Wednesday, 25 February 2026
  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Khyber Pakhtunkhwa Ki Bad Qismati

Khyber Pakhtunkhwa Ki Bad Qismati

خیبرپختونخوا کی بدقسمتی

یہ خیبرپختونخوا کی بدقسمتی ہے کہ وہاں کی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاراور دہشت گردی کی پشتی بان ہے مگر اس بدقسمتی کے ذمہ دار بھی پنجابی یا سندھی نہیں بلکہ وہ پختون خود ہیں جنہوں نے ایسی پارٹی کو ووٹ دئیے ہیں کہ جب کرک اور کوہاٹ میں سیکورٹی فورسز پر حملے ہو رہے تھے، فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور پولیس کے ڈی ایس پی سمیت سیکورٹی فورسز کے افسران شہید ہو رہے تھے تو اسی صوبے کا وزیراعلیٰ اپنی ہی ملک کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی کا اعلان کر رہا تھا۔ یعنی ایک طرف سے دہشت گردپاکستان کی افواج پر حملہ آور ہو رہے تھے اور دوسری طرف ان کا وزیراعلیٰ۔

اس کی پارٹی کے عقل سے محروم چمچے کڑچھے اس بے ہودہ اعلان پر تالیاں بجا رہے تھے۔ سہیل آفریدی انہیں بتا رہا تھا کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لڑائی میں اس لئے ہے کہ وہ ان کے توشہ خانہ چوری سے لے کر ملک ریاض سے زمینیں لینے تک کے مقدمات میں ملوث ان کے لیڈر کو جیل سے باہر نہیں نکال رہی، ان کی پارٹی کو اسی طرح اقتدار نہیں دے رہی جس طرح 2018ء میں فیض حمید اینڈ کمپنی نے آر ٹی ایس بٹھا کے دیا تھا۔

ان کا پروپیگنڈہ ہے کہ حکمران جماعت کو صرف سترہ نشستیں ملی تھیں اور یہ اسی طرح کابار بار بولا جانے والا جھوٹ جیسا کہ 2013ء کے بعد پینتیس پنکچروں کا بولا گیا اور پھر اسے سیاسی بیان (یعنی جھوٹ) قرار دے دیا گیا۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی عام انتخابات کے بعدنتائج چیلنج کرنے اور ری کائونٹنگ میں پندرہ سے زیادہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی وہ نشستیں ہار چکے ہیں جن پر ان کی جیت کا اعلان ہوا تھا۔

بہرحال موضوع اس وقت خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اورصوبائی حکومت کا رویہ ہے۔ میں نے اسی ماہ کے آغاز میں محسوس کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنا رویہ تبدیل کیا ہے۔ مجھے یاد آیا تھا کہ 16 دسمبر کو انہوں نے سیکورٹی فورسز کے شہیدوں کے ورثا کے فنڈز کو اپنے صوبے میں دو گنا کر دیا تھا، پچاس لاکھ سے بڑھا کے ایک کروڑ۔ انہوں نے 2 فروری کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا آئینی کردارادا کرے گی۔

انہوں نے اس کے بعد صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا تھا اور سیکورٹی کے مشترکا ویژن پر بھی اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کیپٹن عباس شہید کے جنازے میں بھی شرکت کی تھی اور میت کو کندھا بھی دیا تھا۔ وہ اس کے بعد کور ہیڈکوارٹرز میں اس میٹنگ میں بھی شریک ہوئے تھے جس میں وزیر داخلہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جو کہ قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں، شامل تھے۔ تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی یہ بریفنگ خوشگوار رہی تھی اورانہوں نے وہاں لنچ بھی اکٹھے ہی کیا تھا مگر اس کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے انہیں غدار ابن غدارکہنا شروع کر دیا تھا۔

ایک خاتون نے انہیں پی ٹی آئی کی سپیس میں ایسی گندی اور غلیظ گالیاں دی تھیں کہ کوئی مہذب آدمی انہیں سن بھی نہیں سکتا۔ بطور سیاسی تجزیہ کار میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ ان پر علیمہ خان اور مراد سعید کا دباو بھی آیا ہوگا حالانکہ خود علیمہ خان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو9 مئی کے مقدمات سے نکلوانے کے لئے مبینہ طور پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مری میں ملاقات کی۔ یہاں شیر افضل مروت کا الزام حیرت انگیز طو رپر سچ لگتا ہے کہ ان کے بیٹے تو رہا ہو گئے مگر باقیوں کو دو سے دس دس برس کی قیدیں بول گئیں۔

یہ سو فیصد خیبرپختونخوا کے عوام کی بدقسمتی ہے اور پھر کہوں گا کہ ان کے اپنے ہاتھوں سے لائی ہوئی بدقسمتی ہے کہ ان کی حکومت نہ امن و امان کو یقینی بناپا رہی ہے اور نہ ہی نظم ونسق کو چلا پا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ جو کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اس کی مصروفیات پشاور سے زیادہ اڈیالہ کے باہر ہیں۔ اسے پنجاب کی وزیرا طلاعات عظمیٰ بخاری نے بجا طور پر طعنہ دیا ہے کہ وہ رمضان شروع ہونے تک اپنے غریب عوام کے لئے رمضان پیکج کا اعلان تک نہ کر سکے جبکہ پنجاب کی حکومت چالیس ارب روپے کی خطیر رقم سے اپنے صوبے کے غریبوں کو اس ماہ مقدس میں مدد کر رہی ہے۔

مجھے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اس خطاب نے بہت زیادہ چونکایا ہے جس میں وہ اس نازک موقعے پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی کا اعلان کر رہے ہیں جب دہشت گردوں کے حملے بڑھ رہے ہیں۔ آئین اور قانون کی تھوڑی سی سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ امن و امان صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، فوج اور وفاق کی نہیں، یہ دونوں صوبے کی مدد کرسکتے ہیں مگر بنیادی مشینری اور میکانزم صوبے کے پاس ہی ہیں۔ شائد آپ کو عجیب لگے مگر مجھے بطور سیاسی تجزیہ کار یہ کہنے میں عار نہیں کہ سہیل آفریدی کی یہ پالیسی اگرچہ صوبے کے عوام کے لئے تباہ کن ہے مگر وفاق کی حکمران جماعت کے لئے سیاسی طور پر اطمینان بخش ہے کیونکہ اگر وہ محاذ آرائی اور گالی گلوچ کی سیاست میں جاتے ہیں تو ان کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ فاصلے بڑھیں گے۔

مجھے ایک یوتھیا صحافی نے کہا کہ میں لاہور میں سیکورٹی ذرائع کے ساتھ ہونے والی اس میٹنگ کے بعد پریشان تھا کہ کہیں فوج اور پی ٹی آئی کی صلح تو نہیں ہو رہی تو میرا جواب ہے کہ مجھے واقعی اس پر خوشی ہوگی جب پی ٹی آئی کم از کم امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوج کے ساتھ ایک پیج پر آجائے گی کیونکہ پاکستان کی سالمیت اور عوام کی زندگیوں کا تحفظ کسی بھی سیاسی مفاد اور موقف سے بالاتر ہے۔

میں مکمل طور پر حامی ہوں کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی سیاست کریں مگر جہاں بات دہشت گردی کے خاتمے کی ہوجس کا ہمیں سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے تو ہم سب کو ایک پلیٹ فارم پر آجانا چاہئے۔ مجھے اس وقت خوشی ہوئی تھی اور میں نے سراہا تھا جب سہیل آفریدی نے وفاق اور فوج کے ساتھ اپنا رویہ بدلا تھا مگر اس کے بعد لگتا ہے کہ ان کے آقائوں کی طرف سے حکم آ گیا ہے کہ ان کی ترجیح کسی طور پر امن و امان اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہے کیونکہ ان کے آقا ہی ان دہشت گردوں کو واپس پاکستان لائے تھے، انہیں خیبرپختونخوا میں بسایا تھا اور اب وہ ان کی پارٹی ان ملک دشمنوں کی محافظ اور ترجمان بن رہی ہے اوراس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کے جان و مال کی قیمت پر اپنا سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہ دہشت گردی کے خاتمے میں عدم تعاون کرکے ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر دبائو بڑھانا چاہتی ہے۔ سہیل آفریدی نے اپنے اس کردار پر کمپرومائز کر لیا ہے جس کے تحت وہ کے پی میں امن لا سکتے، ایک کامیاب وزیراعلیٰ بن سکتے تھے۔

Check Also

Abadi Tarazu

By Toqeer Bhumla