Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Epstein Files Ke Aftershocks Aur Islam Ka Tasawar e Takmeel

Epstein Files Ke Aftershocks Aur Islam Ka Tasawar e Takmeel

ایپسٹین فائلز کے آفٹر شاکس اور اسلام کا تصورِ تکمیل

دنیا میں جب بھی کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے اثرات صرف سیاسی یا سماجی نہیں ہوتے بلکہ فکری اور نظریاتی سطح پر بھی جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔ حالیہ عالمی انکشافات اور اخلاقی بحرانوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ انسانیت کی رہنمائی کا اصل اور محفوظ ذریعہ کیا ہے؟

اسی تناظر میں اسلام کے تصورِ تکمیل کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام کو دنیا کا سب سے جدید مذہب کہنا بظاہر حیران کن لگ سکتا ہے، لیکن اگر ہم تاریخی اور فکری ارتقاء کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ "جدید" سے مراد وقت کے لحاظ سے نیا ہونا نہیں، بلکہ مکمل، محفوظ اور حتمی ہونا ہے۔

اس بات کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے، جب 1876 میں Alexander Graham Bell نے ٹیلیفون ایجاد کیا تو وہ انسانی رابطے کا ابتدائی ذریعہ تھا۔ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی اور آج وہی تصور جدید ترین شکل میں iPhone کی صورت ہمارے ہاتھ میں موجود ہے۔ بنیادی مقصد وہی ہے رابطہ لیکن شکل اور تکمیل میں ارتقاء آ چکا ہے۔

اسی طرح ہدایتِ الٰہی کا سلسلہ بھی تدریجی رہا۔ حضرت داؤد پر زبور نازل ہوئی۔ تورات، حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی اور حضرت عیسیٰ پر انجیل نازل ہوئی۔ یہ سب اپنی اپنی قوموں اور ادوار کے لیے رہنمائی تھیں۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری اور مکمل کتاب قرآن پاک کو اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا۔

قرآن کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے قیامت تک کے لیے ہدایت قرار دیا گیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی۔ اسی لئے نہ اس میں تحریف ہو سکتی ہے اور نہ اس کے بعد کوئی نئی وحی یا نیا نبی آئے گا۔

یہی "حتمیت" اور "تحفظ" اسے مکمل اور جدید بناتی ہے یعنی ایسا نظامِ حیات جو انسانی ارتقاء کے تمام مراحل کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے اور جہاں تک رہنمائی کے عملی نمونے کا تعلق ہے، حضرت محمد ﷺ کی سیرت انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ ایسا معیار جسے قیامت تک کوئی عبور نہیں کر سکتا۔

جامعہ پنجاب کے مشھور پروفیسر وارث میر جو کہ ایک ماھر تعلیم اور صحافی تھے انہوں نے ایک مختصر وصیت تحریر کی جو کچھ یوں تھی "میں اپنی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائداد اپنی اہلیہ کے نام منتقل کرتا ہوں اور اپنے بچوں کو تاکید کرتا ہوں وہ اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں"۔ یہ وصیت 1978میں لکھی گئی اور اُس وقت تمام بچے اسکول میں پڑھتے تھے لیکن وہ اپنے بچوں سے اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھنے کی توقع رکھتے تھے۔ انہی کے صاحبزادے اور ملک کے مشھور صحافی، حامد میر صاحب نے، ایک انٹرویو میں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ایک اہم سوال کیا۔ سوال کا خلاصہ یہ تھا کہ جنرل پرویز مشرف سے لے کر عمران خان تک مختلف ادوارِ حکومت میں ریاستی اداروں نے آپ پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے مخصوص، بزلہ سنج مگر دانشمندانہ انداز میں جواب دیا "میں اُس گلی سے گزرتا ہی نہیں جہاں ایسا کوئی شائبہ ہو"۔

یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس میں کردار کی وہ پوری فلسفہ پوشیدہ ہے کہ اصل جنگ ہتھیاروں کی نہیں، کردار کی ہوتی ہے۔

اصل وراثت دولت نہیں، اصول ہوتے ہیں اور اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اُس راستے پر چلے ہی نہیں جہاں الزام کا سایہ بھی پڑ سکتا ہو۔

یہ مندرجہ بالا بات ضمنی طور پر آپ کو کالم میں ربط برقرار رکھنے کے لئے لکھی ہے۔ تو آئیے آج کے جدید اور معتبر ذرائع ابلاغ پر ایک سر سری نظر ڈالتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میں امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین فائلز کے ہزاروں صفحات عوام کے سامنے جاری کیے، جن میں بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ دنیا بھر کے طاقتور لوگوں کے مراسلت اور روابط شامل ہیں۔ ان فائلز کے بے نقاب ہونے کے بعد اعلیٰ سطح کے رہنما، کاروباری سربراہ اور سفارت کار اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں، یا ان پر تحقیقات جاری ہیں۔

دبئی میں ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین اور CEO سلطان احمد بن سلیم نے بھی اپنے عہدے سے ہاتھ اٹھا لیا کیونکہ فائلز میں ان کے ایپسٹین کے ساتھ مراسلت سامنے آئی۔ ان کی برطرفی کے بعد کمپنی نے نئی قیادت کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کی سب سے بڑی بینک گولڈمین سیکس کی چیف وکیل کیتھی روملر بھی ایپسٹین فائلز کے شائع ہونے کے فوراً بعد استعفیٰ دینے والوں میں شامل ہوگئیں، جنہوں نے پہلے کہا تھا کہ ان کا تعلق صرف پیشہ وارانہ تھا۔

یورپ میں بھی زبردست اثر دیکھا جا رہا ہے۔ فرانس کے اہم ثقافتی ادارے کے سربراہ جیک لینگ نے ٹیکس فراڈ انکوائری اور ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔

سلوواکیہ کے قومی سلامتی مشیر مِیروسلاو لایچیک نے بھی فائلز میں تعلقات سامنے آنے پر سرکاری عہدہ چھوڑ دیا۔ اسی طرح، سویڈن کی ایک اعلیٰ سفارتی افسر نے اقوامِ متحدہ میں اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئی۔ برطانیہ میں لارڈ پیٹر مینڈلسن نے لیبر پارٹی کی ممبرشپ چھوڑ دی، جبکہ برطانوی وزیرِاعظم کے چیف آف اسٹاف مورگن مک سویینی نے بھی استعفیٰ دیا۔

ان استعفیٰ دینے والوں میں بہت سے لوگ انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہے لیکن عوامی اور سیاسی دباؤ نے انہیں اپنی پوزیشن چھوڑنے پر مجبور کیا ہے تاکہ ان کی تنظیمیں اسکینڈل میں مزید نہ پھنسیں۔

یہ سلسلہ صرف چند ناموں تک محدود نہیں رہا، ایپسٹین فائلز نے دنیا بھر میں سیاست، کاروبار، سفارت کاری اور ثقافتی اداروں میں تہلکہ مچا دیا ہے اور مستقبل میں اور بھی بڑے استعفیٰ یا تحقیقات سامنے آنے کا امکان ہے۔

ایپسٹین فائلز نے دنیا کے طاقتور حلقوں میں موجود روابط، مراسلات اور ذاتی تعلقات کو بے نقاب کیا ہے۔ بہت سی شخصیات نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ایپسٹین کے ساتھ صرف پیشہ ورانہ یا رسمی تعلق تھا، لیکن عوامی دباؤ، میڈیا کی چھان بین، سیاسی تنقید اور تنظیموں کی ساکھ کے تحفظ کے لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کو ترجیح دی۔

ایپسٹین فائلز کی افشائیں صرف ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی سطح کا سوشل اور سیاسی زلزلہ ہیں۔ ان نے دنیا بھر میں طاقتور شخصیات کے عہدوں اور ساکھوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور بہت سی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن رہے ہیں۔ ان فائلز کے سامنے آنے کے بعد استعفے، برطرفیاں، تحقیقات اور عوامی مہمات نے ثابت کر دیا ہے کہ دنیا آج شفافیت اور احتساب کی نئی ضرورت کا سامنا کر رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔

اس طرح آگے چل کر پاکستان کی شخصیات کا نام بھی ان فائلز میں آ یا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ فائلز میں نام آنا الزام یا جرم کا ثبوت نہیں ہوتا۔ صرف دستاویزات میں نام کا ذکر ہوتا ہے، جو بہت سے عوامی اور نجی شخصیات کے ساتھ ہوتا ہے۔

اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے عقیدہ، اخلاق، معاشرت، معیشت اور عدل کا جامع نظام۔ اسی لیے اسے "دین" کہا جاتا ہے، یعنی زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ ہے اور آنے والے وقت کے لئے بھی مشعل راہ ہے۔

اس لئے کلام الٰہی میں پہلے ہی متنبہ کیا گیا ہے کہ "وَلَا تَقُرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا"، "اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ بہت بڑی فحاشی اور بری راہ ہے"۔ سورہ الاسراء (17: 32)

یہ آیت واضح طور پر کہتی ہے کہ صرف گناہ نہ کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے قریب جانا بھی منع ہے کیونکہ قربت انسان کو گناہ کی طرف لے جا سکتی ہے۔

Check Also

Epstein Files Ke Aftershocks Aur Islam Ka Tasawar e Takmeel

By Amir Mohammad Kalwar