Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. State Bank Ke 2 Safhat Se Muratab Hua Muashi Zaicha

State Bank Ke 2 Safhat Se Muratab Hua Muashi Zaicha

سٹیٹ بنک کے دو صفحات سے مرتب ہوا "معاشی زائچہ"

سنسنی خیز توجیہات سے لوگوں کو خوف میں مبتلا کرنے کی مجھے عادت نہیں۔ "صحافت" کے نام پر جو بھی لکھ اوربول سکتا ہوں اسے مگر سنگین سے سنگین تر ہوتے معاشی بحرانوں سے غافل رکھنے کے لئے استعمال بھی نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ شیئرز اور لائیکس حاصل کرنے کے لئے اس بحث میں اگرچہ آپ کو الجھایا جاسکتا ہے کہ اینکر سے عوامی سیاست دان بننے کے خواہاں ایک صاحب نے حال ہی میں لاہور ائرپورٹ پر ایف آئی اے کے ایک ملازم کے ساتھ جو تکرار کی وہ درست تھی یا نہیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی صحافیوں کے مابین گروہی تقسیم کا ذ کر چھیڑتے ہوئے بھی اپنا گریبان چاک کرتے ہوئے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹائی جاسکتی ہے۔ قارئین کوتلخ حقائق سے بے خبر رکھنا تاہم میرے ضمیر کو گوارہ نہیں۔

عمر تمام صحافت کی نذر کردینے کی بدولت جمع ہوئے تجربے کی بنیاد پر یہ اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ پیر کے روز کی سب سے اہم خبر وہ دو صفحات تھے جن کے ذریعے کے ذریعے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں سے لئے قرض میں شرح سود بڑھانے کے جواز فراہم کئے ہیں۔ معاشی اصطلاحات سے بوجھل بنائے مذکورہ صفحات میں درحقیقت پاکستان کی معیشت کے ٹھوس حقائق کا تقریباََ دیانتداری سے ذکر کرتے ہوئے آنے والے مہینوں کا نقشہ دکھادیا گیا ہے۔ شرح سود میں اضافے کو واجب ٹھہرانے والے دلائل ہمیں مزید مہنگائی اور بے روزگاری کے لئے تیار کرنے کی ر یاستی کوشش ہیں۔ شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک عوام کی "ذہن سازی" میں مصروف عقل کل اینکر خواتین وحضرات نے مگر ان پر کماحقہ توجہ ہی نہ دی۔

بینکوں سے کاروبار کی خاطر لئے قرض کی شرح سود میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہوئے صفحات معاشی امور کے بارے میں مجھ جیسے نابلد شخص کو بھی یہ سمجھاتے سنائی دئے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ نے ہمارے ہاں ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں کو ناقابل برداشت بنادیا ہے۔ خلیجی ممالک سے تیل کے علاوہ گیس بھی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی کامل بندش کی وجہ سے ہم جیسے ممالک تک پہنچ نہیں پارہی۔ چند مہینوں بعد کھاد کا بحران بھی نمودار ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے توانائی کے مذکورہ وسائل و ذرائع کی گرانی انہیں بتدریج نایاب بنارہی ہے۔ پٹرول اور گیس کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ مہنگائی کی ایک اور شدید لہر کے لئے لہٰذا ذہنی طورپر تیار ہوجائیں۔

لوگوں کی آمدنی میں اضافہ افراطِ زر سے بچائویقینی بناتا ہے۔ آمدنی میں اضافے کے لئے لیکن نئی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ اس کے لئے بینکوں سے قرض کی ضرورت ہے اور بینک انہیں نسبتاََ قابل برداشت شرح سود پر فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اپنی آمدنی میں اضافے کی توقع رکھنے کے بجائے نوکریاں بچانے کی فکر کریں۔ اس امر کو بھی ذہنی طورپر تیار ہوجائیں کہ آپ کی محدود آمدنی کا 50سے زیادہ فیصد حصہ بجلی، گیس اور پٹرول کے بل ادا کرنے میں خرچ ہوجائے گا۔ انہیں ادا کرنے کے بعد اپنی اور بچوں کی بہتر خوراک، رہائش اور تعلیم کے لئے درکار رقم سے محروم ہوجائیں گے۔

آنے والے مہینوں کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری شدہ دوصفحات نے جو معاشی "زائچہ" مرتب کیا ہے اسے کئی بار پڑھنے کو مجبور ہوا۔ معاشی مبادیات سے لاعلم ہوتے ہوئے بھی اس سے جو پیغام کشید کیا اسے دیانتداری کے ساتھ آپ کے لئے بیان کردیا ہے۔ اسے بیان کرتے ہوئے منگل کی صبح اداسی کی اذیت برداشت کررہا ہوں۔ یہ سوچتے ہوئے مزید پریشان ہورہا ہوں کہ بدھ کی صبح اسے پڑھتے ہوئے آپ کا دل بھی پریشان ہوجائے گا۔ شاید ابتدائیہ دیکھنے کے بعد آپ کا دل بقیہ کالم نہ پڑھنے کو ترجیح دے۔ موبائل اٹھاکر ٹک ٹاک کے ذریعے اپنے جی کو تسلی دینے کی کوشش کریں۔

آفتوں کے دور میں جی کو تسلی دینے کا ذ کر چلاہے تو اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ گزشتہ کئی دنوں سے یہ سوال ستائے چلے جارہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے پرآشوپ سالوں میں چارلی چپلن جیسا "مسخرہ" عوام میں بے پناہ مقبول کیوں ہوا تھا۔ وہ بھوک اور بے روزگاری سے مفلوک الحال ہوئی زندگی کی بھرپور علامت تھا۔ اس کی پتلون ڈھیلی اور ٹخنوں سے اونچی ہوا کرتی۔ ہمیشہ ایک ہی لباس پہنے دکھائی دیتا۔ نظر بظاہر اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ بھی نہیں تھا اور ماں باپ یا بھائی بہنوں پر مشتمل کنبے کی محبت سے بھی محروم۔ بھوک اور بے روزگاری سے مفلوک الحال افراد کی بھرپور علامت ہوتے ہوئے چارلی چپلن طاقتور افراد کے غضب اور تشدد کا مقابلہ کرنہیں سکتا تھا۔ ان کے غضب سے بچنے کو مگر جو ہتھکنڈے استعمال کرتا اسے "غچہ دینے والی مزاحمت" کہا جاسکتا ہے۔ یہ مزاحمت اسے ہیرو بنانے کے بجائے "مسخرہ" بناکرپیش کرتی۔

وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو مجھ بے ادب کو یہ کہنے کی اجازت بھی عنایت فرمادیں کہ 1857ء میں دلی کی تباہی وبربادی کے بعد ہمارے اسد اللہ خان غالب فارسی اور اردو زبان پرقابل رشک گرفت کے حامل ہونے کے باوجود گھر میں محصور ہوئے دوستوں کو جو خطوط لکھا کرتے تھے وہ بھی آفتوں کو غچہ دینے کی معصومانہ کوششیں تھیں۔ ان کے خطوط پڑھتے ہوئے ہم اکثرمسکرانے کو مجبور ہوجاتے ہیں۔ "داغ" کے دل پرگزرے صدمات کی شدت مگر محسوس نہیں کرپاتے۔

ہماری بدقسمتی کہ سوشل میڈیا کی بدولت ہمیں فیس بک، ٹک ٹاک اور خصوصاََ انسٹا گرام پر ان دنوں چارلی چپلن اور غالب جیسی حسِ مزاح میسر نہیں ہورہی۔ "گفتار کے غازیوں " کی بھرمار ہے۔ وہ مگر اقبال کی طرح روح کو تڑپا اور قلب کو گرمانہیں سکتے۔ میں نے بھی سٹیٹ بینک کے جاری کردہ دو صفحات سرسری ذکرکے ساتھ قلم گھسیٹتے ہوئے آج کی روٹی آج کمانے کی بھونڈی کوشش کرلی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Women University

By Zulfiqar Ahmed Cheema