Wednesday, 24 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Salahiyat Ya Sarmaya? Siasat Ka Asal Imtihan

Salahiyat Ya Sarmaya? Siasat Ka Asal Imtihan

صلاحیت یا سرمایہ؟ سیاست کا اصل امتحان

دنیا کے کامیاب جمہوری نظاموں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہاں کسی شخص کی کامیابی کا انحصار اس کے خاندانی پس منظر یا مالی حیثیت پر نہیں بلکہ اس کی صلاحیت، کردار اور عوامی خدمت پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اعلیٰ ترین سیاسی عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں نیویارک کے میئر کے انتخاب نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ مضبوط جمہوری نظام باصلاحیت لوگوں کو آگے آنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

کسی بھی جمہوری معاشرے کی ترقی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہاں سیاست کو صرف دولت مند طبقے تک محدود نہ رکھا جائے۔ اگر سیاسی میدان میں داخل ہونے کے لیے کروڑوں روپے درکار ہوں تو عام آدمی، خواہ وہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو، قیادت کے مواقع سے محروم رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جن ممالک میں انتخابی اخراجات کو قانون کے ذریعے محدود کیا جاتا ہے اور سیاسی عمل کو شفاف بنایا جاتا ہے، وہاں نئی قیادت ابھر کر سامنے آتی ہے۔

پاکستان میں بھی باصلاحیت نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایسے بے شمار افراد موجود ہیں جو قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی نظام میں ان کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ امیدواروں کے انتخاب میں دولت کے بجائے قابلیت، دیانت داری، عوامی خدمت اور سیاسی شعور کو ترجیح دیں۔

جمہوریت کی اصل روح عوامی شرکت میں ہے۔ جب کارکنوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے، مقامی سطح پر سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو قیادت کے مواقع دیے جائیں تو سیاسی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ سیاسی عمل کو چند خاندانوں یا مخصوص طبقوں تک محدود کرنے کے بجائے ہر شہری کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔

آج پاکستان کو بھی ایسے سیاسی ماحول کی ضرورت ہے جہاں ایک عام گھرانے کا باصلاحیت نوجوان اپنی محنت اور قابلیت کے بل پر آگے بڑھ سکے۔ اگر ہم سیاست کو سرمایہ اور اثر و رسوخ کے بجائے صلاحیت اور خدمت سے جوڑ دیں تو یقیناً ملک میں نئی اور مؤثر قیادت سامنے آسکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کو مضبوط اور عوام کا اعتماد بحال کرسکتا ہے۔

Check Also

Aalmi Adam Ke 100 Azeem Novel

By Asif Masood