Thursday, 19 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Nikharne Aur Bikharne Mein Farq

Nikharne Aur Bikharne Mein Farq

نکھرنے اور بکھرنے میں فرق

نکھرنے اور بکھرنے میں واقعی صرف ایک نقطے کا فرق ہے اور وہ نقطہ آپ خود ہیں۔ اگر آپ لفظوں کو غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ نکھرنے اور بکھرنے کے بیچ بس ایک نقطہ حائل ہے مگر یہی نقطہ انسان کی پوری تقدیر بدل دیتا ہے بات محض لفظیات کی نہیں یہ انسانی نفسیات اور کردار کی تہہ میں اترنے والی حقیقت ہے ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر فرد کسی نہ کسی آزمائش کی زد میں ہے کوئی معاشی دباؤ میں دبا ہوا ہے کوئی سماجی ناانصافی کے بوجھ تلے ہے کوئی رشتوں کی شکست و ریخت کا مسافر ہے۔

حالات کی آندھی سب پر یکساں چلتی ہے لیکن سب کا انجام یکساں نہیں ہوت۔ سوال یہ ہے کیوں فرق اسی نقطے کا ہے یہ نقطہ دراصل وہ شعوری لمحہ ہے جب انسان فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے زخموں کو ناسور بنائے گا یا نشانِ جنگ سمجھ کر سینہ تان لے گا۔ کچھ لوگ اپنے دکھوں کو سینے سے چمٹا لیتے ہیں انہیں اپنا تعارف بنا لیتے ہیں وہ ہر گفتگو میں اپنی محرومیوں کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں گویا زندگی نے ان سے کوئی ذاتی دشمنی نبھائی ہو اور کچھ لوگ انہی محرومیوں کو سیڑھی بنا کر اوپر اٹھ جاتے ہیں۔

یہاں تاریخ گواہ ہے کہ عظمت کے سفر عموماً آسان نہیں ہوتے جو لوگ نکھرے ہیں وہ عموماً ٹوٹ کر ہی نکھرے ہیں۔ آگ میں گزرے بغیر سونا خالص نہیں ہوتا لیکن سب سونا نہیں بنتے کچھ لوگ اسی آگ میں جل کر راکھ بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ فیصلہ کون کرتا ہے نہ حکومت نہ معاشرہ نہ قسمت بلکہ وہ چھوٹا سا نقطہ جو آپ کے اندر ہے یہ نقطہ دراصل خود احتسابی ہے یہ وہ لمحہ ہے جب آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سوال کرتے ہیں میں حالات کا اسیر ہوں یا اپنے ردِعمل کا مالک؟ ہم اپنے زخموں کے ذمہ دار شاید نہ ہوں، مگر اپنے رویّوں کے ضرور ہیں یہی رویہ نکھار اور بکھار کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔

آزمائش جب آتی ہے تو وہ دروازہ نہیں دیکھتی وہ امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی وہ عالم اور جاہل کو یکساں پرکھتی ہے مگر آزمائش کا جواب سب کا مختلف ہوتا ہے کوئی شخص ناکامی کے بعد خود کو مٹا دیتا ہے اور کوئی اسی ناکامی کو اپنی کہانی کا نیا باب بنا لیتا ہے۔ بکھر جانا آسان ہے اس کے لیے ارادہ نہیں چاہیے، بس ردِعمل کافی ہے ذرا سی تنقید، ذرا سا انکار، ذرا سی محرومی اور انسان اندر سے چٹخنے لگتا ہے مگر نکھرنا۔۔

یہ عمل صبر کا ہے شعور کا ہے اور سب سے بڑھ کر خود پر یقین کا ہے یہ وہ مرحلہ ہے جہاں آپ کو خود اپنے اندر عدالت قائم کرنی پڑتی ہے فیصلہ سنانا پڑتا ہے کہ آپ حالات کے مجرم بنیں گے یا کردار کے معمار یاد رکھئے دنیا آپ کو کبھی مکمل انصاف نہیں دے گی لوگ آپ کو سمجھ بھی نہیں پائیں گے آپ کے سچ کو بھی شک کی عینک سے دیکھا جائے گا۔ مگر اگر آپ نے اپنے اندر کے اس نقطے کو مضبوط رکھا تو بیرونی طوفان آپ کو بکھیر نہیں سکیں گے۔

زندگی دراصل امکانات کا نام ہے ہر شکست کے اندر ایک پوشیدہ سبق ہے ہر محرومی کے اندر ایک خاموش موقع سوال یہ نہیں کہ ہمیں کیا ملا سوال یہ ہے کہ ہم نے جو ملا اس کے ساتھ کیا کیا؟

نکھرنے والے لوگ اپنے دکھوں کو دلیل بنا لیتے ہیں جبکہ بکھرنے والے لوگ اپنے دکھوں کو دلیل بنا کر رک جاتے ہیں یہی فرق ہے لہٰذا جب آئندہ زندگی آپ کو کسی موڑ پر لا کھڑا کرے جب راستے مسدود دکھائی دیں جب دوست کم اور مخالف زیادہ نظر آئیں تو ذرا ٹھہر کر اپنے اندر جھانکیے دیکھئے وہ نقطہ ابھی روشن ہے یا مدھم پڑ چکا ہے کیونکہ الفاظ میں تو فرق معمولی سا ہے مگر کردار میں یہ فرق پوری داستان بدل دیتا ہے نکھرنے اور بکھرنے کے بیچ جو چھوٹا سا نقطہ کھڑا ہے وہ تقدیر کا لکھا ہوا حرف نہیں وہ آپ کا چُنا ہوا فیصلہ ہے۔

جی ہاں، نکہرنے اور بکھرنے میں فرق صرف ایک نقطے کا ہے وہ نقطہ جو ن۔ کو ب۔ سے الگ کرتا ہے اور وہی نقطہ دراصل انسان کے اندرونی ارادے نظرِ تازہ اور روح کی چاشنی کا نام ہے جہاں زخموں کی بارش میں ایک شخص اپنے ٹکڑوں کو بکھیر کر ویرانی کی آغوش میں سمٹ جاتا ہے وہیں دوسرا وہی زخموں کو چھان کر ان کی آگ میں تپا کر خود کو سنوار لیتا ہے جیسے کوئلہ الماس بننے کے لیے اندھیرے اور دباؤ کو اپنا زیور بنا لیتا ہے۔ نکھار دراصل بکھرنے کی ہی ایک شائستہ اور بہادر صورت ہے جہاں بکھرنا شکست کا اعلان کرتا ہے وہیں نکھرنا اسی شکست کو جھٹکا دے کر چمک اٹھنے کا فن سکھاتا ہے یہ ایک نقطہ ہی تو ہے مگر اس نقطے میں پوری زندگی کا راز چھپا ہے یا تو بکھر کر مٹی میں مل جانا یا نکھر کر ستاروں کی مانند جگمگانا۔۔

Check Also

Balochistan Mein Kya Karne Ki Zaroorat Hai?

By Amir Khakwani