Thursday, 19 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Khairat Ke Naam Par Karobar: Maghrib Ka Model Ya Muqami Dhoka?

Khairat Ke Naam Par Karobar: Maghrib Ka Model Ya Muqami Dhoka?

خیرات کے نام پر کاروبار: مغرب کا ماڈل یا مقامی دھوکہ؟

یہ بات ابتدا ہی میں واضح ہونی چاہیے کہ یہاں "ٹرسٹ" سے مراد اعتماد نہیں بلکہ خیراتی ادارہ ہے، وہ ادارہ جس کے نام پر لوگوں سے ہمدردی، درد اور دیانت کے وعدے لے کر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر وہی ادارہ رفتہ رفتہ ایک بڑے کاروباری ڈھانچے میں بدل جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مغرب میں فلاحی ادارے ہوتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا مغرب میں بھی خیرات کے نام پر لوگوں کو متاثر کرکے، ان کے جذبات سے کھیل کر اور شفافیت سے گریز کرکے ذاتی یا گروہی فائدہ اٹھانا ایک "عام روایت" بن چکا ہے؟ اور اگر ایسا کہیں ہوتا بھی ہے تو کیا ہمیں اسی راستے کو ترقی کا ماڈل بنا لینا چاہیے؟

اس تناظر میں جب عمران خان کے قائم کردہ خیراتی اداروں کا ذکر آتا ہے تو ایک تلخ مگر ضروری بحث جنم لیتی ہے، وہ بحث جو جذبات سے نہیں بلکہ اصولوں سے ہونی چاہیے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ مغرب میں رہ کر اس نے نہ صرف یہ دیکھا کہ خیرات کس طرح برانڈ بن سکتی ہے بلکہ یہ بھی سیکھا کہ ہمدردی کو سرمایہ میں کیسے بدلا جاتا ہے۔ پاکستان آ کر اسی "ماڈل" کو مقامی مذہبی اور اخلاقی جذبات کے ساتھ جوڑ دیا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ خیرات کا نام تو رہا، مگر فائدہ چند مخصوص ہاتھوں تک محدود ہوگیا۔

شوکت خانم ہو یا نمل یونیورسٹی، ان اداروں کی نیت پر فیصلہ دینا آسان نہیں، مگر ان کے نظام پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ ایک سنجیدہ معاشرے میں خیراتی ادارے جذبات سے نہیں، حساب کتاب سے جانچے جاتے ہیں۔ جب اربوں روپے چندے کی صورت میں اکٹھے ہوں تو عوام کا پہلا سوال یہی ہونا چاہیے کہ شفافیت کہاں ہے؟ آزاد آڈٹ کہاں ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ان اداروں کا فائدہ واقعی عام آدمی تک پہنچا، یا وہ صرف ایک ایسی تصویر بن گئے جس کے پیچھے ایک بڑا بزنس کھڑا ہوگیا؟

ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ خیراتی اداروں کی آڑ میں وہ سب سہولتیں حاصل کی گئیں جو عام کاروباری ادارے کبھی حاصل نہیں کر سکتے، ٹیکس میں نرمی، زمینوں کی ارزاں یا مفت فراہمی اور ریاستی اداروں کی غیر معمولی مہربانی۔ اگر یہ سب کچھ درست ہے تو پھر سوال محض عمران خان کا نہیں، پورے نظام کا بنتا ہے جو خیرات کے نام پر کاروبار کو تحفظ دیتا ہے اور حساب مانگنے والوں کو بدگمان یا دشمن بنا دیتا ہے۔

مغرب میں فلاحی اداروں کی روایت کو اکثر مثالی بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر وہاں بھی سخت قوانین، شفاف آڈٹس اور سخت نگرانی کا نظام موجود ہے۔ وہاں اگر کوئی فاؤنڈیشن اربوں ڈالر جمع کرتی ہے تو اسے ہر سال عوام کے سامنے ایک ایک پیسے کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ وہاں خیرات کو کاروبار بنانا آسان نہیں، کیونکہ ریاست اور میڈیا دونوں اس پر نظر رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہم نے مغرب سے صرف وہ چیز سیکھی جو ہمیں فائدہ دیتی تھی، برانڈنگ، امیج بلڈنگ اور جذباتی اپیل، مگر وہ نظام نہیں اپنایا جو اس سب کو شفاف بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں خیراتی ادارے بھی اکثر مقدس گائے بن جاتے ہیں، جن سے سوال کرنا گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان کی شخصیت نے اس تقدس کو مزید مضبوط کیا، ایک طرف وہ دیانت اور تبدیلی کا نعرہ لگاتے رہے، دوسری طرف ناقدین کے مطابق انہی نعروں کی اوٹ میں وہ سب کچھ ہوتا رہا جو ایک عام شہری یا تاجر کے لیے ناممکن تھا۔

یہاں بات الزامات لگانے کی نہیں، بلکہ اصول قائم کرنے کی ہے۔ اگر واقعی یہ دعویٰ درست ہے کہ خیراتی اداروں کے ذریعے ایک بڑی ذاتی دولت اور سیاسی طاقت کی بنیاد رکھی گئی، تو پھر یہ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی شعور کی ناکامی ہے۔ ہم نے سچ پوچھنے کے بجائے نعرے پر یقین کیا، ہم نے حساب مانگنے کے بجائے عقیدت میں سر جھکا دیا۔ مغرب میں اگر کوئی فلاحی ادارہ سوالوں کے گھیرے میں آتا ہے تو اسے "احتساب" کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں اسے "کردار کشی" کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یہی فرق ہے جو ہمیں پیچھے رکھتا ہے۔ ہم نے خیرات کو عبادت تو سمجھا، مگر اسے نظام بنانے کی زحمت نہ کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خیرات بھی ایک صنعت بن گئی، ایسی صنعت جس میں ہمدردی خام مال ہے اور طاقت تیار شدہ مال۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خیراتی ادارے اگر واقعی عوامی خدمت کا ذریعہ ہوں تو انہیں سب سے زیادہ شفاف ہونا چاہیے، نہ کہ سب سے زیادہ مبہم۔ اگر کسی ادارے کو اربوں روپے کی زمینیں ملیں، تو عوام کا حق ہے کہ وہ پوچھیں: کن شرائط پر؟ کس بنیاد پر؟ اور کس فائدے کے بدلے؟ اگر کسی ادارے کو ٹیکس میں رعایت ملی، تو سوال ہونا چاہیے کہ کیا یہ رعایت عوامی فائدے کے تناسب سے ہے یا صرف نام کے لیے؟ اور اگر کسی ادارے کا آڈٹ آزاد نہیں، تو پھر اس کی دیانت کا دعویٰ محض ایک اخلاقی بیان رہ جاتا ہے، قانونی حقیقت نہیں بنتا۔ عمران خان کے حامیوں کے لیے یہ سوال شاید ناگوار ہوں، مگر جمہوری معاشروں میں سوال ناگوار نہیں ہوتے، خاموشی خطرناک ہوتی ہے۔

آخر میں مسئلہ عمران خان یا کسی ایک شخصیت کا نہیں، مسئلہ اس سوچ کا ہے جس کے تحت ہم خیرات کو بھی سیاست اور کاروبار کے درمیان ایک سہولت بنا دیتے ہیں۔ اگر مغرب میں کہیں یہ ماڈل رائج ہے کہ خیراتی ادارے بنا کر امیج بنایا جائے، پھر اسی امیج کو دولت اور طاقت میں بدلا جائے، تو ہمیں اسے اندھا دھند اپنانے کے بجائے اس سے سیکھنا چاہیے کہ کہاں یہ ماڈل ناکام ہوا اور کہاں اسے قانون نے روکا۔

پاکستان کو ایسے خیراتی اداروں کی ضرورت ہے جو واقعی عام آدمی کے لیے ہوں، نہ کہ ایسے ڈھانچوں کی جو چند مخصوص لوگوں کو ارب پتی بنانے کا ذریعہ بنیں۔ اگر ہم نے اب بھی یہ فرق نہ سمجھا تو کل ہر کاروبار خیرات کہلائے گا، ہر سیاست دان فلاحی رہنما بن جائے گا اور ہر سوال کرنے والا غدار۔ یہی وہ انجام ہے جس سے ہمیں ڈرنا چاہیے، کیونکہ اس انجام میں نہ خیرات بچے گی، نہ اعتماد اور نہ ہی وہ اخلاقی بنیاد جس پر کسی معاشرے کی اصل دولت قائم ہوتی ہے۔

Check Also

Khairat Ke Naam Par Karobar: Maghrib Ka Model Ya Muqami Dhoka?

By Asif Masood