Dolat Peha Qareena Hai
دولت پہلا قرینہ ہے

کہتے ہیں ایک زمانے میں کچھ کچھ حسن نظروں میں بھی ہوتا تھا مگر آج کل نظریں سب سے پہلے جیب دیکھتی ہیں پھر دل تک اترتی ہیں۔ شاعر سے معذرت کے ساتھ گویا "دولت پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں"۔ میں نے ایک شادی کی محفل میں یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا: ٹیبل پر میرے پچھلی ٹیبل پر بیٹھی ایک مہمان خاتون نے ساتھ بیٹھی خاتون سے مخاطب ہو کر بآواز بلند کہا کہ دلہن بہت خوبصورت ہے مگر دلہا دیکھو کیسا ہے، قد بھی کم ہے، رنگ بھی گندمی سا ہے۔
اس کی بات سن کر دوسری مہمان نے کہا "بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر دولہا بیرونِ ملک سیٹل ہے، پاکستان میں بھی سافٹویئر کا اپنا بزنس ہے" تو عین اسی لمحے کے بعد اس تنقید کرنے والی خاتون کی باتوں سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دلہے کا قد کچھ انچ بڑھ گیا، رنگ نکھر آیا اور چہرے پر ایسی وجاہت اُتری جیسے بینک بیلنس نے اسکے چہرے پر حسن کی تہہ چڑھا دی ہو۔ اس دن مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے عہد میں مرد کا حسن آئینے میں نہیں، اسکے وائلٹ میں دیکھا جاتا ہے۔
یہ جملہ جتنا تلخ ہے، اتنا ہی سچ بھی ہے کہ خالی جیب والا مرد اکثر عورت کی نظر میں بدصورت ہو جاتا ہے چاہے وہ ہر حوالے سے وجیہہ ہی کیوں نہ ہو۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو حسن و وجاہت کے پیمانے ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے مگر طاقت اور دولت کا رشتہ مردانہ کشش سے کبھی منقطع نہیں ہوا۔ فرعونوں کے چہرے شاید عام انسانوں جیسے ہی تھے مگر تاج، سونے اور اقتدار نے انہیں دیوتا بنا دیا۔ مغل بادشاہوں کی تصویروں میں جو رعب، دبدبہ اور وجاہت دکھائی دیتی ہے، وہ محض آنکھوں یا ناک کے زاویے کا کمال نہیں بلکہ تخت، خزانے اور سلطنت کی چمک ہے۔ ایک معمولی صورت والا بادشاہ بھی حسین لگتا ہے جبکہ غریب رعایا اکثر تاریخ کے حاشیے میں ہی دب جاتی ہے۔
روزمرہ زندگی میں بھی یہی اصول خاموشی سے نافذ ہے۔ ایک نوجوان اگر موٹر سائیکل پر آئے تو "لڑکا بس ٹھیک ہی ہے" کہلاتا ہے، اگر وہی نوجوان مہنگی گاڑی سے اترے تو "خاصا اسمارٹ" ہو جاتا ہے۔ محلے کی آنٹیاں جنہوں نے کل تک اس کی شکل و صورت پر ناک بھوں چڑھائی ہوتی ہے اچانک اس کے اخلاق، شرافت اور خاندانی پس منظر پر لیکچر دینے لگتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے پیسہ مرد کے چہرے پر غیر مرئی فلٹر لگا دیتا ہے جو خامیوں کو چھپا اور وجاہت کو ابھار دیتا ہے۔
یہ بات ماننی پڑے گی کہ عورت فطری طور پر تحفظ کی متلاشی ہے اور ہمارے معاشرے میں دولت تحفظ کا سب سے بڑا استعارہ بن چکا ہے۔ خالی جیب والا مرد چاہے کتنا ہی محبت کرنے والا کیوں نہ ہو، اسے "غیر حقیقت پسند" کہا جاتا ہے جبکہ پیسہ والا مرد اگر بدزبان بھی ہو تو "چل جائے گا، وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا" کے فلسفے میں لپیٹ دیا جاتا ہے اس پر میں اپنی کتاب قلم کٹہرا میں بھی تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ محبت اکثر مالی عدم استحکام کی دہلیز پر دم توڑ دیتی ہے اور حسن کا جنازہ خاموشی سے غربت کے کندھوں پر اٹھا لیا جاتا ہے۔
ایک حساس، بااخلاق مگر غریب مرد جس کے پاس لفظوں کی دولت تو ہوتی ہے مگر مال پیسے کی نہیں اکثر محبت کی جنگ ہار جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک کم گو، سخت مزاج مگر خوش حال مرد صرف اپنی مالی حیثیت کے سہارے دل جیت لیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے زمانے میں مرد کی وجاہت چہرے سے نہیں، بینک بیلنس سے جھانکتی ہے۔
یہ تحریر عورت پر الزام نہیں بلکہ صرف ایک معاشرتی سچائی کا اعتراف ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عورت کیوں دولت کو دیکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے حسن، وقار اور مردانگی کو صرف روپے پیسے سے کیوں جوڑ دیا ہے؟ کیا واقعی مرد کی قدر اس کی انسانیت، کردار اور ذمہ داری سے نہیں بلکہ اس کی جیب سے ناپی جائے گی؟ شاید اس سوال کا جواب ہمیں آئندہ نسلوں کو دینا ہوگا کیونکہ اگر یہی پیمانہ رہا تو کل کو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر وہ بھی ساغر صدیقی کا یہ شعر دہرا رہے ہوں گے:
میری غربت نے اڑایا ہے میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں

