Sunday, 01 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Afifa Shahwar
  4. Taqat, Qanoon Aur Jang Ka Saya: Kya Tareekh Khud Ko Dohrane Wali Hai?

Taqat, Qanoon Aur Jang Ka Saya: Kya Tareekh Khud Ko Dohrane Wali Hai?

طاقت، قانون اور جنگ کا سایہ: کیا تاریخ خود کو دہرانے والی ہے؟

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں اچانک نہیں پھوٹتیں، ان کے آثار بہت پہلے نمایاں ہو جاتے ہیں۔ World War I سے پہلے یورپ میں طاقت کا توازن بگڑ چکا تھا، سامراجی مقابلہ بازی عروج پر تھی اور فوجی اتحاد قائم ہو چکے تھے۔ اسی طرح World War II سے قبل Treaty of Versailles کی سخت شرائط، معاشی بحران اور انتہاپسند قوم پرستی نے فضا کو بارود سے بھر دیا تھا۔ دانشور خطرات کی نشاندہی کرتے رہے، مگر سیاسی قیادتوں نے وقتی مفادات کو ترجیح دی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پیش گوئی ممکن تھی، لیکن سنجیدگی اور اجتماعی بصیرت کا فقدان تھا۔

آج جب دنیا مختلف علاقائی تنازعات، پراکسی جنگوں، معاشی پابندیوں اور سفارتی محاذ آرائیوں کا سامنا کر رہی ہے تو یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا ہم تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے بڑی طاقتوں کو براہِ راست ٹکراؤ سے کسی حد تک روکے رکھا ہے کیونکہ باہمی تباہی کا خوف ایک حقیقی رکاوٹ ہے۔ تاہم کشیدگی کی فضا، عسکری اتحادوں کی نئی صف بندیاں اور ٹیکنالوجی کے میدان میں مقابلہ ایک نئے طرز کی سرد جنگ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ United Nations جیسے ادارے عالمی امن کے ضامن بننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر بڑی طاقتوں کے مفادات اکثر اجتماعی فیصلوں پر غالب آ جاتے ہیں۔

بین الاقوامی سیاست میں یہ بحث بھی ہمیشہ موجود رہی ہے کہ آیا دنیا صرف طاقت کے قانون پر چلتی ہے یا بین الاقوامی قانون واقعی کوئی معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طاقت ایک بنیادی عنصر ضرور ہے، لیکن بین الاقوامی قوانین اور معاہدے عالمی نظام کو ایک فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ بے معنی ہوتے تو ریاستیں معاہدوں پر دستخط نہ کرتیں اور تنازعات عالمی عدالتوں تک نہ پہنچتے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں قانون کی عملداری طاقتور ریاستوں کے مفادات کے تابع ہو جاتی ہے۔ یہی تضاد عالمی نظام کو اخلاقی اور سیاسی بحران کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

اسی تناظر میں ایران کی موجودہ حیثیت کو دیکھا جانا چاہیے۔ جغرافیائی طور پر حساس خطے میں واقع ایران کے اردگرد ایٹمی طاقتیں موجود ہیں، جن میں پاکستان، روس، چائنہ اور انڈیا شامل ہیں۔ امریکی دباؤ یا ممکنہ حملوں کے بعد ایران کی عالمی حیثیت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ایک طرف وہ خودمختاری اور مزاحمت کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے، دوسری طرف اسے سفارتی تنہائی اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اس کے ایٹمی ہمسایوں کا ردِ عمل جذباتی کے بجائے اسٹریٹجک ہونا چاہیے۔ خطے میں طاقت کا توازن، توانائی کی منڈیاں اور عالمی استحکام ایسے عوامل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ راست عسکری تصادم پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے، جبکہ محتاط سفارت کاری کشیدگی کم کرنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

آخرکار دنیا نہ مکمل طور پر طاقت کے قانون پر چلتی ہے اور نہ مکمل طور پر انصاف کے اصولوں پر۔ دونوں کے امتزاج سے عالمی سیاست کا نظام تشکیل پاتا ہے۔ پہلی دو عالمی جنگوں نے ثابت کیا کہ جب طاقت کو اخلاقی حدود سے آزاد کر دیا جائے تو تباہی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ آج اصل سوال یہ نہیں کہ تیسری عالمی جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی قیادت تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہے۔ اگر سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کو ترجیح دی گئی تو دنیا ایک اور عالمی سانحے سے بچ سکتی ہے، ورنہ تاریخ خود کو دہرانے میں زیادہ دیر نہیں لگاتی۔

Check Also

Ittehad Waqt Ki Aham Zaroorat

By Syed Mehdi Bukhari