Ittehad Waqt Ki Aham Zaroorat
اتحاد وقت کی اہم ضرورت

منظرنامہ بہت واضح ہے۔ مگر شاید ہم واضح چیزوں کو دیکھنے کے عادی نہیں رہے۔ اگر کوئی نہ دیکھ پائے تو قصور زاویۂ نظر کا ہے۔ جب نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا اور نیتن یاہونے غیرمعمولی گرمجوشی سے استقبال کیا تو وہ محض سفارتی تصویر نہیں تھی وہ ایک نیا علاقائی اتحاد تھا۔ اس کے بعد دفاعی معاہدے، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر تعاون اور انٹیلی جنس اشتراک نے اس تعلق کو رسمی دوستی سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری میں بدل دیا۔ اسرائیل بھارت معاہدے میں آٹھ بلین ڈالرز کی ٹریڈ شامل ہے اور مودی کا فرمان ہے اس میں سے کچھ افغانستان کی مالی مدد کے لیے بھی رکھا گیا ہے۔
یہ سب کسی خلا میں نہیں ہو رہا ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحد جسے ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔ ایسے میں افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کس کے مفاد میں ہوگا؟ اس کا جواب کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ بھارت، اسرائیل اور افغانستان ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔
اب تصویر کا ایک اور رخ دیکھیے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جب اسرائیل ایران کو نشانہ بناتا ہے تو اس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہتے۔ ایران کے اپنے مسائل ہیں۔ معاشی پابندیاں، داخلی دباؤ، سفارتی تنہائی۔ کیا بھارت، اسرائیل اور افغانستان کے بعض عناصر کسی مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں؟
پاکستان البتہ ایران نہیں ہے۔ پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت مختلف ہے، اس کے چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اسے مکمل تنہائی سے بچاتے ہیں۔ دنیا میں بارہویں نمبر پر پروفیشنل افواج رکھتا ہے۔ مگر صرف عسکری طاقت کافی نہیں ہوتی۔ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور سفارتی مہارت ہی اصل ڈھال بنتی ہے۔ تاحال سفارتی مہارت تو نظر آتی ہے مگر داخلی استحکام اور معاشی مضبوطی کا شدید فقدان ہے اور یہی بات مجھے پریشان کرتی ہے۔
ہم اکثر بیرونی اتحادوں پر انگلی اٹھاتے ہیں مگر اپنے داخلی انتشار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر سرحدیں کمزور ہوں، معیشت نازک ہو اور سیاسی تقسیم گہری ہو تو بیرونی طاقتوں کو کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ بدلتی ہوئی دنیا میں اتحاد مفادات پر بنتے ہیں جذبات پر نہیں۔ بھارت اسرائیل کے قریب کیوں ہے؟ کیونکہ اسے ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور عالمی لابنگ کی ضرورت ہے۔ اسرائیل بھارت کے قریب کیوں ہے؟ کیونکہ اسے بڑی منڈی اور مسلم ورلڈ کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کو کارنر کرنا درکار ہے۔ یہ ان دونوں ممالک کا باہمی مفاد ہے اور افغانستان کی غیر تسلیم شدہ طالبان رجیم ان دونوں کے کاندھے پر سوار ہو کر عالمی تنہائی سے نکلنا چاہتی ہے۔ ایران اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہر ملک اپنے مفاد کے تحت چل رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ اور کیا ہم اسے واضح طور پر متعین کر پائے ہیں؟ منظرنامہ واقعی واضح ہے۔ مودی کا اسرائیل کا دورہ۔ نیتن یاہو کا گرم جوشی سے استقبال۔ اسرائیل اور انڈیا کی افغانستان سے محبت۔ افغانستان کا پاکستان کی سرحدوں پر حملہ اور اب اسرائیل کا ایران پر حملہ۔ ہمیں پہلے سے زیادہ سنجیدہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام اور معاشی مضبوطی ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اندرونی طور پر یکجا ہو اور اس کے لیے سیاسی افراتفری کو ختم یا کم از کم مدھم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے جو کچھ ضروری ہو وہ کرنا چاہئیے۔ جیل میں قید سیاسی قیادت سے مذاکرات، سہولت یا رہائی۔ یہ پاکستان کے لیے ہو۔ فریقین کی انا یا ضد اس میں آڑے نہیں آنی چاہئیے۔ اگر ایسے اقدامات بروقت نہیں لیے جاتے تو پھر وقت بھی سازگار نہیں رہتا۔
میں جانتا ہوں میری یہ بات یا تجویز بہت سوں پر ناگوار گزر سکتی ہے۔ یہ بھی جانتا ہوں کہ طاقت کے مزاج میں جھکنا نہیں ہوتا۔ یہ بھی معلوم ہے کہ فیصلہ ساز قوتیں الگ طرح سے سوچتیں اور آپریٹ کرتی ہیں۔ اس کا بھی بخوبی احساس ہے کہ ہمارے لکھنے سے کون سا فرق پڑنا ہے لیکن لکھنا بولنا یا خدشات کا اظہار کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ سند رہے اور پھر وقت خود اپنا فیصلہ رقم کرتا ہے۔

