہ سوئی ہوئی بچی کو بستر سے اٹھا کر پولیس وین میں ڈال کر لے جائی گی اور مجکمہ اپنے افسران اور عملے کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرے گا؟
میں نے یہی بات اس افسر اعلی سے کہی کہ جہاں باقی لوگوں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے وہاں ڈی پی او لیہ کو سب سے پہلے اپنی پولیس فورس کو معطل کرکے پرچہ دینا چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ انصاف کرنا ہے پورا کریں۔
ہمارا دوست مرحوم پولیس افسر دوست سابق آرپی او ڈیرہ غازی خان اور سی سی پی او لاہور۔۔ عمر شیخ یہی کہتا تھا کہ پولیس نے عزت کمانی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی فورس کا احتساب کرنا ہوگا کہ اگر وہ غلط کرتے ہیں پھر ہی عوام اعتماد کرے گی۔ یہ نہیں ہوگا کہ عوام غلط کرے تو مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لو اور اگر پولیس فورس کرے تو وارننگ دے کر چھوڑ دو کہ ان کا مورال ڈائون ہوگا۔ انہیں بھی وہی سزا دیں جو عوام کو ملتی ہے۔
امید ہے ڈی پی او لیہ صاحب پورا انصاف کریں گے۔ یہ بہت بڑا واقعہ ہے کہ رات گئے گھر میں گھس کر دو سالہ سوئی بچی کو بستر سے روتے چلاتے پولیس اٹھا کر لے گئی۔۔ ساتھ میں اس کے نانا اور ماموں کو بھی۔
ایسی بھی کیا قیامت آگئی تھی جو گھر میں گھس کر اس سوئی بچی کو بستر سے اٹھا کر روتے چلاتے پولیس وین میں ڈال کر ہی ٹالی جاسکتی تھی؟ کوٹ سلطان پولیس پر اس کروڑ کے ملزم نے پچاس کلو میٹر دور سے آکر ایسا بھی کیا سامری جادوگر والا جادو کر دیا تھا؟

