Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Taqat Ka Aaina, Kamzor Ka Muqadar

Taqat Ka Aaina, Kamzor Ka Muqadar

طاقت کا آئینہ، کمزور کا مقدر

ہم ایک عجیب معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں "میرٹ" کی تعریف آئین، قانون یا اخلاقیات سے نہیں بلکہ طاقت کے منہ سے ادا ہونے والے لفظ سے متعین ہوتی ہے۔ جو طاقتور کہہ دے، وہی اصول، جو حکم صادر ہو جائے، وہی ضابطہ۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ قومیں ترقی کے خواب دیکھتی ہیں اور ہم طاقت کے دربار میں سچ کی بولی لگاتے ہیں۔

ہمارا مسئلہ وقتی نہیں، ساختی ہے۔ یہ صرف چند برسوں یا چند حکومتوں کی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی تسلسل ہے جس میں طاقتور اور کمزور کی تقسیم پتھر پر لکیر بن چکی ہے۔ امیر اور غریب کی بحث بھی دراصل اسی طاقت کی توسیع ہے۔ جس کے پاس اختیار ہے، وہی وسائل کا مالک ہے، جس کے پاس اختیار نہیں، وہی نصیب کے فلسفے میں الجھا دیا جاتا ہے۔

عوام کو صدیوں سے دو جملوں میں قید رکھا گیا ہے: صبر کرو اور انتظار کرو۔ غربت کو امتحان کہا گیا، محرومی کو تقدیر اور ناانصافی کو آزمائش۔ مرنے کے بعد کی آسائش کا وعدہ کرکے جینے کے حق سے محروم کر دیا گیا۔ یوں مذہبی اور سیاسی بیانیے نے مل کر ایک ایسا ذہنی حصار قائم کیا جس میں سوال کرنا گناہ اور مزاحمت بغاوت ٹھہری۔

سیاسی تقسیم بھی اب محض لفاظی رہ گئی ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی کشمکش دم توڑ چکی۔ سب کا مقصد ایک ہی ہے: اقتدار تک رسائی اور وسائل پر قبضہ۔ عوامی خدمت اب نعرہ ہے، عملی ایجنڈا نہیں۔ قدرتی آفات میں کچھ مذہبی گروہ ضرور میدان میں دکھائی دیتے ہیں، مگر خود کو روشن خیال اور ترقی پسند کہنے والے اکثر افراد سیمیناروں اور ثقافتی میلوں کی حد تک محدود ہیں۔ خدمت اگر ہے بھی تو نمائشی۔

ہماری تاریخ بھی طاقت کے اسی کھیل کی گواہ ہے۔ تقسیم ہند کے فسادات میں عام آدمی کٹا، جلا اور لٹا، مگر طاقتور طبقہ محفوظ راستوں سے اپنی منزلوں تک پہنچ گیا۔ بعد ازاں اقتدار کی بساط پر وہی چہرے گردش کرتے رہے۔ سیاسی کمزوریوں نے آمریت کو دعوت دی اور آمریت نے مذہب و نظریہ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ ایک نیا اشرافیہ طبقہ پیدا ہوا جس نے معیشت، سیاست اور حکمرانی کو اپنے دائرہ اختیار میں سمیٹ لیا۔

یورپ اور امریکا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں تبدیلی محض نعروں سے نہیں آئی۔ صنعتی انقلاب، سائنسی فکر اور فکری بغاوت نے سماجی ڈھانچے کو بدل ڈالا۔ چرچ کی مطلق العنانیت محدود ہوئی، قانون کی حکمرانی مضبوط ہوئی اور ریاستی طاقت کو عوامی فلاح کے تابع کیا گیا۔ ابراہم لنکن نے غلامی جیسے منافع بخش کاروبار کو ختم کرنے کے لیے جنگ مول لی۔ وہاں قربانیاں ہوئیں، مگر نتیجہ ایک نسبتاً منصفانہ نظام کی صورت میں نکلا۔

ہم اس فکری اور سائنسی انقلاب کا حصہ نہ بن سکے۔ ہم نے تقلید کو اپنایا، تحقیق کو چھوڑا اور سوال اٹھانے کی روایت کو کمزور کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند خاندان وسائل کے مالک بن گئے اور کروڑوں لوگ محض شناختی کارڈ نمبروں میں تبدیل ہو گئے۔ طاقتور مضبوط تر ہوتا گیا، کمزور مزید نحیف۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس جمود کو مقدر مان لیں؟ کیا واقعی ہمارا خمیر تبدیلی کے قابل نہیں؟ یا ہمیں مسلسل ایسی نظریاتی لوریاں سنائی جا رہی ہیں جن کا مقصد ہمیں گہری نیند میں رکھنا ہے؟

قومیں اس وقت بیدار ہوتی ہیں جب وہ سوال کرنا سیکھ لیتی ہیں۔ جب وہ تقلید کے بجائے تحقیق کو ترجیح دیتی ہیں۔ جب وہ طاقت کے سامنے سچ کو رکھتی ہیں، نہ کہ سچ کے سامنے طاقت کو۔ ہمیں سائنسی شعور، قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کو نعروں سے نکال کر عملی زندگی میں لانا ہوگا۔

ورنہ تاریخ کا پہیہ یونہی گھومتا رہے گا۔ چہرے بدلیں گے، نظام نہیں۔ وعدے بدلیں گے، حالات نہیں اور ہمیں نظریاتی لوریاں سنا سنا کر مزید گہری نیند سلا دیا جائے گا۔

Check Also

Log Parhen Panch Waqt, Ashiq Parhen Har Waqt

By Saleem Zaman