Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Fajar Ke Waqt Rooh Ki Kaifiat: Neend, Science Aur Tasleem

Fajar Ke Waqt Rooh Ki Kaifiat: Neend, Science Aur Tasleem

فجر کے وقت روح کی کیفیت: نیند، سائنس اور تسلیم

فجر کا وقت محض ایک نماز کا نام نہیں، یہ انسان کے وجود کے اندر برپا ہونے والی ایک خاموش مگر ہمہ گیر تبدیلی کا لمحہ ہے۔ یہ وہ گھڑی ہے جب رات کی گہری نیند اپنے اختتام کو پہنچتی ہے اور دن کی پہلی سانس لی جاتی ہے۔ قرآن جب فجر کی قسم کھاتا ہے تو دراصل وہ اس وقت کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، کیونکہ یہی وہ ساعت ہے جہاں جسم، دماغ اور روح ایک نازک توازن میں داخل ہوتے ہیں۔

نیند کے دوران انسان کا جسم بظاہر ساکن ہوتا ہے مگر اس کے اندر ایک مکمل کائنات متحرک رہتی ہے، دماغ اپنے اندر جمع شدہ زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے، یادداشتوں کو ترتیب دیتا ہے اور اعصاب کو آنے والے دن کے لیے تیار کرتا ہے۔ جدید سائنس نے اس نظام کو "گلیمفیٹک سسٹم" کا نام دیا ہے، مگر صدیوں پہلے دین نے اس حقیقت کو روحانی پیرائے میں بیان کر دیا تھا کہ نیند ایک طرح کی عارضی موت ہے اور بیداری ایک نئی زندگی۔ فجر اسی بیداری کا اعلان ہے، ایک ایسی بیداری جس میں صرف آنکھ نہیں بلکہ شعور بھی کھلتا ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایمان اور بایولوجی ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ فجر سے پہلے کا وقت دماغ کے لیے "مینٹیننس موڈ" ہوتا ہے، جب نیند کے آخری مراحل میں جسم کی مرمت مکمل کی جاتی ہے، ہارمونز متوازن ہوتے ہیں اور ذہنی دباؤ تحلیل ہونے لگتا ہے۔ دین کہتا ہے کہ یہی وقت ذکر، دعا اور نماز کے لیے سب سے موزوں ہے، کیونکہ روح اس وقت سب سے زیادہ نرم، شفاف اور قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔ انسان جب فجر کے وقت بیدار ہوتا ہے تو وہ محض بستر نہیں چھوڑتا، وہ دراصل غفلت کے ایک دائرے سے شعور کے ایک نئے دائرے میں قدم رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ کہ وہ اس لمحے کو سستی کے حوالے کرے یا تسلیم و عبادت کے سپرد، دراصل اس کے پورے دن بلکہ پوری زندگی کے رخ کا تعین کرتا ہے۔

فجر کا وقت انسان کے اندر ایک سوال بھی جگاتا ہے: کیا نیند ایمان کو کمزور کرتی ہے یا ایمان نیند کو بامقصد بناتا ہے؟ عام طور پر ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جو زیادہ سوتا ہے وہ کمزور ایمان کا حامل ہے، حالانکہ حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ نیند خود ایک نعمت ہے، ایک فطری ضرورت، مگر مسئلہ نیند میں نہیں، نیند کے غلبے میں ہے۔ جب نیند انسان پر حاکم بن جائے اور وہ فجر کی پکار کو نظرانداز کر دے تو یہ محض جسمانی تھکن کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ ترجیحات کے بگاڑ کی علامت بن جاتا ہے۔ اللہ نے فجر کو مشکل اس لیے نہیں رکھا کہ انسان کو عذاب دے، بلکہ اس لیے رکھا کہ انسان خود کو پہچان سکے، کہ وہ جسم کی آواز سنتا ہے یا روح کی پکار پر لبیک کہتا ہے۔ فجر کا اٹھنا دراصل یہ اعلان ہے کہ انسان نے اپنی نیند پر نہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسا کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید تحقیق بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ جو لوگ فجر کے وقت بیدار ہوتے ہیں، ان کی ذہنی صحت بہتر، فیصلہ سازی مضبوط اور جذباتی توازن زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ صبح کی روشنی دماغ میں سیروٹونن کی سطح بڑھاتی ہے، جو خوشی اور اطمینان کا باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فجر کے بعد کا وقت کام، مطالعہ اور تخلیق کے لیے سب سے زرخیز سمجھا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے دین نے جس وقت کو عبادت کے لیے منتخب کیا، وہی وقت سائنس نے ذہنی و جسمانی صحت کے لیے سنہری قرار دے دیا۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ اس نظام کی گواہی ہے جس میں خالق اور تخلیق کے قوانین ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ تصدیق کرتے ہیں۔

فجر کے وقت روح کی ایک اور کیفیت بھی نمایاں ہوتی ہے اور وہ ہے تسلیم۔ دن کے باقی حصے میں انسان سوال کرتا ہے، الجھتا ہے، شکوے کرتا ہے، مگر فجر کے وقت جب اندھیرا روشنی میں ڈھل رہا ہوتا ہے، انسان لاشعوری طور پر سر جھکا دیتا ہے۔ سجدہ دراصل اسی تسلیم کا عملی اظہار ہے، ایک ایسا لمحہ جہاں عقل خاموش اور روح گویا ہو جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان اپنی محدودیت کو قبول کرتا ہے اور ایک لامحدود ذات کے سامنے خود کو رکھ دیتا ہے۔ شاید اسی لیے فجر کی دو رکعتیں دنیا و مافیہا سے بہتر قرار دی گئیں، کیونکہ ان دو رکعتوں میں انسان اپنے دن کا مرکز درست کر لیتا ہے اور جس دن کا مرکز درست ہو، اس کی سمت بھٹکتی نہیں۔

آخرکار فجر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بیداری محض آنکھوں کی نہیں، نیت کی بھی ہونی چاہیے۔ جو شخص فجر کے وقت اٹھ کر اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، وہ دراصل اعلان کرتا ہے کہ وہ زندگی کو محض ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ شعوری انتخاب کے طور پر جینا چاہتا ہے۔ نیند، سائنس اور روح، یہ تینوں فجر کے وقت ایک ہی نقطے پر آ ملتے ہیں اور وہ نقطہ ہے انسان کا اپنے خالق سے تعلق۔ یہی تعلق دن کو بامعنی، رات کو پُرسکون اور زندگی کو متوازن بناتا ہے۔ فجر کوئی بوجھ نہیں، یہ تو ایک دعوت ہے، اپنے آپ کو پانے کی، اپنے رب کو ماننے کی اور اس بہاؤ میں شامل ہونے کی جسے ہم رزق، سکون اور ہدایت کا بہاؤ کہتے ہیں۔

یہ تحریر فجر کے اُس لمحے کی یاد دہانی ہے جب نیند اور بیداری کے درمیان کھڑا انسان اپنے اصل سے مکالمہ کرتا ہے۔ یہ وہ ساعت ہے جہاں سائنس جسم کی مرمت میں مصروف ہوتی ہے اور روح اپنے خالق کی طرف پلٹتی ہے۔ اگر ہم اس لمحے کو پہچان لیں تو دن کی ہنگامہ خیزی بھی ہمیں توڑ نہیں پاتی، کیونکہ فجر ہمیں جھکنا سکھا کر سیدھا چلنا سکھاتی ہے۔

فجر کی خامشی میں جو صدا ملتی ہے
دل کے ویران نگر کو وہ دعا ملتی ہے

نیند کہتی ہے ٹھہر، رات ابھی باقی ہے
روح کہتی ہے اٹھ، آج شفا ملتی ہے

ایک سجدہ جو اندھیرے کو چراغاں کر دے
اسی لمحے تو حیاتِ نو کی جا ملتی ہے

سر جھکاتے ہی بدل جاتا ہے بےمعنی ہونا
آدمی کو یہیں پہچانِ خدا ملتی ہے

Check Also

Siasat Dano Ke Liye Be Maani Makafat e Amal

By Nusrat Javed