Mustaqbil Barood Ke Hisar Mein
مستقبل بارود کے حصار میں

تو گویا انسانی ترقی کا عروج انسان ہی کی تباہی ہے۔ یہ سوال آج صرف فلسفیانہ نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست کے افق پر ابھرتا ہوا سوال بن چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، جہاں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف براہِ راست کارروائیاں کیں اور ایران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر جواب دیا، دراصل ایک ایسے دور کی علامت ہے جہاں طاقت کا توازن بارود کے سائے میں تشکیل پا رہا ہے۔ قیادت کی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ، بینجمن نیتن یاہو اور مسعود پزشکیان جیسے رہنما اپنے اپنے قومی بیانیے کے تحت فیصلے کر رہے ہیں، مگر ان فیصلوں کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی نظام کس سمت جا رہا ہے۔
آج کی دنیا ایک کثیرالجہتی تصادم کی طرف بڑھتی محسوس ہو رہی ہے جہاں جنگ روایتی میدانوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت، سائبر اسپیس، اطلاعاتی بیانیے اور پراکسی گروہوں تک پھیل چکی ہے۔ پاکستان اور افغانستان پہلے ہی دہشت گردی اور داخلی عدم استحکام کے دباؤ میں ہیں، ایسے میں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خلیج تک پھیلتی ہے تو اس کے معاشی اور سلامتی اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں گی، کیونکہ ان کی سرزمین عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ تیل کی منڈیوں میں ہلچل، سمندری راستوں کا غیر محفوظ ہونا اور سرمایہ کاری کا عدم یقین پوری عالمی معیشت کو ہلا سکتا ہے۔
یہ صورتحال تیسری عالمی جنگ کی پیشگوئی تو نہیں، مگر عالمی نظام کی ازسرِنو تشکیل کی علامت ضرور ہے۔ بڑی طاقتیں جیسے چین اور روس براہِ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے سفارتی اور اسٹریٹجک فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی، جبکہ اقوامِ متحدہ جیسے ادارے جنگ بندی کی اپیلیں تو کریں گے مگر ان کی عملی طاقت محدود دکھائی دے گی۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ دنیا بلاکس میں تقسیم ہو کر ایک سرد مگر مسلسل تصادم کی کیفیت میں داخل ہو جائے گی، جہاں مکمل عالمی جنگ نہ ہو مگر مسلسل علاقائی جنگیں انسانی زندگی کو نگلتی رہیں گی۔
انسانی ترقی نے ہمیں ایٹمی طاقت، ڈرون ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت دی ہے، مگر اخلاقی ترقی اس رفتار سے آگے نہیں بڑھی۔ طاقت کے اس عدم توازن میں ہر ملک اپنے تحفظ کے نام پر اسلحہ بڑھا رہا ہے اور یہی مسابقت ایک اجتماعی عدم تحفظ کو جنم دے رہی ہے۔ اگر ہر ریاست اپنے دفاع کو ہی اولین ترجیح بنائے اور اجتماعی امن کے تصور کو ثانوی رکھے تو ترقی کی آخری حد واقعی تباہی بن سکتی ہے۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی اقوام اکثر سفارت کاری کی طرف پلٹتی ہیں، کیونکہ مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی۔
آج دنیا ایک فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ یا تو طاقت کی سیاست ہمیں مستقل خوف، پراکسی جنگوں اور معاشی عدم استحکام کے دور میں لے جائے گی، یا عالمی قیادت یہ تسلیم کرے گی کہ باہمی انحصار کے اس دور میں جنگ کسی ایک کی نہیں، سب کی ہار ہے۔ انسانی ترقی کی اصل کامیابی ہتھیاروں کی جدت میں نہیں بلکہ اس شعور میں ہے کہ طاقت کا استعمال آخری نہیں بلکہ آخری سے پہلے کا راستہ ہونا چاہیے۔ اگر یہ شعور بیدار نہ ہوا تو واقعی انسان کی ترقی کا عروج، اس کی اپنی بربادی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

