Ye Ramzan Kyun Hai?
یہ رمضان کیوں ہے؟

نبی کریمﷺ صحابہ کرام کی محفل میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپﷺ نے ایک ایسی خوشخبری سنائی جس نے سب کے دلوں میں تجسس پیدا کر دیا۔ آپﷺ نے فرمایا: "ابھی تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا جو جنتی ہے"۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک انصاری صحابی داخل ہوئے جن کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا۔ دوسرے اور تیسرے دن بھی بعینہٖ یہی منظر دہرایا گیا۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے یہ جاننے کے لیے کہ اس شخص کا وہ کون سا عمل ہے جس پر آقاﷺ نے اسے زندگی میں ہی جنت کی سند دے دی، ان کے ہاں تین دن قیام کیا۔ مگر انہوں نے دیکھا کہ وہ صحابی کوئی بہت زیادہ نفل یا غیر معمولی وظائف نہیں کرتے تھے۔ جب حضرت عبداللہ نے ان سے ان کے اس خاص عمل کے بارے میں پوچھا، تو انصاری صحابی نے ایک ایسا جملہ کہا جو رہتی دنیا تک کے لیے اخلاصِ نیت کا پیمانہ بن گیا:
"میرا عمل بس وہی ہے جو تم نے دیکھا، البتہ (ایک بات ہے کہ) میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے لیے کینہ (بغض) نہیں رکھتا اور اللہ نے کسی کو جو نعمت دی ہے، میں اس پر حسد نہیں کرتا"۔ (مسند احمد، سنن نسائی)
یہی وہ "صفائے قلب" اور "انا کی نفی" ہے جو رمضان المبارک کا اصل تقاضا ہے۔ زمین و آسمان کے گردش کرتے ماہ و سال میں، رمضان وہ مقدس ترین مہینہ ہے جو خاص طور پر انسانوں اور جنوں کو قدرت کا ایک عظیم تحفہ بنا کر عطا کیا گیا ہے۔ اس مہینے کو اگر محض "عبادات کا مہینہ" کہنے کے بجائے "اصلاحِ نیت کا مہینہ" کہا جائے تو یہ زیادہ قرینِ انصاف ہوگا۔ کیونکہ درحقیقت یہ تیس دن اللہ کی رضا کی خاطر اپنی انا، اپنی خودی اور اپنی جسمانی فکر کو ختم کر دینے کا نام ہیں۔
اس ماہِ مبارک میں خلوصِ نیت کا عمل دخل سب سے زیادہ ہے۔ یہی وہ خلوص ہے جس کی بنا پر پروردگار نے اس کا اجر کسی فرشتے کے سپرد کرنے کے بجائے اپنے پاس رکھا ہے۔ حدیثِ قدسی میں رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ابنِ آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا"۔ (صحیح بخاری)
لیکن آج کے دور میں ہم نے اس عبادت کے جوہر کو اپنی سہولت کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ یاد رکھیے، نیت کا تضاد عبادت کو عادت میں بدل دیتا ہے۔ اگر آپ اس ماہ میں بھوکا رہنے کی نیت صرف "جسمانی ڈائٹنگ" یا وزن کم کرنے کی رکھیں گے، تو یہ "اخلاصِ روزہ" نہیں بلکہ محض ایک طبی مشق بن کر رہ جائے گا۔ نیت کا رخ اگر ذرا سا بھی بدل جائے تو عبادت کی روح فنا ہو جاتی ہے۔
اسی طرح، دورِ حاضر کے اشتہارات نے رمضان کو "صرف کھانے پینے" کے ایک مہنگے تہوار میں بدل دیا ہے۔ اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر سارا دن صرف افطار کے لذیذ پکوانوں اور سحر و افطار کی فکر میں گزار دے، تو یہ روزہ اس کے نفس کو قابو کرنے کے بجائے "نفسانی اشتہا" کو مزید ہوا دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ آقاﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "جس نے ایمان اور احتساب (خلوصِ نیت اور خود احتسابی) کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے"۔ (صحیح بخاری)
رمضان کا یہ پورا مہینہ دراصل اس الٰہی امتحان کی یادگار ہے جو قرآن میں طالوت اور ان کے لشکرکے قصے میں بیان ہوا ہے۔ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 249 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر باہر نکلا تو اس نے کہا: یقیناً اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے، سو جس نے اس سے (جی بھر کر) پانی پی لیا وہ مجھ میں سے نہیں اور جس نے اسے چکھا تک نہیں وہ یقیناً مجھ میں سے ہے، مگر وہ جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے"۔
یہ واقعہ تب کا ہے جب طالوت کا لشکر جالوت کے زبردست لشکر سے مقابلے کے لیے نکلا۔ سخت پیاس کا عالم تھا، سامنے ٹھنڈے پانی کی نہر تھی مگر حکم الٰہی نے اس پیاس پر صبر کا مطالبہ کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے اپنی پیاس اور خواہش کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور پانی پی لیا، ان کے دل دشمن کے سامنے کمزور پڑ گئے اور وہ ہمت ہار گئے۔ مگر جنہوں نے اس نہر کے گرد صبر کیا، وہی میدانِ عمل میں ثابت قدم رہے اور مٹھی بھر ہونے کے باوجود فتح یاب ہوئے۔
درحقیقت رمضان وہی نہر ہے، جس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں میں سے "خلوصِ نیت" والوں کو چنتا ہے۔ اللہ کو بھوکا پیاسا رکھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس کی تسبیح و عبادت کے لیے تو زمین و آسمان اور فرشتے ہر وقت مستعد اور موجود ہیں۔ یہ تو محض ایک انتخاب کا عمل ہے تاکہ وہ دیکھ لے کہ کون اس کی خاطر اپنی انا اور نفسانی جبلت کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔ لہٰذا، اسے مبارکبادوں اور کھانوں میں ضائع مت کریں، بلکہ اپنے نفس پر اسے لاگو کریں تاکہ آپ بھی ان "چنے ہوئے" لوگوں میں شامل ہو سکیں جن کا اجر اللہ نے اپنے ذمہ رکھا ہے۔

