Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Meri Apni Kahani (1)

Meri Apni Kahani (1)

میری اپنی کہانی (1)

نیچے گھنا جنگل تھا اور اوپر کچا راستہ۔ میں والدہ کی مار سے بچنے کے لیے اسی راستے پر جان بچا کر بھاگ رہا تھا۔ یہ مارچ 1971 کے درمیانی دن تھے۔ اچانک سامنے والد صاحب دکھائی دیے، جو ابھی ابھی پنڈی سے واپس پہنچے تھے۔ وہ اس لمحے میرے لیے کسی فرشتۂ رحمت سے کم نہ تھے۔ انہوں نے فوراً مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور والدہ سے پوچھا: "کیوں مار رہی ہو اسے؟"

والدہ نے شکوہ کیا: "سکول نہیں جاتا۔ بھیجتی ہوں تو جنگل میں جا چھپتا ہے"۔

والد صاحب نے وہیں کھڑے کھڑے فیصلہ سنا دیا: "اسے میں اسلام آباد لے جاؤں گا"۔

درحقیقت یہ ایک درد بھری کہانی کی ابتدا تھی۔ چند روز پہلے ہی مجھے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کرایا گیا تھا۔ یہ سکول مری سے دس کلومیٹر دور، پنجاب اور سرحد کے سنگم پر واقع قدیمی باڑیاں بازار کے قریب تھا۔ میں ستر کی دہائی کی جنریشن الفا کا ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ پہلے دن جب اپنی چچازاد بہن کے ساتھ سکول پہنچا تو خوف نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔ کہتے ہیں جو ڈرتا ہے وہ مرتا ہے۔ کلاس میں ایک نہایت سخت مزاج استاد، ماسٹر عبدالغنی صاحب، پڑھا رہے تھے۔ یکایک ان کی نگاہ مجھ پر پڑی۔

"یہ کون ہے؟" انہوں نے دھاڑ کر میری بہن سے پوچھا۔

بہن نے ڈرتے ڈرتے میرا تعارف کرایا تو انہوں نے ایک ایسی دھمکی دی جو آج تک میرے حافظے میں نقش ہے: "میں تمہیں یہاں سے اٹھا کر پھینکوں گا تو ایک میل نیچے جنگل میں جا کر رکو گے!"

میں لرزتا کانپتا کلاس سے بھاگ نکلا۔ حسبِ توقع اگلے دن والدہ نے پھر سکول بھیج دیا۔ وہ دن بھی میرے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔ ماسٹر غنی نے دوبارہ وہی خوفناک جملے دہرائے اور اس بار اضافہ کیا: "میرا جوتا دس نمبر کا ہے، ایک کک لگاؤں گا تو میلوں نیچے جنگل میں جا رکو گے!"

اگلے دو دن والدہ کے اصرار کے باوجود میں سکول نہ گیا۔ بہن کو اعتماد میں لے کر سکول سے ملحقہ جنگل میں جا چھپتا رہا۔ تیسرے دن مخبری ہوئی تو والدہ مارنے کو لپکیں، مگر اسی لمحے والد صاحب نے آ کر مجھے بچا لیا۔

پھر اپریل کی ایک خوشگوار صبح آئی۔ اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف سکس میں، فاروقیہ مارکیٹ کے قریب واقع ایک پرائمری سکول میں میرا پہلا دن تھا۔ سیاہ ملیشیا کی پتلون اور سفید قمیض پہنے میں باہر سے تو ٹھیک ٹھاک لگ رہا تھا، مگر اندر سے خوفزدہ تھا۔ سکول کے چوکیدار نور محمد نے والد صاحب کے کہنے پر مجھے کلاس میں چھوڑا۔ بھری پوری کلاس میں ایک طرف لڑکے اور دوسری طرف لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ میں اپنی نشست پر بیٹھا تو سمجھ نہ آیا بستہ کہاں رکھوں۔ میرے کلاس فیلو شہزاد نے خاموشی سے ڈیسک کھول کر میرا بستہ اس میں رکھ دیا۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر والد صاحب وہ فیصلہ نہ کرتے تو شاید آج میں یہاں نہ ہوتا۔ تاہم اس چھوٹی عمر میں بھی، میں کافی دن ہم اپنے ان مظلوم کلاس فیلوز کے لئے مغموم رہا، جن کو اپنے پیچھے ماسٹر عبدالغنی کے رحم و کرم پہ چھوڑ آیا تھا، گو کہ میرا ساتھ صرف تین دن کا تھا۔

میرا نیا سکول تو گویا پریوں کا دیس تھا۔ گورا چٹا ہونے کے باعث استانیوں نے مجھ پر بے پناہ شفقت کی۔ فطری طور پر میں سادہ اور معصوم تھا۔ اردو بول نہ پانے کے سب خاموش رہتا جب کچھ بولنے کو کوشش کرتا تو پہاڑی کی آمیزش پہ لڑکیاں مجھ پہ ہنستی۔

داخلے سے پہلے والد صاحب نے ہمارے مالک مکان صوفی عظمت سے پوچھا تھا کہ جب میں اردو بھی نہیں بول پاتا تو کیسے چل پاؤں گا؟ صوفی صاحب مسکرا کر بولے: "راجہ صاحب، یہ بچہ نہ صرف اردو بولے گا بلکہ بڑے بڑوں کے کان کترے گا"۔

نہ جانے وہ قبولیت کی گھڑی تھی یا صوفی صاحب کا تکا تھا، مگر اپنی کم مائیگی اور سادہ دیہاتی پس منظر کے باوجود میں نے دل لگا کر محنت کی۔ شاید اللہ بھی اسی کی مدد کرتا ہے جس کے پاس سچی لگن کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً دوسری جماعت سے لے کر پرائمری تک میں ہمیشہ اول پوزیشن لیتا رہا۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ پرائمری تا ہائی اسکول اسکالرشپ حاصل کی، پھر سر سید کالج پنڈی سے گولڈ میڈل لیا اور بالآخر انجینئرنگ یونیورسٹی تک جا پہنچا۔

پانچ دہائیوں بعد، گزشتہ برس شام ڈھلے میں ایک دوست کے ساتھ اسی پرائمری سکول گیا۔ عجیب سی کیفیت تھی، سینہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ میں نے دوست سے کہا کہ مجھے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دے۔ سکول میں چند بچے کھیل رہے تھے اور چوکیدار برآمدے میں ٹیک لگا کر اونگھ رہا تھا۔ میں داخلی دروازے تک آیا۔ سامنے وہی جنگل پھیلا تھا، پرندے اڑ رہے تھے۔ تنہا ہوتے ہی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ یوں لگا جیسے کسی بھٹکی ہوئی روح کی طرح میں اکیلا رہ گیا ہوں اور میرے سب ساتھی بچھڑ چکے ہیں۔

ایک ایک کرکے چہرے یاد آنے لگے: میرے شفیق والدین اور بھائی، مہربان چہروں والی استانیاں، گیٹ پر گھسٹتی ہوئی عظمیٰ جسے اس کے والد مجید صاحب زبردستی سکول لاتے تھے، وہ ہم عصر کلاس فیلوز جنہوں نے میری سادگی پر ترس کھا کر ہمیشہ نرمی برتی، زرینہ جو میرے ہاتھ سے آئس کریم چھین کر بھاگ جاتی تھی اور نٹ کھٹ لبنیٰ جس نے میرے ساتھ اسکالرشپ کا امتحان دیا تھا۔ آج وہ سب یقیناً دادیاں اور نانیاں بن چکی ہوں گی۔

میں نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ اس وقت والد صاحب کی عمر تقریباً پینتالیس برس ہوگی، مگر ان کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی رہتی تھی۔ سوچتا ہوں، کیا زمانہ بدل گیا ہے یا کچھ اور، کہ میں خود ساٹھ کے قریب پہنچ کر بھی اپنے اندر ایک عجیب سا لاابالی پن محسوس کرتا ہوں۔

اسلام آباد کا پہلا سفر میں نے 1969 میں کیا تھا، تب میری عمر چار برس تھی۔ اس وقت جی سیون میں والد کا کاروبار تھا۔ گولڈن مارکیٹ اس وقت سی ڈی اے کے تعمیراتی فن کا ایک نمایاں نمونہ تھی۔ لال اینٹوں سے بنی ہوئی عمارت، فرسٹ فلور پہ فلیٹوں کے سامنے چمکدار موزائیک فلور۔ کشادہ بڑی بڑی دوکانیں اور کھلے کھلے فلیٹ۔ ہر فلیٹ کے عقب میں وسیع صحن ہوتا تھا، جس کے آگے سیمنٹ کی جالی دار دیوار تھی۔ اس دیوار کے سوراخوں سے میں نیچے جھانک کر بھانت بھانت کی دنیا دیکھتا تھا۔ واٹر ٹینکر روز آتا جس کے پیچھے لگا موٹا پائپ بے پناہ طاقت سے پانی اوپر چڑھاتا۔ سائیکلوں کی دوکانیں، جہاں چار آنے فی گھنٹہ سائکل کرایے پہ ملتی۔ سائیکل کو پہلی دفعہ قریب سے دیکھ کر میں مسحور ہوگیا تھا۔ شام کو بڑے بھائی سائیکل پہ بٹھا کے سیر کراتے اور قریبی محلے میں سیخ کباب کے ٹھیلے پہ مرچوں والے سیخ کباب کھلاتے۔ اس کباب والے کے پاس بندر کا ایک چھوٹا بچہ بھی تھا، جو میرے لئے ایک عجوبہ تھا۔

جی سیون سے زیادہ میری زندگی کا حصہ ایف سکس میں گزرا۔ یہ بھٹو کا زمانہ تھا۔ مردوں میں بیل باٹم اور لمبے بالوں کا اور عورتوں میں باب کٹ اور ٹیڈی سٹائل کا دور تھا۔ آزاد زمانہ تھا، کوئی سیکیورٹی ایشوز نہیں تھے۔ مجھے سپر مارکیٹ میں موجود شراب کی دکان بھی یاد ہے، جو 1979 میں تحریک نظام مصطفی کے دوران نوجوانوں نےہلہ بول کے توڑ دی تھی۔ تاہم ہماری سب سے بڑی عیاشی مارکیٹ میں ٹی وی شاپ پہ رکھے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پہ پاکستانی قوم کے ہیرو محمد علی کلے کا باکسنگ میچ دیکھنا اور پاکستان کی کی ہاکی ٹیم کی میچز دیکھنا تھا۔ تاہم مجھے نہیں معلوم تھا، محمد علی کا نام لاس اینجلس کی "واک آف فیم" میں دیکھنے کے لئے مجھے پچاس سال انتظار کرنا پڑے گا۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Ehtejaj Karta Ustad Aur Khamosh Class Room

By Muhammad Riaz