Ye Ghurbat Nahi, Ye Khayanat Ki Qeemat Hai
یہ غربت نہیں، یہ خیانت کی قیمت ہے

یہ جملہ محض ایک فقرہ نہیں، ایک فیصلہ ہے، ایک فردِ جرم ہے، ایک سماجی پوسٹ مارٹم ہے۔ "یہ غربت نہیں، یہ خیانت کی قیمت ہے۔ خیانت برکت کو قتل کر دیتی ہے"۔
یہ غربت نہیں، یہ خیانت کی قیمت ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو کسی بازار میں نہیں لگتی، کسی رسید پر درج نہیں ہوتی، مگر نسلوں کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔ ہم جسے غربت کہہ کر آنکھ چرا لیتے ہیں، دراصل وہ ایک طویل سلسلۂ خیانت کا آخری نتیجہ ہے۔ یہ خالی جیب کا مسئلہ نہیں، خالی ضمیر کا انجام ہے۔ یہ بھوک کی نہیں، بے ایمانی کی بھینٹ چڑھی ہوئی زندگی ہے۔ جب امانت میں خیانت معمول بن جائے، جب اختیار کو غنیمت سمجھا جائے، جب طاقت کو خدمت کے بجائے شکار کا ہتھیار بنایا جائے، تو پھر برکت خاموشی سے رخصت ہو جاتی ہے۔ برکت شور نہیں مچاتی، احتجاج نہیں کرتی، وہ بس اٹھتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ پیچھے جو رہ جاتا ہے، ہم اسے غربت کہہ کر دلاسہ دے لیتے ہیں، حالانکہ وہ ایک لاش ہوتی ہے، برکت کی لاش۔
خیانت ہمیشہ بڑے بڑے نعروں کے پیچھے چھپ کر آتی ہے۔ کبھی حب الوطنی کے نام پر، کبھی مصلحت کے پردے میں، کبھی نظام کی مجبوری بنا کر۔ خیانت صرف خزانے لوٹنے کا نام نہیں، یہ وقت لوٹنے، امید لوٹنے اور اعتماد لوٹنے کا نام بھی ہے۔ وہ افسر جو فائل دبا کر بیٹھ جاتا ہے، وہ تاجر جو ناپ تول میں کمی کرتا ہے، وہ استاد جو علم بیچ دیتا ہے، وہ صحافی جو سچ گروی رکھ دیتا ہے، سب ایک ہی جرم میں شریک ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی کروڑوں کھا کر مسکراتا ہے اور کوئی چند لمحوں کی سہولت لے کر شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتا۔ مگر نتیجہ سب کے لیے ایک جیسا ہے: برکت کا قتل اور جب برکت قتل ہو جائے تو دولت بھی ہو تو بے سکونی بن جاتی ہے، اقتدار بھی ہو تو خوف میں بدل جاتا ہے اور وسائل بھی ہوں تو قحط کا منظر پیش کرتے ہیں۔
ہم نے غربت کو ایک فطری آفت بنا دیا ہے، جیسے یہ آسمان سے نازل ہوتی ہو۔ ہم کہتے ہیں آبادی زیادہ ہے، وسائل کم ہیں، حالات خراب ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ نیت خراب ہے، نگران خائن ہیں اور نظام میں امانت دم توڑ چکی ہے۔ ہم نے سوال پوچھنا چھوڑ دیا ہے کہ آخر وہ قومیں کیوں خوشحال ہوگئیں جن کے پاس ہم سے کم وسائل تھے؟ کیوں ان کی سڑکیں بھی بولتی ہیں اور ہماری فائلیں بھی چیختی ہیں؟ کیوں ان کے قانون اندھے نہیں اور ہمارے انصاف کو آنکھوں پر پٹی باندھنا پڑتی ہے؟ اصل فرق وسائل کا نہیں، دیانت کا ہے۔ دیانت وہ خوشبو ہے جو نہ ہو تو پھول بھی بیکار ہو جاتا ہے اور خیانت وہ زہر ہے جو شہد میں بھی ملا دیا جائے تو موت دے دیتا ہے۔
خیانت صرف اوپر نہیں ہوتی، یہ نیچے بھی رچی بسی ہے۔ ہم ٹیکس چوری کو ہوشیاری کہتے ہیں، سفارش کو حق، جھوٹ کو مجبوری اور وعدہ خلافی کو حالات کا تقاضا۔ ہم چھوٹی چھوٹی خیانتوں کو "چلتا ہے" کہہ کر قبول کر لیتے ہیں، پھر روتے ہیں کہ ملک کیوں نہیں چلتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکمران دیانت دار ہوں، مگر ہم خود قطار میں لگنے کو ذلت سمجھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نظام درست ہو، مگر ہم خود نظام کو چکمہ دینے پر فخر کرتے ہیں۔ یہ اجتماعی خیانت ہے اور اجتماعی خیانت کی سزا اجتماعی غربت نہیں بلکہ اجتماعی بے برکتی ہوتی ہے، جہاں کمائی بڑھتی ہے مگر دل خالی رہتے ہیں، عمارتیں اونچی ہوتی ہیں مگر کردار پست۔
برکت کا قتل سب سے خاموش قتل ہے۔ اس کی کوئی ایف آئی آر نہیں کٹتی، کوئی لاش نہیں اٹھتی، کوئی ماتم نہیں ہوتا۔ بس آہستہ آہستہ زندگی سے لطف نکل جاتا ہے۔ محنت بے ثمر ہو جاتی ہے، دعائیں بے اثر لگتی ہیں اور راستے لمبے سے لمبے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ کیوں نہیں ہو رہا۔ ہم نہیں جانتے کہ برکت ناراض نہیں ہوتی، وہ بس کنارہ کش ہو جاتی ہے اور پھر قومیں قرض پر جیتی ہیں، امداد پر سانس لیتی ہیں اور وعدوں پر پالتی ہیں۔ یہ غربت نہیں، یہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن کی رسید ہے، جس پر دستخط ہم سب نے کسی نہ کسی موقع پر کیے ہوتے ہیں۔
اگر ہم واقعی غربت سے لڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں خیرات نہیں، کردار چاہیے۔ ہمیں امدادی پیکج نہیں، امانت داری چاہیے۔ ہمیں تقریریں نہیں، مثالیں چاہیے۔ برکت واپس تب آئے گی جب خیانت شرمندہ ہوگی، جب طاقت جواب دہ ہوگی، جب معمولی سچ بڑے جھوٹ پر بھاری ہوگا۔ یہ سفر مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ کیونکہ قومیں وسائل سے نہیں، اصولوں سے اٹھتی ہیں اور اصولوں کی بنیاد صرف ایک ہے: دیانت۔ اس کے بغیر جو کچھ بھی ہوگا، وہ غربت کہلائے یا ترقی، دراصل خیانت کی قیمت ہی ہوگا۔
کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو کانوں میں نہیں، ضمیر میں اترتے ہیں۔ یہ تحریر بھی اگر دل پر بوجھ بنے تو سمجھ لیجیے کہ اس نے درست جگہ دستک دی ہے۔
یہ بھوک نہیں ہے، یہ کردار کی ہار ہے
یہ جو قحط دکھائی دے، یہ برکت کی مار ہے
امانت تھی جو ہاتھ میں، وہ نیلام ہوگئی
پھر پوچھتے ہو شہر میں کیوں آزار ہے
حساب کس سے مانگیں اب، آئینہ بھی ہے خاموش
ہر ایک چہرے پر ہی کسی کا غبار ہے
دیانت اگر نہ ہو تو خزانے بھی راکھ ہیں
یہ رازِ زیست ہے، یہی سچ کا اظہار ہے

