Wednesday, 24 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Qadir Khan Yousafzai
  3. Koi Bhi Muahida Mukammal Nahi

Koi Bhi Muahida Mukammal Nahi

کوئی بھی معاہدہ مکمل نہیں

لبنان میں ایک عورت اپنے بچے کو لے کر بھاگ رہی تھی۔ اس کے پاس وقت نہیں تھا کہ وہ یہ سوچے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے میں ہیں۔ اسے صرف یہ معلوم تھا کہ اس کا گھر جل رہا ہے اور اس کے قدموں تلے زمین کانپ رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے اس پوری کہانی کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیونکہ جب طاقتور ممالک جنگ کرتے ہیں اور پھر میز پر بیٹھ کر معاہدے کرتے ہیں، تو تاریخ میں صرف وہ معاہدے درج ہوتے ہیں، جلتے گھروں کا ذکر کہیں نہیں ہوتا۔

اس پورے بحران کا مرکزی سبق یہ ہے کہ جنگیں عموماً اس وقت نہیں رکتیں جب فریقین تھک جاتے ہیں، بلکہ اس وقت رکتی ہیں جب ایک قابل اعتماد تیسرا فریق میز پر آتا ہے۔ وہ تیسرا فریق پاکستان تھا اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ پاکستان کا اس بحران میں داخلہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ اسلام آباد وہ واحد مسلم اکثریتی ایٹمی طاقت ہے جس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ کام کرنے والے تعلقات موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر اعلان کیا کہ پاکستان مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار اور مشرف بہ خدمت ہے۔ لیکن اصل کردار فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ادا کیا۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ آرمی چیف نے نہ صرف دونوں فریقوں کے درمیان فاصلہ کم کیا بلکہ ایران کے اندر موجود مختلف دھڑوں کو بھی سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی اور ایرانی وفود نے باضابطہ مذاکرات سے پہلے شریف اور منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ یعنی پاکستان کی ثالثی میں سویلین اور فوجی دونوں ٹریک بیک وقت چل رہے تھے اور یہی اس ثالثی کی قوت تھی۔

8 اپریل 2026 کو پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ پھر 12 اور 13 اپریل کو اسلام آباد میں وہ ملاقات ہوئی جو 1979 کے بعد پہلی بار امریکا اور ایران کے اعلی سطحی نمائندوں کے درمیان براہ راست تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی مذاکراتی ٹیم ایک ہی میز پر بیٹھے۔ 18 جون 2026 کو صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کیے اور قطر کے ساتھ مل کر پاکستان کو سوئٹزرلینڈ کے بیورگن اسٹاک میں تکنیکی مذاکرات میں شریک ثالث کا درجہ دیا گیا۔ یہ پاکستان کی دہائیوں میں سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے اور وہ عالمی سطح پر امن کا پیامبر بن کر سامنے آیا۔

معاہدے پر دستخط ہونے کے صرف دو دن بعد، 20 جون کو، ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی۔ وجہ اسرائیل کے لبنان میں تازہ فضائی حملے تھے جن میں کم از کم 83 افراد ہلاک ہوئے۔ ایران نے کہا کہ ان حملوں نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر 60 دنوں میں حتمی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا خود آبنائے ہرمز پر ٹول نافذ کرے گا۔ پھر 21 اور 22 جون کی درمیانی رات کو بیورگن اسٹاک میں ایسا ڈرامہ ہوا جسے "انتہائی کشیدگی" قرار دیا۔ امریکی اور ایرانی مذاکراتی ٹیمیں آدھی رات تک بات کرتی رہیں۔ اطلاعات تھیں کہ مذاکرات ٹوٹنے کے قریب ہیں۔ ایران لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بند کروانا چاہتا تھا جبکہ امریکا ایران کے جوہری افژودگی کے مکمل خاتمے پر اصرار کر رہا تھا۔ لیکن 22 جون کی صبح پاکستان اور قطر نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اعلان کیا گیا کہ پہلے دور کی مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوئے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان ایک باضابطہ رابطہ لائن قائم کر دی گئی ہے اور 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے ایک روڈ میپ طے کر لیا گیا ہے۔ اسی ہفتے مزید تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔

یہاں ایک اہم بات یاد رہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 3 جون کو واشنگٹن میں ایک علیحدہ جنگ بندی فریم ورک بھی طے ہوا تھا جس کے مطابق حزب اللہ جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹے گی اور لبنانی فوج سرحدی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے گی۔ تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا کیونکہ اس میں اسرائیل کو بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی اور سکیورٹی مذاکرات کا ایک نیا دور طے ہے۔ یعنی لبنان کا محاذ بھی ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اب ذرا ان فلسطینیوں کی بات کریں جو اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ نظرانداز ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کروائی تھی۔ ابتدائی علامات مثبت تھیں۔ تھوڑی بہت امداد پہنچ رہی تھی، خلیجی ممالک نے تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کے وعدے کیے تھے۔ پھر 28 فروری 2026 آیا اور ایک ہی جھٹکے میں سب کچھ رک گیا۔ اسرائیل نے غزہ کی تمام کراسنگ بند کر دیں، ایندھن ختم ہونے لگا اور ہسپتالوں پر خطرہ منڈلانے لگا۔ یونیسف نے 13 جون 2026 کو کہا کہ غزہ کی صورتحال "انتہائی سنگین" ہے اور لوگ روزمرہ کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اور یہ سب جنگ بندی کے مہینوں بعد کی بات ہے۔ فلسطین کے وزیر خارجہ نے صاف الفاظ میں بتایا کہ ایران کی جنگ نے امریکا کی توجہ غزہ سے ہٹا دی ہے اور اس کا نتیجہ "مزید تکلیف" کی صورت میں نکل رہا ہے۔ ایک ایسی میٹنگ جو مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں حماس کے ساتھ ہونی تھی، جنگ شروع ہونے کے دن منسوخ ہوئی اور دوبارہ کبھی نہیں ہوئی۔

یہاں ایک بات ضرور کہی جانی چاہیے جو تکلیف دہ ہے۔ ایران، حزب اللہ اور "مزاحمت کا محور" دہائیوں سے فلسطین کا نام لیتے رہے۔ انہوں نے فلسطین کو اپنی علاقائی موجودگی، اپنے ہتھیاروں اور اپنی سیاسی بقا کا جواز بنایا۔ اسرائیل کو بین الاقوامی توجہ کے بغیر غزہ میں کارروائیاں تیز کرنے کا موقع مل گیا۔ فلسطین کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوا، اس لیے نہیں کہ دنیا کو پتہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے، بلکہ اس لیے کہ جب بھی کوئی بڑا بحران آیا، فلسطین کو فہرست میں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ یہ سلسلہ 2006 میں بھی تھا، 2014 میں بھی، 2023 میں بھی اور اب 2026 میں بھی۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک فریم ورک ہے، حتمی معاہدہ نہیں۔ بیورگن اسٹاک کی درمیانی رات نے یہ ثابت کر دیا کہ دو بنیادی رکاوٹیں، ایران کا جوہری افژدگی کا مسئلہ اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں، ابھی تک حل نہیں ہوئیں۔ پاکستان اور قطر نے ہرمز میں رابطہ لائن اور 60 روزہ روڈ میپ بنا کر ایک عارضی پل تو تعمیر کر دیا ہے، مگر اس پل کے نیچے سے پانی تیزی سے بہہ رہا ہے۔ جب تک ان سوالوں کا جواب "ہاں " نہ ہو، کوئی بھی معاہدہ مکمل نہیں ہے۔

بشکریہ: 92 نیوز

Check Also

Muntaha Ke Naam

By Shahid Nasim Chaudhry