Bhagti Dorti Larkiyan
بھاگتی دوڑتی لڑکیاں

جب بھی لڑکیوں کے کھیلنے پہ پابندی کی بات نکلی، ہمیں حیرانی ہوئی کہ لڑکیوں کے لیے گیمز میں شرکت کی اس شدت سے مخالفت کیوں؟ جب لڑکے کھیل سکتے ہیں تو لڑکیاں کیوں نہیں؟ کیا فرق ہے دونوں میں؟
ہماری پوچھیے تو ہم سدا کے پھسڈی تھے کھیل کود میں بھاگتے بھی ایسے کہ لوگ بے اختیار ہنسنے لگتے۔ ریسنگ میں لوگ وکٹری سٹینڈ تک پہنچ رہے ہوتے اور ہم کہیں دور آخری امیدوار کے طور پہ ہانپتے کانپتے دوڑ رہے ہوتے، سو سوچ لیا شروع سے کہ بھئی ہم نہیں اس قابل۔۔ مگر جو قابل ہیں ان پہ طرح طرح کی پابندیاں کیوں؟
اس سوال کا جواب پوشیدہ تھا اس سرکلر میں جو کچھ عرصہ پہلے ہمیں دیکھنے کو ملا جس میں سکول انتظامیہ کی طرف سے بلوغت پہ پہنچتی بچیوں کو سپورٹس میں حصہ لینے سے روکا گیا تھا، وجہ جاننا چاہیں گے؟
سرکلر نکالنے والوں کا خیال تھا کہ بچیاں کھیلتے ہوئے دوڑیں گی اور ایسا کرنے سے ان کے جسم کے خطوط واضح ہوں گے، کچھ نہ کچھ ارتعاش بھی سو قرب و جواح میں موجود مردوں کی طبعیت خراب ہو سکتی ہے۔
لڑکیوں پہ نارمل زندگی کا دروازہ بند کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں تھی۔ نیشنل کرکٹ اور ہاکی ٹیم پہ جو تبصرے ٹی وی پہ بیٹھ کر کچھ صاحبان کر چکے ہیں ان سے سمجھ آ جاتی ہے کہ دیسی مردوں کا سب سے بڑا مسئلہ عورت کے جسم کا ایک حصہ ہے، جس کی جھلک کی آس میں ہی آنکھیں کھل جاتی ہیں، رال گرنے لگتی ہے اور ہاتھ کھجلی کرنے کو بے چین ہو جاتا ہے۔
بیرون ملک رہتے ہوئے اگر آپ نے پہچاننا ہو کہ سامنے سے آنے والا مرد کس قومیت کا ہے تو اس کی نظر کا تعاقب کرکے دیکھ لیں، اگر نظر ندیدے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہی جگہ پہ ٹکی ہو، ہاتھ قمیض کے دامن کے پیچھے چھپا ہو تو جان لیجیے کہ اپنی ہی طرف کے ہیں بھائی صاحب۔
یقین جانیے، بہت سی قومیتوں کے ساتھ رہتے ہوئے یہ خاصیت صرف اپنے والوں میں دیکھی ہے کہ نظر بھٹکتی ہے اور بار بار بھٹکتی ہے کوئی مائی کا لال اس پہ پہرہ نہیں بٹھا سکتا۔
ہمیں لگتا ہے کہ ہو نہ ہو دوسری قومیتوں کے مرد حضرات کسی کمزوری کے شکار ہیں اور انہیں اس علاج کی شدید ضرورت ہے جسکے اشتہار وطن عزیز میں دیواروں پہ لکھے ہوتے ہیں دیکھیے نا کیسے عجیب مرد ہیں کہ کسی عورت نے کیسا ہی لباس پہنا ہو، بھولے سے بھی نظر نو گو ایریا کی طرف نہیں اٹھتی۔
یہ بات ہم وثوق سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہسپتال میں کام کرتے ہوئے سترہ برس گزر گئے مختلف قومیتوں کے ان گنت مردوں سے پالا پڑا اور ہمیں کبھی بھی اس بات کا تجربہ نہیں ہوا کہ سامنے والا کچھ بے چین ہے۔ ہاتھ لگانا تو دور کی بات، نظر بھی قابو میں اور بحثیت عورت ہم جانتے ہیں کہ عورت اپنی پشت تک پہ بدصورت نظر محسوس کر لیتی ہے۔
ایک بچی کو کرکٹ کھیلتے دیکھ کر قوم فوراََ اس اس تشویش میں مبتلا ہوگئی جہ کچھ گڑبڑ ہونے جارہی ہے مانا ابھی تو بالغ نہیں ہوئی، دو ایک برس باقی ہیں ابھی، لیکن تب تک اگر کھیلنے کی اجازت ہم نے دے دی اور اتنے میں بچی کا حوصلہ بڑھ گیا، تب کیا ہوگا؟ اور اگر اس بچی کی طرف دیکھ کر باقی بچیوں نے بھی ہمت پکڑ لی تو اس سیلاب کے سامنے بند کون باندھے گا؟
جب لڑکیاں دوڑیں بھاگیں گی تو وہ یہ منظر چپ چاپ کیسے برداشت کریں گے؟ شہوت کے منہ زور طوفان کے سامنے بند کیسے باندھیں گے ہمارے معصوم بھائی؟
ویسے یہ شہوت چیز کیا ہے آخر؟
لغت کہتی ہے جنسی اشتہا
ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ چلتے پھرتے، زندگی کے عام معاملات نبھاتے، الجھتے سنبھلتے، بیچ میں شہوت عرف جنسی اشتہا کہاں سے آ گئی بھائی؟
کیا بلی کتے کا کھیل ہے کہ کہیں بھی اور کبھی بھی
اور سنو میڈیکل سائنس کے مطابق جنسی اشتہا تو عورت میں بھی موجود ہے تو کیا اسے بھی کسی بھی مرد کو کھیلتے دیکھ کر بے قابو ہو جانا چاہیے، سامان حرب تو ادھر بھی موجود ہے ویسے۔
پدرسری نظام نے مرد کی شہوت کا ڈھول اس قدر اور اتنا بجایا کہ عورت کے جسم کو صرف شہوت کی تکمیل کا آلہ سمجھ لیا گیا یعنی ڈمی کردار یا شاید خاموش فلموں کی ہیروئن جو صرف انگلی پہ دوپٹہ مروڑ کر شرماتی ہے۔ جبکہ بنانے والے نے یہ صلاحیت دونوں کو بخشی ہے۔
عورتوں کو نارمل انسان نہ سمجھنے اور ایک کٹھ پتلی کا کردار دینے کے بعد اب تازہ ترین یہ ہے کہ عورتوں کو ایسے ہانکو جیسے بھیڑ بکری سوٹی مارنی ہو تو شوق سے، بس ہڈی نہ ٹوٹے اور جلد نہ پھٹے، ویسے آپس کی بات ہے کہ ایسا ہو بھی گیا تو وہ جس کی ہڈی پسلی ایک ہوئی ہوگی اس میں اتنی جرات اور ہمت کہاں کہ رپورٹ کرنے جا سکے، سو چت بھی ان کی اور پٹ بھی۔۔

