Monday, 30 March 2026
  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Mujhe Pakistani Hone Par Fakhar Hai

Mujhe Pakistani Hone Par Fakhar Hai

مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے

میرے ایک بہت مہربان دوست نے کچھ روز پہلے کہا، شہباز شریف نے صدرٹرمپ کونوبل امن انعام کے لئے نامزد کرکے اچھا نہیں کیا، اس میں پاکستان کی عزت نہیں بڑھی، اگرنوازشریف وزیر اعظم ہوتے تو وہ ایسے الفاظ کبھی استعمال نہ کرتے۔ میں ان کااحترام کرتا ہوں لہٰذامیں نے ان کی بات کاجواب نہیں دیا مگربعدمیں اس کاتجزیہ ضرورکیا کہ کیا شہبازشریف نے غلطی کی جیساکہ بہت سارے یوتھیے، بھی اسے غلطی کے طورپرپیش کرتے ہیں مگرنجانے کیوں میری چھٹی حس کہتی ہے کہ یہ کلٹ تاریخ کی جس بھی سمت کھڑاہوتاہے، وہ سمت سوفیصدغلط ہی ہوتی ہے۔

کہتے ہیں کبھی یہ صفت، جماعت اسلامی سے منسوب کی جاتی تھی لیکن اب عمران خان نے جوکلٹ تشکیل دیا ہے اس کاجہالت، گمراہی اورملک دشمنی میں کوئی مقابل نہیں ہے، دور دور تک۔ افسوس کامقام یہ ہے کہ یہ جوبیانیہ تشکیل دیتے ہیں بظاہروہ بہت بھلا ہوتا ہے مگر علم اورعقل والے جانتے ہیں کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے جین زی کو چاکلیٹ میں زہر دے دیاجائے۔

میں نے تجزیہ کیا کہ اگر شہبازشریف اورسیدعاصم منیر اپنی ڈپلومیسی سے امریکہ کے خود سر صدر کو رام نہ کرتے، ایسی صورتحال پیدانہ ہوتی کہ ٹرمپ ہرجگہ پاکستان کے وزیراعظم اورفیلڈمارشل کی تعریفیں نہ کررہے ہوتے، بے شک بہادروں اورفاتحین کوہی پسند کرتی ہے سو اگر دس مئی کو معرکہ حق میں ایک نئی تاریخ رقم نہ کی جاتی تو امریکہ کاوزن ماضی کی طرح بھارت کے پلڑے میں ہوتا۔

امریکہ کی مقتدرہ مودی کے دیس کی نام نہادجمہوریت، معیشت اور فوجی طاقت کے گن گا رہی ہوتی تو پاکستان کامنظرنامہ کیا ہوتا۔ یقینی طورپر(خاکم بدہن) اس وقت امریکہ کا جنوبی ایشیا میں بھارت کے ساتھ ایساہی اتحادہوتاجیسااس کامشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ ہے اوراس کا اپنے اتحادی کے ساتھ مل کرجنوبی ایشیاءمیں بھارت کے دشمن کے ساتھ ایسا ہی رویہ ہوتاجیسا اس کا اس وقت اسرائیل کے دشمن کے ساتھ ہے۔ ہم نے اپنے اوپر سے ایک بہت بڑی مصیبت ٹال لی ہے اور اس کا رخ دوسری طرف ہوگیاہے۔

آپ بھی تجزیہ کیجئے، آپ بھی قائل ہوجائیں گے کہ ڈپلومیسی یعنی سفارتکاری ایسی بڑی طاقت ہے کہ جنگ بھی اس کے سامنے پانی بھرتی نظرآتی ہے۔ جنگ ڈپلومیسی کی ناکامی کانام ہے اور جو قوتیں ڈپلومیسی میں ناکام ہوجاتی ہیں انہیں ایران جیسے حالات کاسامناکرناپڑتاہے۔ ہم افغانستان کی طرح ایران کی مزاحمت کوجتنا مرضی گلیمرائز کرتے پھریں مگراس سے بڑی تباہی کیاہوگی کہ آپ کا دشمن پہلے ہی ہلے میں آپ کے سپریم لیڈرسمیت چالیس بڑے رہنمامار دے، بے شک یہ بڑی ناکامی ہے اور امن بڑی کامیابی ہے۔ ہم یہ بات ہندوستان کوآپریشن بنیان مرصوص اور افغانستان کو آپریشن غضب للحق سے پہلے سمجھاتے رہے کہ ڈپلومیسی اورمذاکرات کواہمیت دو۔

ہماری ڈپلومیسی کی کامیابی کی انتہا یہ ہے کہ ہمارادشمن غم، غصے اوراعصابی دباؤ یعنی ڈپریشن سے پاگل ہوچکا ہے۔ اسکا وزیرخارجہ جے شنکرجس کا اڑتیس برس کاانڈین فارن سروس کاکیرئیر ہے، جواپنے ملک کا فارن سیکرٹری ہی نہیں سنگاپور، چین اورامریکہ جیسے ممالک میں سفیر بھی رہ چکا ہے وہ آج پاکستان کی سفارتکاری کو دلالی کہہ رہا ہے۔ ہم اسے بروکری میں ترجمہ کررہے ہیں ورنہ اس نے جو لفظ استعمال کیا ہے اس کا انگریزی ترجمہ پِمپ بنتا ہے جو بہت ہی گھٹیااوربازاری لفظ ہے۔ ہم نے یہ سنا ہے کہ ایک سفارتکارکبھی لفظ نہیں کا استعمال بھی نہیں کرتاکجایہ کہ وہ گالیاں بکنے لگے۔

جے شنکرساری عمر سفارتکاری ہی کرتارہا ہے اور اگر وہ پاکستان کی سفارتکاری کو دلالی سمجھتا ہے تو پھر وہ باپ سے ہی دلال چلا آ رہا ہے کیونکہ اس کا باپ بھی اسی پروفیشن میں تھا۔ پاکستان کی سفارتکاری کو برے لفظوں میں یا دکرنے والوں کو بتانا ہے کہ پاکستان انتہائی نیک نیتی اور تمام ریاستوں کے اعتماد کے ساتھ امن کے لئے کوششیں کررہا ہے، خلیج کے خطے کو جنگ سے بچانا چاہ رہا ہے سو اس سے بڑھ کے بھی کچھ نیک اورمقدس ہوسکتاہے جو پاکستان کی سفارتکاری ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات مسلسل پاکستان کوعزت اورکامیابی عطا کررہی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ خدائے بزر گ وبرتر کی ذات جس قوم اورملک کی فلاح کا ارادہ فرمالیتی ہے اسے ایک اچھی اورشاندارقیادت عطافرمادیتی ہے، وہ قیادت قوم کی عزت، کامیابی اورفلاح کا وسیلہ ہوتی ہے۔

یہ ہماری مشکل ترین اورکامیاب ترین سفارت کاری ہی ہے کہ ہم دنیاکی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہیں مگرہم ایران نہیں ہیں۔ ہمیں اعزازحاصل ہے کہ چین ہمارا سٹرٹیجک بلکہ بہت حدتک دفاعی ساتھی ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات فنٹاسٹک ہیں۔ وزیراعظم پاکستان محمدشہبازشریف ابھی روس کا دورہ کرنے والے تھے کہ جنگ کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا۔ ہم سعودی عرب کے پرانے دوست ہی نہیں اب دفاعی اتحادی بھی ہیں اور دوسری طرف ایران بھی ہم پربے پناہ اعتمادکرتا ہے، اسکی پارلیمنٹ میں ہمارے لئے تشکرتشکرکے نعرے لگتے ہیں۔

ترکیہ اورآذربائیجان سمیت بہت ساری ریاستیں ہماری قیادت کے لئے دوسرے گھرکی طرح ہیں۔ ہم مسلم ممالک کے ایک ایسے غیر اعلانیہ اتحاد کے فعال اوراہم ترین رکن ہیں جوغزہ سے ایران تک اپنا کردارادا کر رہاہے اورامریکہ جیسے ملک کو بھی اپنے فیصلے بدلنے پرمجبور کر رہا ہے۔ آج سعودی عرب، ترکیہ اورمصرکے وزرائے خارجہ جناب اسحاق ڈار کے مہمان بن رہے ہیں اوراسلام آباد دنیااس وقت دنیا کے سب سے بڑے تنازعے کے حل کے لیے ایک تاریخی کردار اداکرنے جا رہاہے۔

میں اس میں پاکستان کی کامیابی کے بارے نوے فیصدپرامید ہوں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اس میں کامیاب نہیں ہوگا وہ دراصل تھڑدلے اور میرے وطن سے جلنے والے لوگ ہیں۔ یہ وہ نامراداورناکام لوگ ہیں جوپہلے ہی اپنی نااہلی، ناکامی اورملک دشمنی کے وبال میں ہیں۔ میں جانتاہوں کہ ان کے وبال میں مزید اضافہ ہوگا، یہ اپنی ہی حسد کی آگ میں جلتے رہیں گے اورپاکستان آگے بڑھتارہے گا۔

Check Also

Mujhe Pakistani Hone Par Fakhar Hai

By Najam Wali Khan