18 Saal Shadi Bill, 73 Ke Muttafiqa Aeen Par Waar
18سال شادی بل، 73 کےمتفقہ آئین پروار

گزشتہ روز منگل کے دن پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی محترمہ شرمیلا فاروقی صاحبہ نے قومی اسمبلی کے فلور پر پوائنٹ آف آرڈر پر آ کرکہا کہ یہاں ہم نے اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی کے حوالے سے ایک قانون بنایا، لیکن ایوان ہی کے ایک محترم اور معزز رکن نے (نام لیے بغیر)اس قانون کی کھلم کھلا مخالفت کی اور یہ کہا کہ ہم ایسے قانون کو نہیں مانتے، جو کرنا ہے کر لو۔ محترمہ شرمیلا فاروقی صاحبہ نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا قانون نہ ماننے کی کوئی سزا نہیں ہے کیا کوئی اس طرح ایوان کے بنائے ہوئے قانون کو للکار سکتا ہے اور اگر کوئی ایسا کرے توکیا اس کے لیے کوئی سزا مقرر نہیں ہونی چاہیے۔
اسی روز شام کے وقت مولانا فضل الرحمان نےپنڈی میں اپنی جماعت جمعیت علماء اسلام کشمیر کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس معاملے پر اپنا دوٹوک مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ جس کام، جس قول، جس حکم یا جس قانون میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو، اس کی اطاعت نہیں کرنی۔ انہوں نے قرآنِ مجید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن ہمیں ماں باپ کی عزت اور احترام کا حکم دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، لیکن اگر وہ عقیدے کے معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف بات کریں تو وہاں ان کی پیروی نہیں کی جا سکتی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں بھی یہی پیغام دیتا ہوں انہیں کہ اگر تم قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کرو گے تو میں پھر کہتا ہوں کہ میں اس قانون کو نہیں مانوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب نے جس آئین کا حلف اٹھایا ہے، اس آئین میں جو کچھ لکھاگیا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ اس نوعیت کی قانون سازی غلط ہے اور جب قانون سازی ہی غلط ہو تو میں اس کی پیروی کیوں کروں ان کا کہنا تھا کہ ہم قرآن و سنت اور ان کی بالادستی کے لیے جیل جانا تو بہت معمولی بات سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ پھانسی بھی ہمارے نزدیک کوئی بڑی سزا نہیں اور اگر اس سے آگے بھی کوئی سزا ہو تو ان شاء اللہ ہم اسے بھی خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کریں گے۔ انہوں نے عام مسلمانوں کو بھی دعوت دی کہ وہ ایسے قوانین کی پیروی نہ کریں، بلکہ اس قانون کی پیروی کریں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ جتنی تمہاری برائی ہوگی، اسی کے حجم کے مطابق ردِعمل آئے گا، لہٰذا ہمارے ردِعمل پر نہیں بلکہ اپنے عمل پر بحث کیا کریں۔
اب اگر موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کے آئین کی طرف ایک سنجیدہ نظر ڈالی جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آئین اس حوالے سے کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 1 کے مطابق ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ آرٹیکل 2 کے مطابق اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہوگا۔ آرٹیکل 2 اے کے تحت قراردادِ مقاصد کو آئین کا اہم ترین حصہ بنایا گیا ہے اور یہی قراردادِ مقاصد آئین کے دیباچے میں شامل ہے، جس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے۔ اسی قرارداد میں یہ بھی درج ہے کہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق، جس طرح قرآن و سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں۔
آئین کے آرٹیکل 227 میں یہ بات تحریر ہے کہ تمام قوانین کو قرآن و سنت کے منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو ان احکام کے منافی ہو۔ جبکہ آرٹیکل 228 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے قیام کی بات کی گئی ہے، جس کا بنیادی کام یہی ہے کہ موجودہ قوانین میں تبدیلی لا کر انہیں اسلامی سانچے میں ڈھالا جائے۔ یہ تمام تفصیلات ہمارے آئین کا باقاعدہ حصہ ہیں اور کسی بھی اختلافِ رائے سے بالاتر ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے اس ایشو پر ملک بھر میں شدید بحث و مباحثہ جاری ہے اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر یہ معاملہ غیر معمولی طور پر ہائی لائٹ ہو چکا ہے۔ ہر طرف سے لوگ اس پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک سینئر صحافی ابو سفیان فاروقی نے اس حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں مولانا فضل الرحمان کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے، ان کے دعوے میں صداقت بھی ہے اور مضبوط دلائل بھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان ان سیاستدانوں میں سے ہیں جو 1980ء سے لے کر آج تک تقریباً 45 برسوں پر محیط سیاسی سفر میں ہمیشہ آئین کے ساتھ اور پارلیمان کے ساتھ کھڑے رہے۔ مسلح جدوجہد کےخلاف آوازاٹھائی جس کی وجہ سےان پرمتعددخودکش حملےبھی ہوئے انہوں نے قیدوبندکی صعوبتیں اور اذیتیں بھی برداشت کیں، لیکن آئین اور پارلیمان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔ ایسے سنجیدہ اور تجربہ کار سیاستدان عام طور پر قوانین کی خلاف ورزی کے قائل نہیں ہوتے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ چونکہ یہ قانون بنیادی طور پر غلط بنایا گیا ہے، لہٰذا اس پر عمل درآمد لازم نہیں آتا، کیونکہ جب آئین کی خلاف ورزی کی جائے گی تو اس قانون کو عملی جامہ کیسے پہنایا جا سکتا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ اور قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ یہی محترمہ شرمیلا فاروقی صاحبہ چند دن قبل نادر علی کے ایک براڈکاسٹ میں شریک ہوئیں، جہاں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کو کون سا سیاستدان سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے تو جواب میں انہوں نے مولانا فضل الرحمان کا نام لیا اور کہا کہ ان کی داڑھی، پگڑی اور رعب دار شخصیت انہیں واقعی پورے ملک میں صحیح معنوں میں ایک سیاستدان بناتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اچانک ایسی کون سی تبدیلی آ گئی اور وہ بھی ایسے موقع پر، جبکہ یہ آئین خود ان کی پارٹی کے بانی اور سربراہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے تشکیل دیا تھا اور اسی آئین میں وہ تمام شقیں موجود ہیں جن کا حوالہ مولانا فضل الرحمان اپنے استدلال میں دیتے ہیں گویا اس صورتِ حال میں محترمہ بالواسطہ طور پر اپنی ہی قیادت اور اپنے ہی آئین پر سوالات اٹھاتی نظر آتی ہیں، جس پر سنجیدگی سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔
اعتدال کی راہ یہی ہے کہ سب سے پہلے آئین پر عمل درآمد کو ناگزیر سمجھا جائے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ جب آئین میں واضح طور پر اسلام کے خلاف قانون سازی سے منع کیا گیا ہے اور موجودہ قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی ہدایت موجود ہے، تو پھر آئین کا تقاضا یہی ہے کہ اسی روح کے مطابق قانون سازی کی جائے۔ ایوان سے ایسا کوئی بل منظور نہ کیا جائے جو اسلام اور آئینِ پاکستان سے متصادم ہو۔ اگر اس کے برعکس قوانین پاس کیے جاتے رہے اور ان کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو یہ صورتحال ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ اربابِ اختیار، مقتدر حلقے اور سینئر سیاستدان مل بیٹھ کر اس حساس معاملے کو سنجیدگی، تدبر اور آئینی شعور کے ساتھ حل کریں۔ اگر ہمارا آئین ہے، ہمارا ملک ہے، تو پھر ہم ہیں اور اگر ہم نے آئین ہی کو پسِ پشت ڈال دیا تو نہ قانون بچے گا، نہ ریاست اور نہ ہی قوم۔

