Ramzan Shareef Ki Aamad Aur Pera Force Ki Zimmedari
رمضان شریف کی آمد اور پیرا فورس کی ذمہ داری

جب رمضان المبارک آتا ہے تو رحمتوں کی بارش تو ضرور ہوتی ہے پورا ماحول پاکیزگی میں بدل جاتا ہے۔ لوگوں کے معمولات اور طرز زندگی میں تبدیلی نظر آتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں بازاروں میں اشیاء خوردونوش میں قیمتوں میں اضافے کا ایک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوجاتا ہے۔ ایسے میں جب ہماری مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں اور جب شیطان کے قید ہونے کی روایت سنائی جاتی ہے، ناجانے کیوں بازاروں میں منافع خوری اور لالچ آزاد ہو جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب انسانی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو ہماری منافع خوری کی شرح اچانک بڑھ کیوں جاتی ہے؟ یہ سوال صرف اخلاقی یا جذباتی نہیں بلکہ معاشی، سماجی اور مذہبی بھی ہے۔ ہم بھی عجیب قوم ہیں ایک جانب صدقہ، زکوۃ و خیرات بڑھتی ہے اور تراویح کے لیے رات بھر عبادت ہوتی ہے تو دوسری جانب چینی، آٹا، بیسن، کھجور، پھل اور گوشت کی طلب بھی بڑھتی ہے اور ان کے ریٹ بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عام معاشی اصول یہی ہے کہ طلب بڑھے تو قیمت بھی بڑھتی ہے مگر سوچنا یہ ہے کہ یہ اضافہ فطری ہوتا ہے یا مصنوعی؟
ہمارے ہاں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ایک غیر اعلانیہ تہوار بن جاتی ہے۔ چند بڑے تھوک فروش یا ذخیرہ اندوز اپنا مال سال بھر رمضان شریف کے انتظار میں روکے رکھتے ہیں اور مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں اور پھر رمضان کے آتے ہی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ کاش ہمارے یہ دوکاندار بھائی مہنگا فروخت کرکے زیادہ کمانے کی بجائے زیادہ بیچ کر زیادہ منافع کمانے کی سوچ پیدا کریں تو اللہ کی بے شمار برکات بھی حاصل کر لیں۔ رمضان صرف بھوک کا نام نہیں یہ ضبط نفس کا بھی نام ہوتا ہے۔ اگر روزہ ہمیں صرف سحری وافطاری کے اوقات کا پابند تو بنائے اور تجارت میں دیانت نہ سکھائے تو روزے کی روح کہاں گئی؟
مدینہ کی مارکیٹ میں سرکار دوعالم ﷺ خود نگرانی فرماتے تھے۔ آج ہم عبادات تو کرتے ہیں مگر منڈی کی اخلاقیات بھول جاتے ہیں۔ رمضان شریف اگر تزکیہ کا مہینہ ہے تو بازار میں بھی یہ نظر آنا چاہیے ورنہ یوں لگتا ہے کہ ہم نے تو روزہ رکھا ہوا ہے مگر ہمارے بازاروں پر اس کے کچھ اثرات نہیں ہیں۔
وزیر اعلی پنجاب کا احسن اقدام کہ پیرا فورس کو ٹارگٹ دے دیا گیا ہے کہ تمام کام چھوڑ دے اور صرف رمضان المبارک میں ہر دوکان پر ریٹ چیک کئے جائیں گے جس دوکان کا ریٹ زیادہ ہوگا اس کو سیل کردیا جائے گا اور ایف آئی آر درج ہوگی۔ صوبائی حکومتیں، ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں پہلے بھی موجود ہوتی تھیں مگر یہ کاغذوں تک ہی متحرک نظر آتی تھیں اور بازار میں دوکاندار اپنی مرضی کا نرخ وصول کرتا تھا۔ کیونکہ جب نگرانی اور مانیٹرنگ کمزور ہو تو منافع خور اپنی من مرضی کرتے ہیں۔ اب انشااللہ پیرا فورس کی مانیٹرنگ ضرور رنگ لائے گی موجودہ حکومت پنجاب کی یہ ہدایات یقیناََ قابل تحسین وتعریف ہیں کیونکہ اس سے قبل پیرا فورس نے بلا تفریق ناجائز تجاوازت کے خاتمے کے لیے ایک مثالی اور زبردست کارنامہ انجام دیا ہے۔
دوسری جانب حکومت پنجاب نے ضلع بھر میں سہولت بازار قائم کردئیے ہیں۔ ان سہولت بازاروں کا مقصد عوام الناس کو اشیائے خوردونوش سرکاری نرخوں پر معیاری فراہمی ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ سب کچھ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ بطور ایک مسلمان ہمارے بھی کچھ انفرادی اور اجتماعی فرائض ہوتے ہیں جن کی ادائیگی صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ ہمیشہ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر سستی رمضان مارکیٹوں کا اہتمام کریں اور ناجائز منافع خوروں سے خریداری ترک کر دیں۔ ہمارا منبر اور میڈیا معاشی اخلاقیات کو اجاگر کرئے۔ کہتے ہیں کہ انفرادی ذمہ داری کردار کو درست کرتی ہے جبکہ اجتماعی ذمہ داری نظام کو درست کرتی بھی اور رکھتی بھی ہے۔ اصل اصلاح تب ہی آتی ہے جب فرد کا ضمیر اور نظام کا قانون دونوں بیدار ہوں۔
میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ایک انکشاف پڑھ رہا تھا کہ دودھ کی دوکانوں سے ایک ہزار پچاس سیمپل لئے گئے جس میں سے نو سو ستر دکانوں کا دودھ پاوڈر یا کیمیکل سے تیار کرنے کا پتہ چلا ہے۔ رمضان المبارک میں دودھ اور دہی کا استعمال بڑھ جاتا ہے اس لیے ریٹ کے ساتھ ساتھ دودھ کی کوالٹی پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ جیسی گھناونی حرکت دوران رمضان المبارک سخت کاروائی کی متقاضی ہے۔ وزن اور پیمانے کی درستگی ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اگر روزہ رکھ کر بھی کم تولنا ہے تو پھر شاید روزہ کی قبولیت نہیں ہوتی۔
انفرادی ذمہ داری یہ وہ دائرہ ہے جس میں ہر فرد اپنی ذات، نیت اور عمل کا خود جواب دہ ہوتا ہے۔ تاجر نفع کمائے مگر ناجائز منافع خوری نہ کرئے۔ خریدار ضرورت کے مطابق خریداری کرئے ذخیرہ اندوزی میں شریک نہ ہو۔ ملاوٹ، جھوٹ وزن میں کمی اور دھوکے سے پرہیز کرئے۔ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے مقررہ نرخوں کی پابندی کرئے۔ رمضان میں روزہ بھوک برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ نفس کی تربیت کا نام ہے۔ اگر ہم انفرادی طور پر اپنا کردار درست کر لیں تو بازار کا مزاج بدل سکتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ صادق آباد کی مشہور دوکان سجاول سویٹ والے رمضان شریف میں افطاری کے پراڈکٹ کی قیمت پورے ماہ نصف کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی بہت سے لوگ رمضان شریف میں اپنے منافع کو ثواب سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ بہاولپور میں کئی جگہ مفت افطاری و سحری کے دسترخوان کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایسی طرز پر ہر تاجر رمضان شریف کے دوران خصوصی سیل اور رعایت کے ذریعے منافع اور ثواب دونوں کما سکتا ہے۔
اجتماعی ذمہ داری دراصل وہ ذمہ داری ہے جو معاشرئے، ادارئے اور حکومت مل کر ادا کرتے ہیں۔ مثلاََ حکومت اور انتظامیہ قیمتوں کی نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کاروائی اور سستے بازاروں کا قیام کرے۔ جبکہ تاجر تنظیمیں اپنے ممبران کو ضابطہ اخلاق اور کاروباری مزاج کا پابند بنائیں اور اشیاء خوردونوش پر رمضان پیکج کی طرز پر قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کریں۔ علما کرام اور میڈیا معاشی انصاف اور دیانت کا شعور اجاگر کریں اور سول سوسائٹی منافع خوروں کا سماجی بائیکاٹ کرئے۔
کہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں اجتماعی نگرانی کا تصور "حسبہ" کی شکل میں موجود تھا جہاں بازار کی اخلاقیات کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی تھی۔ جیسا کہ حکومت پنجاب نے پہلی مرتبہ پیرا فورس کو یہ ٹاسک سونپا ہے اور سہولت بازار قائم کئے جارہے ہیں۔ اگر چند رمضان بازار ہی لگا دئیے جائیں تو لوگوں کو بڑا ریلیف ملتا ہے۔ قیمتیں کنٹرول کرنا یا ان کی مانیٹرنگ کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے صرف ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کو قبول کرنا ہوگا۔ بہر حال وزیر اعلیٰ پنجاب کی یہ کاوش اور خواہش قابل ستائش ہے جو یقیناََ معاشرتی بہتری کا سبب بنے گی۔

