افغانوں کی مجبوریاں

میں نے ایک بڑی نجی یونیورسٹی کے جرنلزم ڈپیارٹمنٹ کے لئے رپورٹنگ کا سلیبس بناتے ہوئے کاؤنٹر ورشن، کا پورا باب شامل کیا اور سٹوڈنٹس کو بتایا کہ کوئی خبر یا تجزیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک مدعی کے مقابلے میں ملزم اورملزم کے مقابلے میں مدعی کا موقف نہ ہو۔ صحافی فریق نہیں ہوتا مگر ہم افغانستان کے ساتھ جنگ میں فریق ہیں کیونکہ ہم صحافی ہونے سے پہلے پاکستانی ہیں۔
میں نے اس پر باقاعدہ تحقیق کی کہ کیا ہم افغانستان کو ہندوستان کے مقابلے کا پاکستان کا دشمن سمجھ سکتے ہیں تو ریسرچ کے آرگومنٹس نے اس کی حمایت کی جیسے ایک دلیل کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک بھارت کے ساتھ جنگوں میں ہماری فوجیوں کی شہادتوں کی تعداد (ہمارے ریکارڈ کے مطابق) چھ سے ساڑھے چھ ہزار کے درمیان ہے جبکہ دیگر ذرائع اسے دس سے بارہ ہزار کے درمیان بیان کرتے ہیں مگر اس کے مقابلے میں دہشت گردی میں ہونے والی فوجی و نیم فوجی ہلاکتیں، جن کی مجموعی سپانسر شپ اگرچہ بھارت کے پاس رہی مگر اس کا بیس کیمپ افغانستان ہی ہے، بائیس ہزار کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو مجموعی طور پر نقصان پہنچانے میں افغانستان کسی طور بھی ہندوستان سے پیچھے نہیں بلکہ اسے آگے رہا۔
میں بنیادی بات کاونٹر ورشن، کی کر رہا تھا جو صحافت کے علاوہ جنگ کے شعبے میں بھی باقاعدہ طور پر پڑھایا جاتا ہے، جی ہاں، فوجیوں کو باقاعدہ طور پر دشمن کی صلاحیت اور طاقت پڑھائی جاتی ہے تاکہ وہ کسی دھوکے میں نہ رہیں۔ میں نے پچھلے دو سے تین برسوں میں افغان میں موجود طالبان رجیم کو پاکستان کے بارے میں سخت معاندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھا ہے جس کا پچھلے تین سے چار عشروں میں ان کی میزبانی سے لے کر دوحہ معاہدے میں ان کی حکومت کے قیام تک کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے مگر ہمیں ان تمام باتوں کو افغانوں کے نکتہ نظر سے دیکھنا بھی ضروری ہے خاص طور پر یہ مطالبہ کہ افغان طالبان رجیم، تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی اور تعاون چھوڑ دے۔
پاکستان نے یہ مطالبہ ان تمام مذاکرات میں رکھا جو چین، ترکیہ، قطر، سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک اور تنظیموں کی مدد سے اعلانیہ یا غیر اعلانیہ طور پر ہو ئے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک ایسا گروہ جو کہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے افغان طالبان رجیم اسے ڈس اون کرنے سے کیوں انکار کر رہا ہے تواس کا جواب یہ ہے کہ افغانستان میں اس وقت ریاستی نظام بہت کمزور ہے۔
طالبان رجیم کی رٹ آدھے یا آدھے سے کچھ زیادہ افغانستان میں موجود ہے تواس کی بنیاد یہی وار لارڈز ہیں جو طالبان کمانڈرز کے طور پر مختلف علاقوں پر قابض ہیں۔ یہ اس سے بھی بری صورتحال ہے جس کا پاکستان کو بلوچستان میں پچھلے برس تک سامنا تھا جب صوبائی حکومت امن و امان کے لیے لیویز کی محتاج تھی، جی ہاں، وہی لیویز جن کو سردار بناتے اور چلاتے تھے مگر ان کی تنخواہیں ریاست ادا کرتی تھی سو وہ ریاست سے پہلے ان سرداروں کے وفادار ہوتے تھے۔ یہ کریڈٹ موجودہ بلوچ حکومت کو جاتا ہے جس نے لیویز کو بلوچستان پولیس میں ضم کر دیا ہے۔
سمجھنے کے لئے اس مماثلت کو ذہن میں رکھیں اور طالبان رجیم کی مجبوری سمجھیں کہ وہ اگر ان بدمعاش گروہوں کو ختم کر دے تو پھر اس کی اپنی ریاستی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب دونوں مرتبہ افغانستان کے بدمعاش گروہوں جن میں منشیات فروش، سمگلر اور دیگر جرائم سے کمانے والے سرفہرست تھے، انہوں نے طالبان کی حکومت بنتے دیکھ کے اس میں شمولیت اختیار کر لی لہٰذا وہ طالبان کے نظریے کے نہیں مگر چونکہ پختون ہونے کی وجہ سے مذہبی عقائد کے سختی سے پابند ہیں تو ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔
افغانوں کی ریاستی کمزوری کے بعد دوسری کمزوری معاشی نوعیت کی ہے۔ روس کے بعد امریکی حملے نے افغانستان کی معیشت بننے ہی نہیں اور اس کے سماج اور معیشت پروار لارڈز، منشیات فروشوں اور سمگلروں کی حکمرانی ہے۔ ایسے میں انہیں اپنی زندگی اور بدمعاشی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھاری فنڈنگ کی ضرورت ہے جو انہیں اب غیر قانونی ذرائع سے ہی مل سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اس ضرورت کو پوری کرنے کے لئے بھاری فنڈنگ کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانوں نے ٹی ٹی پی سمیت دیگر کے ٹھکانے پاکستانی سرحدوں سے دور لے جانے کے لئے دس ارب روپے مانگے۔
پاکستان یہ رقم دینے کے لئے تیار تھا مگر مسئلہ یہ تھا کہ افغان یہ رقم لے کر بھی کوئی تحریری ضمانت دینے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ٹی ٹی پی، افغانستان کی سرحد سے جڑے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے اضلاع میں سامان کی غیر قانونی نقل و حمل (یعنی سمگلنگ) ہی نہیں بلکہ وہاں بھتہ خوری کے ذریعے کے بھی اپنے لئے بھاری مال جمع کرتی ہے۔ شنید ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے شروع ہوکر آگے تک یہ طالبان تمام سرکاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی دس فیصد بطور جگا ٹیکس وصول کرتے ہیں یعنی دس کروڑ کے منصوبے سے ایک کروڑ ان کا ہوتا ہے ورنہ اس منصوبے پر کام ہی نہیں کرنے دیا جاتا۔ یہ دوسری معاشی مجبوری ہے جو افغان رجیم کو مجبور کرتی ہے کہ وہ پاکستان کی تحریک طالبان کے ساتھ جڑی رہے۔
افغان طالبان کی سیاسی مجبوری یہ بھی ہے کہ ان کے پاس حکمرانی کا کوئی آئینی، قانونی اور جمہوری جواز نہیں ہے۔ وہ افغانستان کے پشتونوں کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ افغانستان کثیر النسلی ملک ہے۔ وہ اپنی طاقت پاکستان کے پشتونوں کے ساتھ مل کر بنانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے مقابلے میں ماضی کا شمالی اتحاد اس وقت نیشنل ریزسسٹنس فورس (این آر ایف) کے نام سے احمد شاہ مسعود کے بیٹے کی سربراہی میں طاقتور ہو رہا ہے سو تیسر ی وجہ ان کی تاریخ، روئیوں اور مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ اپنے عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ پاکستان کا پنجاب کی سرحد یعنی اٹک تک کا علاقہ ان کا ہے۔ یہ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کی مدد فکری مغالطوں اور نظریاتی گمراہیوں کے ذریعے پاکستان کے کچھ سیاسی گروہ بھی کرتے ہیں جن کے محدود مقاصد یہ ہیں کہ وہ پختونوں میں مقبول رہ سکیں مگر اس امر کو بھی ذہن میں رکھیں کہ پاکستان اور افغانستان کے پشتونوں کے سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور پاکستانی پختون ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ ان پر کابل پر قابض افغان طالبان کا قبضہ ہو کیونکہ پاکستان کے پختون پروگریسو ہیں۔
شہروں اور قصبوں میں رہنے والے پختونوں کی بھاری اکثریت اپنی بچیوں کو سکولوں میں بھیجنا چاہتی اور انہیں تعلیم دینا چاہتی ہے جس کے افغان سخت مخالف ہیں۔ وہ عورتوں کو اس حد تک مارنے کے ضابطوں کے بھی حامی نہیں جس میں ہڈی نہ ٹوٹے مگر ایک سویپنگ سٹیٹمنٹ جاری کرتے ہوئے پاکستانی اور افغان پشتونوں کو ایک ہی ظاہر کر دیا جاتا ہے حالانکہ ان میں بہت تبدیلیاں آ چکیں۔

