نکاحِ مسنون: سادگی، شعور اور سماجی احیاء کی ناگزیر ضرورت

نکاح انسانی فطرت کا پاکیزہ تقاضا اور شریعتِ اسلامیہ کا نہایت بابرکت ادارہ ہے۔ یہ محض دو افراد کا باہمی معاہدہ نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ایک اخلاقی، روحانی اور سماجی رشتہ ہے جس کی بنیاد مودّت، رحمت اور ذمہ داری پر رکھی گئی ہے۔ قرآنِ مجید نے ازدواجی تعلق کو سکونِ قلب کا ذریعہ قرار دیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں شمار کیا۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں نکاح جیسی سادہ اور بابرکت سنت کو رسوم و رواج، نمود و نمائش اور مالی بوجھ تلے اس قدر دبا دیا گیا ہے کہ وہ آسانی کے بجائے دشواری کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال محض سماجی مسئلہ نہیں بلکہ فکری اور دینی انحراف کا نتیجہ ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے نکاح کو سہولت، اعتدال اور برکت کے ساتھ جوڑا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔ اس تعلیم میں نہ صرف معاشی حکمت پوشیدہ ہے بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی فلسفہ بھی کارفرما ہے۔ جب نکاح آسان ہوگا تو معاشرہ پاکیزگی کی طرف مائل ہوگا، بے راہ روی کم ہوگی اور نوجوانوں کے لیے حلال راستہ اختیار کرنا سہل ہوگا۔ برعکس اس کے، جب شادی کو معاشی مقابلہ آرائی اور سماجی برتری کا ذریعہ بنا دیا جائے تو اس کے نتائج طبقاتی تقسیم، احساسِ محرومی اور اخلاقی انتشار کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
قرآنِ حکیم اسراف اور فضول خرچی سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا" (الاعراف: 31)۔ یہ حکم زندگی کے ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے، مگر تقریباتِ نکاح میں اس کی خلاف ورزی عام ہے۔ لاکھوں روپے محض ایک دن کی نمائش پر خرچ کر دینا، قرض لے کر تقریبات منعقد کرنا اور نمود و نمائش کو عزت کا معیار سمجھنا، اسلامی مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔ اسلام نے وقار کو تقویٰ سے وابستہ کیا ہے، نہ کہ روشنیوں، کھانوں اور لباس کی چمک دمک سے۔
سیرتِ نبوی ﷺ اس باب میں رہنمائی کا روشن مینار ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کا نکاح سیدنا علیؓ سے فرمایا تو اس میں نہ شاہانہ اہتمام تھا اور نہ تکلف۔ سادگی، قناعت اور روحانی وقار اس نکاح کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ یہی وہ عملی نمونہ ہے جو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے معیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں گواہ ہیں کہ انہوں نے نکاح کو عبادت اور ذمہ داری سمجھا، نہ کہ معاشرتی نمایش کا میدان۔
مسئلہ صرف فضول خرچی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی بے شمار غیر شرعی رسومات بھی ہیں جنہوں نے نکاح کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ باراتوں کی کثرت، جہیز کی دوڑ، غیر ضروری تقاریب اور رسوماتی مطالبات نے متوسط اور غریب طبقات کو شدید ذہنی اور مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کتنی ہی بیٹیاں صرف اس وجہ سے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ والدین معاشرتی توقعات پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ اجتماعی بے حسی کی علامت بھی ہے۔
اسلام نیت کی اصلاح پر زور دیتا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر نکاح کا مقصد اللہ کی رضا، عفت کا تحفظ اور ایک صالح خاندان کی بنیاد رکھنا ہو تو پھر اس میں نمود و نمائش کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لیکن اگر نیت سماجی برتری یا لوگوں کو متاثر کرنا ہو تو پھر اخلاص کی روح مجروح ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نکاح کو عبادت سمجھتے ہیں یا معاشرتی مقابلہ۔
سیدنا عمر بن خطابؓ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کے قیام میں لوگوں کی ناراضگی کا خوف آڑے نہیں آنا چاہیے۔ اگر کوئی خاندان سنت کے مطابق سادہ نکاح کا فیصلہ کرتا ہے تو وقتی طور پر بعض رشتہ دار یا احباب ناگواری محسوس کر سکتے ہیں، مگر طویل المیعاد اعتبار سے یہی طرزِ عمل معاشرتی اصلاح کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ ہر بڑی تبدیلی کا آغاز چند باہمت افراد سے ہوتا ہے۔
سماجی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی مالی استطاعت کو مثبت رخ دیں۔ اگر شادیوں پر بے جا اخراجات کم کرکے ضرورت مند بچیوں کے نکاح میں تعاون کیا جائے، تو یہ نہ صرف صدقۂ جاریہ ہوگا بلکہ معاشرے میں توازن اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بھی بنے گا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ کی زندگیاں ایثار اور فیاضی کی روشن مثالیں ہیں۔ انہوں نے مال کو اللہ کی امانت سمجھا اور اسے مخلوقِ خدا کی خدمت میں صرف کیا۔ آج بھی اگر صاحبِ حیثیت افراد اس سنت کو زندہ کریں تو بے شمار گھر آباد ہو سکتے ہیں۔
نکاح کو مشکل بنانے کے نتائج دور رس اور خطرناک ہیں۔ جب جائز راستہ دشوار ہو جائے تو ناجائز راستے کشادہ ہو جاتے ہیں۔ معاشرتی بے راہ روی، اخلاقی زوال اور خاندانی نظام کی کمزوری اسی کا شاخسانہ ہیں۔ حدیثِ نبوی ﷺ میں برے طریقے ایجاد کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔ اس تنبیہ کا تقاضا ہے کہ ہم ہر اس رسم کا جائزہ لیں جو شریعت کے مزاج سے متصادم ہو اور اسے ترک کرنے کا عزم کریں۔
اصلاح کا آغاز گھروں سے ہوتا ہے۔ والدین اگر اپنی اولاد کی تربیت اس شعور کے ساتھ کریں کہ اصل عزت تقویٰ اور کردار میں ہے، تو آئندہ نسلیں اسراف اور دکھاوے کی غلام نہیں رہیں گی۔ نوجوان اگر نکاح کو آسان بنانے کا عہد کریں اور جہیز یا غیر ضروری مطالبات سے دستبردار ہو جائیں تو معاشرہ خود بخود بدلنے لگے گا۔ قرآن کا اصول واضح ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نکاح کو دوبارہ اس کے اصل مقام پر لے آئیں ایک سادہ، باوقار اور بابرکت سنت کے طور پر۔ مساجد میں نکاح کا انعقاد، مختصر ولیمہ، واضح رہے کہ ولیمہ شادی کے بعد کا وہ کھانا جو شادی کی خوشی میں دیا جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ولیمہ سنت مؤکدہ ہے، یعنی بہت زیادہ مستحب اور سراہا جانے والا عمل ہے لیکن یہ فرض نہیں ہے، یعنی شادی کی صحت یا قبولیت اس سے مشروط نہیں ہے۔ لہذا تمام غیر ضروری رسومات کا خاتمہ اور بچیوں کے حقوق کا تحفظ وہ عملی اقدامات ہیں جو فوری طور پر اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی اور سماجی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ منبر و محراب اور میڈیا کے ذریعے اس شعور کو عام کریں۔
آخرکار، نکاح صرف دو انسانوں کا معاہدہ نہیں بلکہ ایک معاشرتی عہد ہے۔ اگر ہم اپنے لیے آسانی چاہتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی آسانی کو پسند کریں۔ یہی ایمان کا تقاضا اور اخوتِ اسلامی کا جوہر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، اعتدال اور سادگی کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو ان رسومات سے نجات دے جو شریعت کی روح کے منافی ہیں۔ جب نکاح آسان ہوگا تو گھروں میں سکون اترے گا، دلوں میں محبت پروان چڑھے گی اور معاشرہ حقیقی معنوں میں ایک صالح اور متوازن امت کی صورت اختیار کرے گا۔

