Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Sehat e Madar o Tifl Ka Tahafuz

Sehat e Madar o Tifl Ka Tahafuz

صحتِ مادر و طفل کا تحفظ

صحت عامہ کے باب میں بعض اقدامات محض انتظامی سرگرمیاں نہیں ہوتے بلکہ وہ سماجی شعور کی تشکیل اور انسانی وقار کے تحفظ کی سمت ایک سنجیدہ پیش رفت کا درجہ رکھتے ہیں۔ صنعتی علاقے سائٹ کراچی میں قائم ادارہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال، جو سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے زیرِ انتظام خدمات انجام دے رہا ہے، حالیہ دنوں ایک ایسے ہی فکری و تربیتی اجتماع کا مرکز بنا جہاں ایچ آئی وی کے حوالے سے آگاہی اور پیشہ ورانہ استعداد کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سنجیدہ کاوش کی گئی۔ یہ محض ایک سیمینار نہ تھا بلکہ اس امر کا اعلان تھا کہ صحت کے میدان میں علم، احتیاط اور پیش بندی کو بنیادی ستون بنایا جا رہا ہے۔

ایچ آئی وی کا مسئلہ ہمارے معاشرے میں اب بھی نیم پوشیدہ خوف اور سماجی بدگمانی کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے۔ بسا اوقات معلومات کی کمی، توہمات اور معاشرتی دباؤ اس مرض کو طبی چیلنج سے بڑھا کر سماجی المیہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں کسی صنعتی خطے کے اسپتال میں، جہاں محنت کش طبقہ اپنی روزی روٹی کے لیے سرگرم رہتا ہے، اس موضوع پر علمی نشست کا انعقاد دراصل صحتِ عامہ کی ترجیحات کی درست سمت متعین کرنے کے مترادف ہے۔ اس اقدام سے یہ پیغام واضح ہوا کہ بیماری کو راز نہیں، علم اور احتیاط کے ذریعے قابو کیا جاتا ہے۔

اس تربیتی سیشن کی قیادت میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر غیاث الدین نے سنبھالی، جنہوں نے منصب سنبھالتے ہی پیشہ ورانہ تربیت کو ادارہ جاتی ثقافت کا حصہ بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کی فکر کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اسپتال محض علاج گاہ نہیں بلکہ علم کی آماجگاہ بھی ہونا چاہیے۔ جدید طبی رہنما اصولوں کی روشنی میں خدمات کی فراہمی کا عہد اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے جب ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل عملہ تازہ ترین تحقیق اور عالمی سفارشات سے پوری طرح باخبر ہوں۔ اس تناظر میں ایچ آئی وی جیسے حساس اور پیچیدہ موضوع کا انتخاب بصیرت افروز فیصلہ تھا۔

اجلاس کی علمی جہت کو جلا بخشنے کے لیے معروف ماہرِ صحت پروفیسر فاطمہ میر نے "ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی کی روک تھام" پر مدلل اور جامع گفتگو کی۔ عمودی منتقلی (Vertical Transmission) کا مسئلہ طبی سائنس میں خصوصی توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ یہ نہ صرف ایک مریض بلکہ آئندہ نسل کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ اگر حاملہ خاتون میں بروقت تشخیص نہ ہو، مناسب علاج نہ ملے یا زچگی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو وائرس نوزائیدہ تک منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم جدید اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی اور منظم اسکریننگ پروگرامز کے ذریعے اس خطرے کو نہایت کم سطح تک لایا جا سکتا ہے یہی وہ امید افزا پہلو ہے جس پر سیشن میں تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

قبل از پیدائش اسکریننگ کو صحتِ مادر و طفل کی حکمتِ عملی کا بنیادی جزو قرار دیا گیا۔ عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ اگر ہر حاملہ خاتون کا رضاکارانہ اور باوقار انداز میں ایچ آئی وی ٹیسٹ کیا جائے تو بروقت علاج شروع کرکے عمودی منتقلی کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں طبی رازداری، مشاورت (Counseling) اور نفسیاتی معاونت کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی ادویاتی مداخلت کو۔ پروفیسر فاطمہ میر نے واضح کیا کہ محض دوا دینا کافی نہیں بلکہ مریضہ کو اعتماد، آگاہی اور سماجی تحفظ کا احساس فراہم کرنا بھی معالج کی ذمہ داری ہے۔

زچگی کے محفوظ طریقۂ کار پر بھی خصوصی گفتگو ہوئی۔ یہ امر اب مسلمہ ہے کہ مناسب طبی نگرانی، جراثیم سے پاک ماحول اور ماہر عملے کی موجودگی وائرس کی منتقلی کے امکانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح نوزائیدہ بچوں کی فوری جانچ، احتیاطی ادویات کی فراہمی اور ماں کو درست رہنمائی دینا بعد از پیدائش مرحلے میں نہایت اہم ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو یکجا دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کوئی واحد قدم نہیں بلکہ ایک مربوط اور مسلسل عمل ہے جس میں تشخیص، علاج، رہنمائی اور فالو اَپ سب شامل ہیں۔

اس سیشن کی ایک قابلِ ذکر خصوصیت شعبہ اطفال اور شعبہ امراضِ نسواں و زچگی کے ڈاکٹروں اور متعلقہ عملے کی فعال شرکت تھی۔ سوال و جواب کی نشست نے اس بات کا ثبوت دیا کہ طبی ماہرین اس موضوع کو محض رسمی تقاضے کے طور پر نہیں بلکہ عملی ذمہ داری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ جب معالجین اپنے تجربات، خدشات اور عملی مسائل کھل کر زیرِ بحث لاتے ہیں تو ادارہ جاتی سیکھنے (Institutional Learning) کا عمل مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وہ علمی فضا ہے جو کسی بھی اسپتال کو محض عمارت سے بڑھا کر ایک زندہ، متحرک اور ارتقائی ادارہ بناتی ہے۔

یہ امر بھی لائقِ توجہ ہے کہ سندھ سوشل سیکورٹی کے دائرۂ کار میں آنے والے محنت کش عموماً متوسط یا کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے لیے معیاری اور محفوظ طبی خدمات کی فراہمی نہ صرف فلاحی ذمہ داری بلکہ سماجی انصاف کا تقاضا ہے۔ ایچ آئی وی کے حوالے سے بروقت آگاہی اور مؤثر علاج کی دستیابی اس طبقے کو غیر ضروری مالی اور نفسیاتی بوجھ سے بچا سکتی ہے۔ اگر ادارے کی سطح پر اس نوعیت کی تربیت کا تسلسل برقرار رہے تو نہ صرف بیماری کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ اسپتال پر عوامی اعتماد بھی مستحکم ہوگا۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر غیاث الدین کے اس اعلان کو کہ اسپتال میں جدید طبی رہنما اصولوں کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی، محض رسمی بیان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کے پیچھے ایک وسیع تر تصور کارفرما ہے: شواہد پر مبنی طب (Evidence-Based Medicine) کو ادارہ جاتی پالیسی کا حصہ بنانا۔ جب اسپتال اپنی خدمات کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرتا ہے تو وہ علاقائی سطح پر معیارِ صحت بلند کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس عمل میں مسلسل تربیت، ڈیٹا کا تجزیہ اور نتائج کی نگرانی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ایچ آئی وی کے خلاف جنگ صرف دوا سے نہیں جیتی جا سکتی، اس کے لیے سماجی رویّوں میں تبدیلی، امتیازی سلوک کے خاتمے اور آگاہی کی ترویج ناگزیر ہے۔ اسپتال جیسے ادارے اگر علمی نشستوں کے ذریعے اپنے عملے کو حساس اور باخبر بنائیں تو مریضوں کے ساتھ برتاؤ میں بھی مثبت تبدیلی آتی ہے۔ مریض کو عزت اور رازداری ملے تو وہ علاج کے عمل میں زیادہ اعتماد کے ساتھ شریک ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر صحت کے نتائج پر پڑتا ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ سائٹ کراچی کے اس اسپتال میں منعقدہ یہ تربیتی نشست ایک علامتی پیش رفت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ اس سوچ کی نمائندگی کرتی ہے کہ صحت کا شعبہ جامد نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے اور بہتر ہونے کا عمل ہے۔ اگر ایسے پروگرامز تسلسل کے ساتھ جاری رہیں، تو نہ صرف ایچ آئی وی کی عمودی منتقلی کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ مجموعی طور پر ماں اور بچے کی صحت کے اشاریے بھی بہتر ہوں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر صحتِ عامہ کو محض علاج سے آگے بڑھا کر تحفظ، وقار اور آگاہی کے جامع تصور میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

Check Also

Epstein Files Ke Aftershocks Aur Islam Ka Tasawar e Takmeel

By Amir Mohammad Kalwar