Hamare Hath Mein Kashkol Kyun?
ہمارے ہاتھ میں کشکول کیوں ہے؟

دنیا کی تاریخ میں قومیں صرف ہتھیاروں سے عظیم نہیں بنتیں۔ بلکہ نظریات، خودداری اور قومی شعور سے عظمت حاصل کرتی ہیں توپیں، ٹینک، میزائل اور ایٹم بم دشمن کو خوفزدہ تو کر سکتے ہیں لیکن قوموں کو باوقار نہیں بنا سکتے عزت کا تعلق اسلحے سے نہیں کردار سے ہوتا ہے امریکہ اور ایران کی حالیہ کشمکش نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھ دیا ہے کہ اصل طاقت کیا ہے؟ کیا طاقت صرف ایٹمی ہتھیار کا نام ہے یا پھر وہ جذبہ بھی طاقت ہے جو پابندیوں، مشکلات اور معاشی دباؤ کے باوجود قوموں کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیتا ہے؟
ایران پر عشروں سے پابندیاں ہیں اس کی معیشت نے سخت وقت بھی دیکھا عوام نے مشکلات بھی برداشت کیں لیکن اس قوم نے کم از کم اپنی خودداری کو گروی نہیں رکھا خوددار قومیں کم کھا لیتی ہیں، مصیبتیں سہہ لیتی ہیں مگر دوسروں کے دروازوں پر کشکول لے کر نہیں کھڑی ہوتیں ان کی ترجیح عزت ہوتی ہے، آسائش نہیں یہ منظر اگر پاکستان کے آئینے میں دیکھا جائے تو تصویر خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے ہم دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہیں ہمارے پاس میزائل بھی ہیں جنگی طیارے بھی اور دفاعی طاقت کے قصے بھی لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم واقعی اتنے طاقتور ہیں تو پھر عالمی مالیاتی اداروں کے دروازوں پر درخواستیں کیوں دیتے ہیں قرضوں کے بغیر بجٹ کیوں نہیں بنتا؟ معیشت ہر چند سال بعد مصنوعی سانسوں پر کیوں آ جاتی ہے؟
ہم ایک عجیب قوم ہیں ایک ہاتھ میں ایٹم بم کا سرٹیفکیٹ ہوتا ہے اور دوسرے ہاتھ میں قرض کی درخواست۔ ہمارے حکمران بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں یہ جملہ سنتے ہی ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ اگر ہم اتنے ہی طاقتور ہیں تو پھر دنیا ہمیں طاقتور ملک کے بجائے امداد لینے والے ملک کے طور پر کیوں جانتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایٹم بم دشمن کے حملے کو روک سکتا ہے معاشی غلامی کو نہیں میزائل سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں قومی وقار نہیں خرید سکتے عزت اس قوم کو ملتی ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑی ہو اپنے فیصلے خود کرے اور اپنے وسائل پر اعتماد رکھے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں طاقت کا مفہوم صرف اسلحے تک محدود ہو چکا ہے ہم نے قومی طاقت کو قومی خودمختاری کے بجائے فوجی صلاحیت سے جوڑ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود فکری اور معاشی طور پر کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ جن اداروں کی بنیادی ذمہ داری ریاست کا دفاع ہے وہ اکثر سیاست کے میدان میں سینگ پھسائے دکھائی دیتے ہیں اور اعلان بھی کرتے ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں کمال بہادری سے جھوٹ بولتے ہیں ساری توانائیاں حکومتیں بنانے اور گرانے۔ وفاداریاں تبدیل کروانے سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنے اور اقتدار کے کھیل کو کنٹرول کرنے میں صرف ہو جاتی ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
بلوچستان آج بھی بے چینی کا شکار ہے خیبر پختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے گلگت بلتستان مسلسل محرومیوں کی شکایت کر رہا ہے ملک کے مختلف حصوں میں عدم اطمینان موجود ہے لیکن اقتدار کے ایوانوں میں اکثر ترجیح سیاست ہوتی ہے ریاست نہیں گزشتہ اٹھہتر برسوں میں عوام کو پارٹیوں میں تقسیم کیا مذہب کو فرقوں میں بانٹا قومیتوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا اور پھر انہی تقسیموں پر اقتدار کی عمارت تعمیر کی نتیجہ یہ نکلا کہ نہ مکمل جمہوریت پنپ سکی اور نہ کھلی آمریت آئی ہم ایک ایسے نظام میں زندہ ہیں جہاں جمہوریت کا چہرہ موجود ہے مگر فیصلوں میں آمریت کی طاقت دکھائی دیتی ہے یہی وجہ ہے یہاں انصاف کا فقدان ہے احساس محرومی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے مظلوم فریاد کر رہے ہیں ظالم دندناتے پھر رہے ہیں مگر دور کہیں بھی انصاف ملتا نظر نہیں آرہا ہے۔
قوموں کی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جب انہیں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے سچ بولنا پڑتا ہے پاکستان کے لیے بھی وہ لمحہ آ چکا ہے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف ایٹمی طاقت ہونا کافی نہیں جب تک ہم معاشی طور پر خودمختار سیاسی طور پر بالغ اور فکری طور پر آزاد نہیں ہوتے تب تک دنیا ہمیں ایک طاقتور قوم نہیں سمجھے گی۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ غلام ذہن کے ہاتھ میں ایٹم بم بھی آزادی کی ضمانت نہیں بن سکتا دنیا طاقتور ہتھیاروں سے نہیں طاقتور قوموں سے خوف کھاتی ہے طاقتور قومیں وہ ہوتی ہیں جو مانگنے کے بجائے اپنے اندر خودداری پیدا کرتی ہیں تقسیم ہونے کے بجائے متحد رہتی ہیں اور نعروں کے بجائے کردار سے اپنی عظمت ثابت کرتی ہیں ورنہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ ہم ہر سال قرض لیں گے ہر سال معاشی مشکلات کا رونا روئیں گے ہر سال اپنے زخموں پر فخر کے نعرے لگائیں گے اور ہر سال ہمیں یاد دلایا جائے گا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں مگر دنیا شاید یہی سوال پوچھتی رہے گی کہ اگر آپ واقعی ایٹمی طاقت ہیں تو پھر آپ کے ہاتھ میں کشکول کیوں ہے؟ اور جب تک اس سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں آتا تب تک ایٹمی طاقت کا نعرہ ہماری طاقت سے زیادہ ہماری کمزوری کی یاد دلاتا رہے گا ایٹمی طاقت اور ہاتھ میں کشکول ہم سب کےلئے لمحہ فکریہ ہے ندامت ہی ندامت ہے شرمندگی ہی شرمندگی ہے۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی موجود ہے کہ ہم نے سیاست کو ریاست پر غالب آنے نہیں دیا بلکہ ریاست کو سیاست کے کھیل میں الجھا دیا ہے اقتدار کی رسہ کشی وفاداریوں کی خرید و فروخت اور حکومتیں بنانے گرانے کا کھیل اس حد تک عام ہو چکا ہے کہ اصل ریاستی ترجیحات کہیں کھو گئی ہیں قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں ادارہ جاتی استحکام، انصاف اور معاشی خودکفالت سے بنتی ہیں اگر یہ تینوں ستون کمزور ہوں تو ایٹمی طاقت بھی ایک خول بن جاتی ہے ایران اور امریکہ کی کشمکش نے دنیا کو یہ یاد دلایا ہے کہ طاقت صرف عسکری برتری کا نام نہیں بعض اوقات پابندیوں دباؤ اور تنہائی کے باوجود قومیں اپنی خودداری کو زندہ رکھتی ہیں یہ خودداری ہی اصل سرمایہ ہوتی ہے۔
ہمیں بھی بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف ایٹمی طاقت بن کر رہنا چاہتے ہیں یا ایک باوقار خوددار اور خودمختار قوم بھی بننا چاہتے ہیں کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ غلام ذہن کے ہاتھ میں ایٹم بم بھی آزادی کی علامت نہیں بنتا بلکہ تاریخ کے آئینے میں ایک سوال بن کر رہ جاتا ہے اور یہ سوال وقت کے ساتھ اور بھی تکلیف دہ ہوتا جاتا ہے اگر ہم ایٹمی طاقت ہیں۔ تو پھر ہم کشکول لئے دوسروں کے محتاج کیوں ہیں؟

