Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Asif Mehmood/
  3. Stupid This Is Economy

Stupid This Is Economy

اس وقت قومی اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے پیش نظر سب سے بڑا بحران، بادی النظر میں، معیشت کا ہے۔ قومی سیاسی جماعتوں کو افراط زر، مہنگائی، قرض کے بوجھ اور ڈگمگاتی معیشت کے بحران کا سامنا ہے تو مذہبی سیاسی جماعتوں کے سامنے ان کے ساتھ ساتھ سودی معیشت کے حوالے سے ہونے والی تازہ پیش رفت بھی ایک چیلنج بن کر کھڑی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں چیلنجز سے نبٹنے کے لیے ہر دو گروہوں میں کتنی صلاحیت ا ور کتنی یکسوئی ہے؟

مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کشمکش اقتدار کی بنیادی حریف ہیں اور زمینی حقائق میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہ آ گئی تو یہ بات طے ہے کہ اقتدار میں ان کے حلیف تو بدلتے رہیں گے لیکن اقتدار بنیادی طور پر ان ہی تین جماعتوں میں سے کچھ کے پاس رہے گا۔ بھلے الگ الگ یا کسی اتحادی حکومت کی شکل میں، اقتدار کی بڑی امیدوار بہر حال یہی جماعتیں ہیں۔ ان تینوں جماعتوں کے وابستگان کے پاس وقت ہو تو خود سے اور اپنی قیادت سے سادہ سا یہ ایک سوال ہی پوچھ لیں کہ ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے اور اسے بحران سے نکالنے کے لیے ان کی پاس کون سی ٹیم ہے اور اس ٹیم کی قابلیت اور مہارت کا عالم کیا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی، موجودہ سیاسی منظرنامے میں، سب سے " برگزیدہ" سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان کا پہلا متفقہ آئین جو منتخب پارلیمان نے بنایا، اسی کے دور حکومت کا واقعہ ہے جس کی بنیاد پر وہ خود کو تہتر کے آئین کی خالق، جماعت بھی کہتی ہے۔ معیشت سے اس کی وابستگی بھی بہت پرانی ہے۔ اس نے نہ صرف روٹی کپڑے اور مکان کی بنیاد پر سب سے پہلے معیشت کی سیاست کی بلکہ اس نے یہ نعرہ بھی دیا کہ سوشلزم ہماری معیشت ہے،۔ گویا اس کے ہاں معیشت ایک نظریاتی محاذ بھی تھا۔ لیکن اس جماعت کے پاس معیشت کو دیکھنے کے لیے اگر ماہرین کی کوئی ٹیم ہے توبتا دیجیے؟ اس کے پاس کسی بھی سطح پر کوئی ادارہ سازی ہو جو معیشت اور دیگر موضوعات پر سنجیدگی سے مباحث کرتی ہو اور اپنی جماعت کو فکری زار داہ مہیا کرتی ہو تو بتا دیجیے۔

پاکستان تحریک انصاف کا حال اس سے بھی برا ہے۔ بائیس سالہ جدوجہد کے ترانے سنا سنا کر یہ اقتدار میں آئی تو اس کا دعوی تھا کہ اس کے پاس مختلف شعبوں کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن معلوم ہوا کہ سب فسانہ تھا۔ اسد عمر صاحب کی معیشت دانی، کا حال یہ تھا کہ رجز پڑھ پڑھ کر بچگانہ انداز میں معیشت کے ساتھ وہ کر گئے کہ خود عمران خان کو کہنا پڑا بھائی صاحب بہت ہو گئی مہربانی کر کے اب کوئی اور وزیر خزانہ آنے دیجیے۔ چنانچہ بائیس سالہ جدوجہد کو نئے وزیرخزانہ کے لیے اپنی بائیس سالہ جدوجہد والی انقلابی ٹیم میں سے ایک بھی بندہ نہ مل سکا اور یہ منصب اسے دینا پڑا جو آصف زرداری کے دور اقتدار میں معیشت کا نگہبان تھا۔

شوکت ترین ہوں یا حفیظ شیخ، یہ سیاسی لوگ ہیں ہی نہیں۔ یعنی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو معیشت چلانے کے لیے جن لوگوں کا سہارا لینا پڑا ووہ غیر سیاسی قسم کے ماہرین معیشت، تھے۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی اپنی بصیرت کہاں گئی جو بین الاقوامی چیلنج کوبھی سمجھتی ہو اور مقامی مسائل کا بھی ادراک رکھتی ہو۔ اور جس کی منزل مقصود محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہ ہو۔

مسلم لیگ ن کا حال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس کی مبلغ معیشت یہ ہے کہ چونکہ عمران خان آئی ایم ایف سے غلط معاہدے کر گئے تھے اس لیے ہم مجبور ہیں"۔ یعنی ان تجربہ کاروں کے پاس نہ تو کوئی متبادل معاشی پلان ہے اور ہی کوئی ویژن۔ ان کی کل صلاحیت صرف یہ ہے کہ عمران کے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کر دی جائے۔ وزارت خزانہ مفتاح اسماعیل کے پاس ہے اور وہ سیاست کے آدمی ہی نہیں ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اعدادو شمار کا کھیل ہی ہوتا ہے اور ہر وقت لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں کہ ابھی تم نے دیکھا ہی کیا ہے، ابھی جو میں تمہارے ساتھ کرنے جا رہا ہوں تم یاد رکھو گے۔ اب اگر سیاسی جماعتوں کی ملک کے سب سے بڑے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی کا عالم یہ ہے تو اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے؟ کبھی کبھی تو یہ احساس ہونے لگتاہے کہ معیشت ایک ایسا معاملہ ہے جو اہل سیاست کے بس کی بات ہی نہیں۔ ان سے بس رات کو ٹاک شوز میں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھلوا لیجیے۔ اس کام میں انہیں ید طولی حاصل ہے۔

اب آئیے سود کے معاملے کی طرف۔ سود کے خلاف عدالتی فیصلے کے بعد بنکوں کی اپیل کے تناظر میں ایک شور سا مچا ہے کہ فلاں فلاں بنک کا بائیکاٹ کر دیجیے ا ور فلاں فلاں بنک میں اکائونٹ کھول لیجیے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک زمانے میں مہم چلی تھی کہ فلاں فلاں مشروب کا بائیکاٹ کر لیجیے ا ور فلاں فلاں مشروب کو امرت سمجھ کر پی لیجیے۔ ایسی مہم سے کتھارسس تو ہو سکتا ہے، معیشت کا رخ نہیں بدل سکتا۔ سوال کچھ اور ہیں جن کے جوابات مذہبی سیاست کے ذمے ہیں۔

ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر سب سے متحرک سیاسی کردار جمعیت علمائے اسلام کا ہے۔ اس کا ہر سیاسی مخالف سیدھا سیدھا یہود کا ایجنٹ اور امت کا غدار قرار پاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس جماعت کے پاس کوئی ایک ایسا آدمی ہے جسے ماہر معیشت کہا جا سکتا ہو؟ برائے وزن بیت دو چار خطابات لڑھکا کر سرخرو ہوجانا اور بات ہے اور سودی معیشت کے خلاف ایک قابل عمل ٹھوس منصوبہ بندی سامنے لانا ایک بالکل دوسری بات ہے۔ اور یہ اس کی ترجیح ہی نہیں ہے۔

جماعت اسلامی بھی چند اقوال زریں تک محدود ہو چکی ہے۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب سیاست سے لاتعلق ہو چکے اور ان کے بعد کوئی ایسا آدمی نہیں جو معیشت پر بات کرے تو استدلال اور حکمت اس کے ہمرکاب ہو۔ اب جذباتیت ہے اور چند رٹی رٹائی باتیں۔ عملی زندگی کے چیلنجز مگر اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

معاشرہ بانجھ نہ ہو چکا ہو اہل فکر و دانش بھی رہنمائی کرنے کو میسر ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جو صاحب دانش مذہب سے لگائو رکھتا ہو اور اسلامی تعلیمات کو سنجیدہ لیتا ہو، بالعموم اس کے تجزیے میں جذبات غالب آ جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ فکر جو ایک سنجیدہ غوروفکر کو مہمیز عطا کر سکتی ہے جذبات کی آگ میں جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔ اس جذباتیت نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ "یہودی سازش"سے زیادہ بڑی سازش ہماری یہ جذباتیت ہے جس نے ہماری فکری راہ کھوٹی کر دی ہے۔

جو ملک دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہو، جس کا وزیر اعظم آئی ایم ایف کے مطالبات کے آگے سر جھکائے کھڑا ہو، جس کی معیشت قرض ملے تو چلے ورنہ دھرنا دے کر بیٹھ جاتی ہو اس ملک کو متبادل معاشی نظام سے پہلے اپنی معاشی خود کفالت کا سوچنا ہو گا۔

Check Also

Mythology

By Sana Shabir