Maqbooliyat Bamuqabla Qabooliyat: Imran Khan Ka Siasi Bayania
مقبولیت بمقابلہ قبولیت: عمران خان کا سیاسی بیانیہ

پاکستان کی سیاست میں ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے، کیا محض عوامی مقبولیت اقتدار اور اثر و رسوخ کے لیے کافی ہے، یا اس کے ساتھ ریاستی و ادارہ جاتی قبولیت بھی ناگزیر ہوتی ہے؟ اس سوال کا سب سے نمایاں حوالہ آج کل عمران خان کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، جن کی سیاسی جدوجہد نے مقبولیت اور قبولیت کے درمیان فرق کو واضح تر کر دیا ہے۔
عمران خان کی سیاست کا بنیادی سرمایہ عوامی جوش و جذبہ رہا ہے۔ ایک کرکٹ ہیرو سے سیاسی قائد تک کا سفر محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک منظم بیانیے کا نتیجہ تھا۔ بدعنوانی کے خلاف آواز، احتساب کا نعرہ اور "نیا پاکستان" کا خواب یہ وہ عناصر تھے جنہوں نے نوجوان نسل کو ان کے گرد جمع کیا۔ 2018 کے انتخابات میں ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی اسی عوامی تائید کا مظہر تھی۔
لیکن اقتدار کا ایوان جلسوں کی گرمی سے مختلف ہوتا ہے۔ حکمرانی کے تقاضے، معاشی چیلنجز، عالمی دباؤ اور داخلی سیاسی کشمکش یہ سب عوامل کسی بھی رہنما کی آزمائش کرتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کو بھی انہی مسائل کا سامنا رہا۔ مہنگائی، سیاسی تناؤ اور اتحادی سیاست کی نزاکتوں نے ان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ بالآخر تحریکِ عدم اعتماد کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور یوں سیاست کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد جو منظرنامہ سامنے آیا، وہ غیر معمولی تھا۔ جلسوں میں بڑھتی ہوئی شرکت، سوشل میڈیا پر سرگرم حمایت اور بیانیے کی شدت نے ظاہر کیا کہ عمران خان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی بلکہ بعض حلقوں میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں "مقبولیت" اور "قبولیت" کی بحث نے شدت اختیار کی۔
پاکستان جیسے سیاسی ڈھانچے میں محض عوامی مقبولیت کافی نہیں سمجھی جاتی۔ ریاستی اداروں، عدالتی نظام اور طاقت کے دیگر مراکز کے ساتھ ہم آہنگی کو بھی سیاسی استحکام کے لیے ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ عمران خان نے بعض مواقع پر محاذ آرائی کو ترجیح دی، جس کے باعث ان کی ادارہ جاتی قبولیت متاثر ہوئی۔ ان کے حامی اسے اصولی مؤقف اور حقیقی آزادی کی جدوجہد قرار دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی سیاست ابھی تک اس بنیادی توازن کو مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکی جہاں عوامی مینڈیٹ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں۔ عمران خان کی مثال اس خلا کو نمایاں کرتی ہے۔ اگر کوئی رہنما کروڑوں لوگوں کی حمایت رکھتا ہو مگر طاقت کے دیگر مراکز سے فاصلے پر ہو، تو نظام میں کشیدگی پیدا ہونا فطری امر ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان نے سیاست میں نوجوانوں کو متحرک کیا ہے۔ ایک ایسی نسل جو پہلے سیاسی عمل سے دور سمجھی جاتی تھی، آج جلسوں، سوشل میڈیا اور مباحثوں میں فعال دکھائی دیتی ہے۔ یہ تبدیلی وقتی نہیں بلکہ ایک سماجی رجحان کی علامت ہے۔ تاہم اس توانائی کو مثبت اور پائیدار سیاسی ڈھانچے میں ڈھالنا قیادت کی ذمہ داری ہے۔ مقبولیت کا گراف وقتی طور پر بلند ہو سکتا ہے، مگر قبولیت کے بغیر نظامی استحکام مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح قبولیت اگر عوامی تائید سے خالی ہو تو وہ دیرپا نہیں رہتی۔ عمران خان کی سیاست اسی دو رخی حقیقت کا مظہر ہے۔ وہ ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنی عوامی طاقت کو سیاسی حکمتِ عملی اور مفاہمت کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔
بالآخر سوال عمران خان تک محدود نہیں۔ یہ سوال پاکستان کے سیاسی مستقبل سے جڑا ہے کیا ہم ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ سکتے ہیں جہاں مقبولیت اور قبولیت ایک دوسرے کی تکمیل کریں، نہ کہ مقابل؟ اگر ایسا ممکن ہو جائے تو سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور جمہوری تسلسل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت ایک حقیقت ہے اور ان کی قبولیت ایک جاری عمل۔ آنے والا وقت طے کرے گا کہ یہ دونوں عناصر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں یا سیاسی کشمکش کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے پاکستانی سیاست اب اس بحث سے نظریں نہیں چرا سکتی۔

