کس سے فریاد کریں؟

ایک قریبی دوست، جو اب امریکی شہری ہے۔ پاکستان آیا ہوا تھا۔ چند دن پہلے کی بات ہے۔ اسلام آباد کا رہائشی ہے۔ اس وقت کا واقعہ ہے، جب ایران اور امریکا کے مذاکرات کا پہلا دور ہو رہا تھا۔ اتفاق سے، اسے لاہور آنا پڑا تمام بسیں وغیرہ بند تھیں۔ مشورہ دیا، کہ بتایا جاتا ہے کہ ریلوے کا نظام کافی بہتر کیا گیا ہے، ایسے کرو کہ پنڈی سے لاہور ٹرین پر آجاؤ۔ یہ مشورہ دیتے وقت، فراموش کر چکا تھا کہ بذات خود، ٹرین میں دس بارہ برس سے سفر نہیں کیا۔ اسلام آباد جانا ہو، تو بس یا اپنی گاڑی استعمال کرتا ہوں۔ خیر، میرے اس دوست نے ایک ٹرین کا بزنس کلاس کا ٹکٹ لینے کی کوشش کی۔ اسے بتایا گیا کہ ٹکٹ اکانومی کا لے لیجیے۔ ٹرین میں سوار ہو جایئے۔ پھر اندر ہی سے نیا ٹکٹ بنوا لیجیے۔ ایسے ہی ہوا۔ مگر حیرانگی اس وقت ہوئی۔
جب سفر کے دوران عملے نے بتایا کہ بزنس کلاس کے ٹکٹ خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں، کچھ پیسے دیجیے اور آرام سے سفر فرمایئے۔ نئے ٹکٹ بنوانے پر آپ کو زیادہ پیسے دینے پڑیں گے۔ لہٰذا بچت کیجیے، تھوڑے سے پیسوں میں سفر ہو جائے گا۔ عرض کرتا چلوں، کہ میرا یہ دوست، بہت پڑھا لکھا انسان ہے، واشنگٹن کا شہری ہے اور امریکی انتظامیہ کے کافی قریبی حلقے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے رشوت دینے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ چالیس پچاس برس سے امریکا رہنے کے بعد، اب اسے پاکستانی معاشرہ کی خرابیوں سے واقفیت نہیں رہی تھی۔ ضابطے کے مطابق پیسے دے کر ٹکٹ خرید لیا۔ مگرقطعاً اندازہ نہیں تھا کہ لاہور کا سفر، کتنا تکلیف دہ ہوگا۔ سب سے پہلے تو ٹرین وقت پر نہیں چل پائی۔ چلیے، کوئی بات نہیں، ہم پاکستانی اور ہمارے محکمے، وقت کی پابندی کے سنہرے اصول سے اوپر کی مخلوق ہیں۔ وہ ٹرین کے اس ڈبے میں تھا جس کی تمام کھڑکیاں بند تھیں۔
چونکہ وہاں اے سی لگا ہوا تھا۔ ذرا آپ، ریلوے حکام کی نااہلی دیکھئے کہ بزنس کلاس میں اسے سی، آن نہیں کیا گیا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد ڈبہ، گرمی سے جہنم کا نمونہ بن گیا۔ عملہ سے شکایت کرنے کی بے سود کوشش کی، کچھ بھی نہ ہو سکا۔ تقریباً پینتالیس منٹ تک اے سی آن نہیں کیا گیا۔ ٹرین پنڈی اسٹیشن پر کھڑی رہی۔ گرمی سے بے چارہ بے حال ہوگیا۔ ٹرین روانہ ہوئی۔ اب ہوتا یہ تھا کہ کبھی اے سی صحیح چلتا تھا اور کبھی خود بخود طویل مدت کے لیے بند ہو جاتا تھا یا کر دیا جاتا تھا۔ اب ذرا، بزنس کلاس کی نشستوں کی طرف آیئے۔ سیٹیں حد درجہ پرانی، شکستہ اور خستہ حال تھیں۔ وہ کمر درد کا مریض ہے۔ بتانے لگا کہ ایسے لگ رہا تھا کہ ایک چوبی تختہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ سات گھنٹے یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ جب لاہور پہنچا تو اسے پورا ایک دن لگا کہ نارمل ہو سکے۔ شدید گرمی سے بے حال ہو چکا تھا۔ کمر کا درد بھی شدت پکڑ چکا تھا۔
ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا۔ جہاں اس کا باقاعدہ علاج ہوا۔ یہ ایک چھوٹے سے سفر کی بات ہے۔ ہم جیسے لوگ، روزانہ متعدد بار، سرکاری اداروں اور محکموں کے ہاتھوں رسوا ہوتے ہیں۔ بلکہ اب تو عادت سی ہو چکی ہے۔ اگر ہمارے ملک میں کوئی معاملہ قانون کے حساب سے طے ہو جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ بہرحال، آپ کو ایک غیر ملکی شخص کا ریلوے کے نظام کے متعلق بیانیہ، بالکل حیران نہیں کرے گا۔ بیرون ممالک میں، ایک نظام ہے جو عوام کو سہولتیں پہنچانے پر معمور ہے۔ اس تہذیب یافتہ رویہ کے بالکل الٹ، ہمارے ملک میں ایک نظام ہے۔ جس کی بنیاد عام لوگوں کو اذیت پہنچانے پر رکھی گی ہے۔ ہم نے سر جھکا کر، اپنے آپ سے کی گئی ہر زیادتی کو اپنا مقدر مان لیا ہے۔ ہمیں تو یہ سبق دیا گیا ہے کہ ہر آسائش اور آرام دراصل مرنے کے بعد شروع ہوگا۔ لہٰذا فکر کی کوئی بات نہیں۔
اس نوحہ گری کو تھوڑی دیر کے لیے پس پشت ڈال دیجیے۔ میری فیملی، باہمی تعاون سے روزانہ کھانا تقسیم کرتی ہے۔ ہفتہ والے دن چھٹی ہوتی ہے۔ اس دن یہ کام، میں خود کرتا ہوں۔ گاڑی میں کھانے کے ڈبے رکھ لیتا ہوں۔ پھر جہاں کوئی ضرورت مند نظر آئے۔ اسے ڈبہ، بڑے احترام سے پیش کر دیتا ہوں۔ پچھلے ہفتے، حسب معمول یہ کام سرانجام دے رہا تھا تو ایک نوجوان نظر آیا۔ یہی کوئی پچیس تیس برس کا ہوگا۔ رک کر پوچھا کہ آپ کھانا لینا پسند کریں گے۔ تو اس نے آنکھوں کو جھپک کر اشارہ دیا کہ ہاں۔ مگر جب ڈبہ اس کے حوالے کیا۔ تو ہاتھ آگے نہیں بڑھایا۔ ساتھ ایک لڑکا کھڑا ہوا تھا۔ بتانے لگا کہ اس نوجوان کو فالج ہوا ہے۔ ہاتھ آگے کرنے سے قاصر ہے۔
اپنی اہلیہ کا انتظار کر رہا ہے۔ جو کہ گھر میں نوکرانی ہے۔ اس کے جانے کا وقت ہے۔ اپنی بیوی کے لیے آیا ہوا ہے۔ ڈرائیور کو کہا کہ اس نوجوان کو میرے غریب خانے کا ایڈریس دے دو۔ اسے کہو کہ اس کے علاج کروانے میں مدد کروں گا۔ خیر واپس آ گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ بیمار شخص اپنی اہلیہ کے ساتھ، میرے پاس آیا۔ بیوی کی گود میں ایک چار پانچ ماہ کا بچہ تھا۔ جو کہ حد درجہ خراب حال میں تھا۔ ایسے لگتا تھا، بیمار ہے۔ زور زور سے رو بھی رہا تھا۔ ماں چپ کروانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ وہ شخص فالج کی بدولت بول نہیں سکتا تھا۔ خاتون نے بتایا کہ پانچ ماہ پہلے، خاوند کو ہائی بلڈ پریشر کا حملہ ہوا۔ ناک سے خون بہنے لگا۔
علاج کے پیسے نہیں تھے۔ لہٰذا اسے دم کے لیے لے جایا گیا۔ مگر حالت بگڑنے لگی۔ بروقت، کسی بھی معقول علاج کے نہ ہونے کی وجہ سے فالج ہوگیا۔ ذرا آگے سنیئے۔ وہ غریب شخص، بازار میں بھٹے فروخت کرتا تھا اور اس کے پاس ایک ریڑھی تھی۔ بیماری کی وجہ سے یہ روزگار بھی ختم ہوگیا۔ بارہ سال کا ایک بیٹا بھی ہے مگر ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔ وہ ریڑھی لے کر بازار گیا۔ مگر آواز نہیں لگا سکتا تھا۔ لہٰذا پورے دن میں ریڑھی پر کچھ بھی فروخت نہیں کر سکا۔ چھ ہزار روپے پر کرایہ کے گھر میں رہتے تھے۔ مالک مکان نے دو چار ہفتے تو رحم کیا۔ پھر کرایہ نہ دینے پر، گھر سے زبردستی باہر نکال دیا۔ جس گاؤں میں، یہ خاندان رہتا ہے۔
وہاں ایک جانوروں کا باڑہ ہے۔ مالک نے حد درجہ ترس کھا کر، انھیں اسی جگہ ایک برآمدہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔ بجلی، پانی یا ٹوائلٹ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یعنی، اس خاندان نے دنیا میں بھی قیامت دیکھ لی۔ ابھی ان کی آزمائش کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم چند دوست، مل کر، اس خاندان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویسے ایک بات ضرور عرض کروں گا۔ اس خاندان کے مصائب دیکھ کر، کئی گھنٹے اپنی اسٹڈی میں بالکل اکیلا اور خاموش بیٹھا رہا۔ اتنا خاموش کہ مجھے، اپنے رونے کی آواز بھی نہیں آئی۔ بہر حال یہ بات سنانے کا ایک مقصد ہے۔ ، انشاء ا للہ اس خاندان کی مالی مشکلات کم کرنے کی مکمل کوشش کر رہا ہوں اور مجھے خدا کے فضل و کرم سے کسی کی مالی معاونت کی ضرورت نہیں۔
صاحبان زیست۔ بالکل عام سے دو سچے واقعات آپ کے سامنے پیش کیے ہیں۔ مگر کیا یہ وہ جھٹکے نہیں ہیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیں۔ ہو سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا۔ کیونکہ بے حسی اتنی بڑھ چکی ہے کہ پورا سماج، مردہ سا معلوم پڑتا ہے۔ چلیے، معاشرے کی بابت کیا بات کروں؟ مجھے یہ فرمائیے کہ ہماری حکومتیں کیا کر رہی ہیں؟ کیا یہ واقعی ملک میں غربت کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں؟ بے کس اور محتاج لوگوں کے لیے ہوا کا ٹھنڈا جھونکا بننے میں مصروف ہیں؟ کیا آپ کو ان کے اندر انسانیت کی کوئی رمق نظر آتی ہے؟ خود جواب دیجیے۔ ہمارا پورا نظام، ادارے اور سرکار، ستر برس سے لوگوں کو تکلیف در تکلیف پہنچانے میں بھرپور طور پر مصروف ہیں۔
ٹی وی پر کبھی نظر پڑے تو ایسے لگتا ہے کہ ملک میں ترقی کا سیلاب آ چکا ہے؟ لوگ شادمان ہیں اور کوئی حل طلب مسئلہ رہا ہی نہیں؟ ہمارے حکمرانوں نے حد درجہ چالاکی سے ملک کو مصنوعی ترقی کی راہ پر گامزن کروا لیا ہے اور ہم برق رفتاری سے سہولتوں کا سفر طے کر رہے ہیں؟ لہٰذا اب بین الاقوامی سطح کے معاملات حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ملکوں کی جنگیں بند کروانے کی زبردست کوشش کرنے میں مصروف کار ہیں۔ بین الاقوامی نشریاتی ادارے ہماری واہ واہ کر رہے ہیں۔
کسی سیاسی تعصب کے بغیر دیکھئے۔ تو معلوم پڑتا ہے کہ ملک میں عام لوگ تو ظلم اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کوئی ادارہ ایسا نہیں جو عام لوگوں میں سہولتیں تقسیم کر رہا ہو۔ غربت عام لوگوں کو زندہ درگور کر چکی ہے۔ اس سے ہمارے حکمران طبقے کو رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا؟ مگر حقیقت تو نظر آ ہی جاتی ہے۔ پر اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ یہاں ایک نیا قانون بننا چاہیے کہ عوام کے مسائل پر بات کرنا، جرم ہے۔ اس کی کم سے کم سزا، عمر قید یا پھانسی ہونی چاہیے۔ شائد اس طرح حالات درست ہو جائیں؟ اور ہاں، اگر کوئی شخص درد دل اور خلوص سے عام لوگوں کی مشکلات کی بابت کچھ بات کرے تو مرنے کے بعد بھی اسے کوڑے مارنے چاہیے!

