Sunday, 01 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Sajdon Ki Roshni Ya Screen Ki Chamak?

Sajdon Ki Roshni Ya Screen Ki Chamak?

سجدوں کی روشنی یا اسکرین کی چمک؟

رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں، ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ وہ موسم ہے جب دل نرم ہوتے ہیں، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور روح کو اپنے خالق کے قریب ہونے کا موقع ملتا ہے۔ سحر کی خاموشی میں مانگی گئی دعا، افطار کے وقت لبوں پر لرزتی التجا اور تراویح میں گونجتی آیات، یہ سب انسان کو اس کی اصل کی طرف لوٹنے کا پیغام دیتے ہیں۔ مگر اسی مقدس مہینے میں ایک اور منظر بھی پروان چڑھتا ہے، بازارِ رمضان۔

جہاں روحانیت کے ساتھ ساتھ نمائش بھی عروج پر نظر آتی ہے۔ رمضان کا آغاز ہوتے ہی اشتہارات کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ "خصوصی آفر"، "رمضان کلیکشن"، "افطار بوفے ڈیل"، گویا یہ مہینہ عبادت سے زیادہ خریداری کا تہوار بن گیا ہو۔ بازاروں میں رش اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے سب کو کسی مقابلے میں حصہ لینا ہو۔ افطار کے دسترخوان اب سادگی کی علامت نہیں رہے۔ درجنوں پکوان، رنگا رنگ مشروبات، مہنگی کراکری اور سوشل میڈیا پر تصویروں کی قطار، سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھوک کا احساس کرنے آئے تھے یا دسترخوان کی شان بڑھانے؟

روزہ ہمیں احساسِ محرومی سکھانے کے لیے ہے، تاکہ ہم ضرورت مندوں کا درد سمجھ سکیں۔ مگر جب افطار اسراف میں بدل جائے تو مقصد کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، نیکی کی تشہیر۔ راشن تقسیم کیا جا رہا ہے، مگر ساتھ ہی کیمرہ آن ہے۔ صدقہ دیا جا رہا ہے، مگر تصویر لازمی ہے۔ افطار کرایا جا رہا ہے، مگر ویڈیو بنانا ضروری ہے۔

نیکی کی روح اخلاص ہے۔ جب اخلاص کمزور ہو جائے تو عمل محض رسم رہ جاتا ہے۔ خاموشی سے کیا گیا صدقہ دلوں کو جوڑتا ہے، جبکہ تشہیری عطیہ اکثر عزتِ نفس کو مجروح کر دیتا ہے۔ مستحق کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے، مگر اس کی خودداری کہیں زخمی ہو جاتی ہے۔ نمائش کی اس دوڑ کا سب سے بڑا بوجھ متوسط طبقہ اٹھا رہا ہے۔

خواتین پر دباؤ ہے کہ وہ ہر افطار میں منفرد دکھائی دیں۔

مردوں پر ذمہ داری ہے کہ مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ رہے۔ بچے برانڈڈ کپڑوں اور مہنگے تحائف کا تقابل کرتے ہیں۔ قرض، ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری اور بے چینی۔ کیا یہی وہ سکون ہے جو رمضان ہمیں دینا چاہتا ہے؟

سوشل میڈیا نے نمائش کو نئی طاقت دے دی ہے۔ افطار سے پہلے تصویر، تراویح کے بعد اسٹیٹس، صدقے کے ساتھ ویڈیو، گویا ہر عمل کو ثبوت کی ضرورت ہے۔ مگر کیا عبادت کا ثبوت دنیا کو دینا ضروری ہے؟

کیا اللہ کو ہماری نیت کا علم نہیں؟ رمضان کا اصل حسن تنہائی کے سجدے میں ہے۔ وہ آنسو جو رات کے پچھلے پہر گرتا ہے اور جسے کوئی نہیں دیکھتا، وہ زیادہ قیمتی ہے۔ وہ دعا جو دل کی گہرائی سے نکلتی ہے اور جس کا کوئی کیمرہ گواہ نہیں، وہ زیادہ خالص ہے۔

اصل سوال ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: کیا ہم رمضان کو جی رہے ہیں یا دکھا رہے ہیں؟

کیا ہم اصلاح کر رہے ہیں یا اظہار؟ کیا ہم تقویٰ سیکھ رہے ہیں یا تقابل؟ رمضان ہمیں جھکنا سکھاتا ہے، مگر ہم نے اسے خود کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دسترخوان کی وسعت نہیں، دل کی کیفیت دیکھتا ہے۔ وہ لباس کی قیمت نہیں، نیت کی پاکیزگی دیکھتا ہے۔

اگر ہم واقعی رمضان کی روح پانا چاہتے ہیں تو چند باتیں اپنانی ہوں گی: سادگی کو فخر بنائیں، شرمندگی نہیں۔ صدقہ خاموشی سے دیں، تشہیر سے بچیں۔ بچوں کو تقویٰ سکھائیں، تقابل نہیں۔ افطار میں اسراف کے بجائے اعتدال اختیار کریں۔ سوشل میڈیا سے زیادہ سجدے کو اہمیت دیں۔

رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے باطن کو سنوارے۔ اگر دل روشن ہو جائے تو بازار کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔ رمضان بازار کی رونق کا نام نہیں۔ یہ دلوں کی بیداری کا موسم ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے کو نمائش میں گزار دیا تو شاید ہم ظاہری کامیابی حاصل کر لیں، مگر روحانی خسارہ ہمارا مقدر بن جائے گا۔

آئیے اس رمضان ہم چراغِ اخلاص روشن کریں۔ اپنی نیتوں کو صاف کریں اور یاد رکھیں۔ رمضان کی اصل روشنی اسکرین کی چمک میں نہیں۔ سجدوں کی خاموشی میں ہے۔

Check Also

Dolat Peha Qareena Hai

By Amer Abbas