Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Haroon Ur Rasheed/
  3. Uqaab Aur Gidh

Uqaab Aur Gidh

نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟ اب تو کوئی طوطی بھی نہیں۔ عقاب ہیں اور گدھ ہیں اور کبھی تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ عقاب کون ہے اور گدھ کون؟

قیام پاکستان کا فیصلہ ہو چکا، جب قائد اعظم کے ایک شناسا نے ان سے پوچھا:کیا آپ کو یقین ہے کہ پاکستانی واقعی ایک قوم بن جائیں گے۔ ممکن ہے، اس میں پچاس برس لگ جائیں۔ ظاہر ہے ایک ایسا آدمی جو قدرے بے تکلفی کے ساتھ اس بارعب آدمی سے بات کر سکتا ہو، زائد از ضرورت گفتگو سے جو گریز کرتے تھے۔

"ممکن ہے، اس میں ایک سو برس لگ جائیں " انہوں نے جواب دیا۔ کیا ان کے ذہن رسامیں، امریکی تاریخ کے نشیب و فراز تھے یا دوسری اقوام کے اتار چڑھائو بھی؟

پچھہتر برس بیتنے کو آئے اور ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔ کہا جاتا ہے کہ کپتان نے قومی خودداری کی جو تحریک برپا کی ہے، وہ اسے ایک قوم میں ڈھال سکتی ہے۔ عمران خان کی کامیابی کتنی ہی عظیم اور قابل قدر ہو، جس نے انہیں دیوتا کا سا درجہ عطا کر دیا ہے۔ مگر یہ ایک اطمینان بخش جواب ہرگز نہیں۔ مصطفی کمال چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ باتیں بنانے کے سوا انہوں نے کیا کیا؟

جب تک اسٹیبلشمنٹ کی تائید انہیں حاصل رہی، وہ قرار اور اطمینان میں رہے۔ جیسے ہی اس کی حمایت سے محروم ہوئے، ان کی پارٹی بکھرنے لگی۔ نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کا ذکر کیا کہ ان کے حریف ہیں، جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکن بھی اسی انداز میں سوچتے ہیں، خواہ کھل کر اظہار نہ کریں۔ اتنی سی بات تو جناب سراج الحق کئی بار دہرا چکے ہیں کہ عمران خان اور ان کے حریفوں میں کوئی فرق نہیں۔

برسبیل تذکرہ تین ایسے آدمی جماعت اسلامی کی صفوں سے ابھرے ہیں، جن کے انداز سیاست نے خلق خدا کو چونکا دیا ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد جو ہر اہم قومی معاملے پر کمال جرات سے بات کرتے ہیں۔ گوادر کے مولانا ہدایت اللہ، جو ساحلِ سمندر سے مکینوں کے اجتماعی ضمیر کی آواز بن کے ابھرے ہیں اور ہاں! نعیم الرحمن جو کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ اس محروم شہر کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہچانتے ہیں۔

مگر کیا عمران خان کا انداز غیر جذباتی ہے، ہیجان میں، طوفانی پانیوں میں حل تجویز کرنے کی بجائے حریفوں پر وہ آگ بن کے برستے ہیں۔ آج بھی عثمان بزدار، ان کے سٹیج پر موجود ہوتے ہیں، جو ہماری سیاسی تاریخ کے بدترین کرداروں میں سے ایک ہیں۔ آج بھی حقیقی تحمل اور غور و فکر کی دولت سے وہ محروم ہیں، کسی تاریخ ساز کامیابی کا حصول، جس کے بغیر ناممکن ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے اور اللہ کی آخری کتاب یہ کہتی ہے کہ اظہار صداقت کافی نہیں؟ سچی کامرانی کے لئے تحمل اور تدبر کی ضرورت ہے۔ برقرار رہنے والے صبر کی۔

امکان بہت ہے کہ حکمت عملی میں معمولی سی تبدیلیاں بھی اگر کر سکیں تو انتخابی فتح سے وہ ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ کل نہیں تو پرسوں، پرسوں نہیں تو ترسوں۔ مگر یہ عثمان بزدار، مگر یہ محترمہ فرح گجر، جن کا خاندان بھی ان کے حق میں شہادت دینے پر آمادہ نہیں۔ خان صاحب اس کا دفاع کیوں کرتے ہیں۔

جیت جائیں گے اور جیت کر وہ حکومت بھی بنا لیں گے۔ دھاندلی سے ہرا دیئے گئے تو طوفان اٹھائے رکھیں گے اور آخر کار دوبارہ الیکشن کرانا ہوں گے۔ خواہ وہ اپنے حریفوں کو چاروں شانے چت کر دیں، سوال یہ ہے کہ کیا ملک قرار پا سکے گا۔ مطلوب امن اور سیاسی استحکام حاصل ہو سکے گا، معاشی فروغ جس کے بغیر ممکن نہیں وہ افلاس، جس نے ہمیں دریوزہ گر بنا رکھا ہے۔

ظاہر ہے کہ کشمکش جاری رہے گی۔ بدذوقی پر مبنی بد کلامی پہ مشتمل وہی ہیجان انگیز کشمکش۔ تو پھر اس بحران کا حل کیا ہے؟ طوفانی پانیوں میں لرزتی ہماری کشتی ساحل سے کیونکر ہمکنار ہو سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ کئے جانے والے ایک مکالمے سے، جو کھیل کے کم از کم قواعد طے کر دے۔ تمام فریق خوش دلی اور سختی کے ساتھ جن کی پاسداری کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت مشکل ہے مگر مشکل ہی تو ہے، ناممکن تو نہیں۔

ملّت کو جس کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا وہ قومی لیڈر بن کر ابھر سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ دیانت داری کی شہرت اور خدمت خلق اور تعلیم کے میدان میں خیرہ کن خدمات انجام دینے کے باوجود جماعت اسلامی قومی جماعت نہیں بن سکی۔ آٹھ عشروں کی تگ تاز کے باوجود آج بھی وہیں کھڑی ہے، جہاں 1941ء میں تھی۔

چوہدری غلام محمد، ڈیرہ غازی خان کے ڈاکٹر رفیق اور نعمت اللہ خان ایسے درویش لیڈر اس نے پیدا کئے، جو برق کی طرح افق پر چھا گئے، مگر۔ آخری نتیجہ مگر کیا نکلا؟

خارجی عوامل کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن یہ تو اصل الاصول کی نفی ہو گی۔ یہ کہ تمام کامیابیاں اور سب ناکامیاں دراصل داخلی ہوتی ہیں۔ خود شائستہ اور پاکیزہ اطوار ابوالاعلیٰ نے کہا تھا: زمانہ بڑا بے رحم صراف ہے۔ کھوٹے کو تو کبھی کھرا تسلیم ہی نہیں کرتا، کھرے کو بہت تامل کے بعد کھرا مانتا ہے۔ ایک عام طالب کی سطح پر ہی سہی، اس سوال پہ سیر حاصل بحث کی جا سکتی ہے کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مخمصہ کیا تھا۔ لیکن یہ پھر کبھی اور شاید کچھ دوسرے لوگ زیادہ معنی خیز بات کر سکیں۔

جماعت اسلامی نہیں، موضوع بحث اس وقت عمران خان ہیں۔ جن کی تصاویر لوگ سینے سے لگا کر رکھتے ہیں۔ جن سے ملاقات کے لئے بچے اور بوڑھے، سینکڑوں میل کی مسافت پیدل طے کرتے ہیں۔ شاعر جن کے لئے نظمیں لکھتے اور نثر نگار شاعروں کو مات کرتے ہیں۔ کیا وہ اس ملک کو ایک قوم میں ڈھال سکتے ہیں؟

ان کے جلسے، چند روز کے نوٹس پر برپا ہونے والے جلسے، مخالفین کے مقابلے میں تین سے دس گنا تک بڑے ہوتے ہیں۔ یہ ناچیز ان کے نقطہ نظر کا حامی ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک ان کے خلاف سازش کی گئی۔ یہ بھی کہ جلد ازجلد الیکشن کے سلسلے میں ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائے۔

محترمہ مریم نواز کا حال تو بہت ہی پتلا ہے۔ کسی بھی ایک خطاب میں، وہ چالیس سے پچاس مرتبہ عمران خان کا نام لیتی۔ انہیں نامعقول، خائن اور بیمار ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ خان صاحب کا حال بھی تو کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اپنی غلطیوں پر غور کرنے اور مستقبل کے مستحکم پاکستان کے لئے ایک جامع لائحہ عمل۔ ہر چیلنج مشکل ہوتا ہے لیکن ہر چیلنج کی ایک کلید بھی ہوتی ہے۔ ہر شے کا بدل مل سکتا ہے، سب دامن بھر سکتے ہیں۔

پروردگار عالم نے یہ دنیا پکنک منانے کے لئے نہیں بنائی ہے۔ یہ کرہ خاک کبھی جنت نظیر نہیں ہو سکتا۔ یہ تو مگر ممکن ہے کہ ملک میں امن قائم ہو۔ سوفیصد نہ سہی بڑی حد تک انصاف کا نظام قائم ہو۔ ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس ادا کریں۔ افواج اور افسر شاہی اپنے دائرہ کار میں رہیں۔ پولیس واقعی پولیس ہو اور ایف بی آر لٹیروں کی آماجگاہ نہ رہے۔

خطا معاف، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ عارضی حل کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان سنگین سوالات کا سامنا ہم نہیں کرنا چاہتے، دراصل جو ہمیں درپیش ہیں۔ قوم جن کی بنا پر قوم نہیں بن سکی۔ 1970ء اور 1971میں افق پر بجلیاں چمک رہی تھیں، حتیٰ کہ خون کی ندیاں بہنے لگیں، دو کے سوا کوئی تیسرا آدمی نہ تھا۔ پوری اخلاقی جرأت کے ساتھ جس نے کوئی حل تجویز کیا ہو۔ سستے سگریٹ پینے والے جماعت اسلامی کے بوٹا سے قد کے لیڈر گیلانی اور وہ فوجی آمر ایوب خاں۔ ان دونوں آدمیوں نے کہا تھا:کنفیڈریشن، مشرقی اور مغربی پاکستان کی کنفیڈریشن ملک کو بچا لے گی، خون خرابے سے اور بکھر جانے سے۔

نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟ اب تو کوئی طوطی بھی نہیں۔ عقاب ہیں اور گدھ ہیں اور کبھی تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ عقاب کون ہے اور گدھ کون؟

About Haroon Ur Rasheed

Haroon Ur Rasheed is a well known analyst and columnist. Currently, he is working with 92 News. He has worked for Dunya News, 92 News and Geo.

Check Also

Jugari

By Rehan Asghar Syed