Wednesday, 17 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Zindagi Kya Hai?

Zindagi Kya Hai?

زندگی کیا ہے؟

زندگی کیا ہے؟ شاید یہ وہ سوال ہے جو انسان نے پہلی بار شعور کی آنکھ کھولتے ہی خود سے پوچھا ہوگا۔ یہ سوال اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان۔ ہر بچہ جو دنیا میں آتا ہے، زندگی پاتا ہے، سانس لیتا ہے، رشتے بناتا ہے، خواب دیکھتا ہے، کامیابیاں سمیٹتا ہے، ناکامیوں کا سامنا کرتا ہے اور پھر ایک دن خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ لیکن اس سارے سفر کے دوران وہ بار بار ایک ہی سوال کی طرف لوٹتا ہے: زندگی کیا ہے؟

عجیب بات یہ ہے کہ اربوں انسان اس دنیا میں آئے، اپنی اپنی زندگیاں گزار کر چلے گئے، مگر اس سوال کا کوئی ایک جواب آج تک طے نہیں ہو سکا۔ ہر دور، ہر تہذیب اور ہر معاشرے نے اس کی الگ تشریح کی۔ کسی نے اسے امتحان کہا، کسی نے نعمت قرار دیا، کسی نے جدوجہد کا نام دیا اور کسی نے اسے محض ایک خواب سمجھا جو پلک جھپکتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ شاید زندگی کی خوبصورتی بھی اسی میں ہے کہ یہ کسی ایک تعریف میں قید نہیں ہوتی۔ یہ ہر انسان کے ساتھ ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ہر دل میں اپنا الگ مفہوم پیدا کرتی ہے۔

زندگی کے جتنے روپ ہیں، اتنے ہی اس کے بہروپ بھی ہیں۔ کبھی یہ بہار کی نرم ہوا کی طرح دل کو آسودگی دیتی ہے اور کبھی صحرا کی تپتی دوپہر بن کر انسان کی ہمت کا امتحان لیتی ہے۔ کبھی یہی زندگی انسان کو اتنی خوشیاں دیتی ہے کہ وہ شکرکے الفاظ ڈھونڈتا رہ جاتا ہے اور کبھی ایسے دکھوں سے آشنا کرتی ہے کہ آنکھوں سے خاموش آنسو بہنے لگتے ہیں۔ زندگی کی یہی رنگا رنگی اسے دل چسپ بناتی ہے۔ اگر ہر دن ایک جیسا ہوتا، ہر راستہ ہموار ہوتا اور ہر خواہش پوری ہو جاتی تو شاید زندگی اتنی پُرکشش نہ رہتی۔ انسان کی شخصیت دراصل انہی نشیب و فراز میں تشکیل پاتی ہے۔ جو تکلیف آج ناقابل برداشت محسوس ہوتی ہے، وہی کل ایک قیمتی سبق بن جاتی ہے۔ جو ناکامی آج دل توڑ دیتی ہے، وہی آنے والے دنوں میں کامیابی کی بنیاد ثابت ہوتی ہے۔ زندگی انسان کو ہر روز کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے، بشرطیکہ وہ سیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ زندگی ہر شخص کو الگ نظر آتی ہے۔ فلسفی جب زندگی کو دیکھتا ہے تو اسے سوالات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ شاعر کے نزدیک زندگی جذبات، خوابوں اور احساسات کی ایک حسین داستان ہے۔ ادیب اسے کرداروں، واقعات اور انسانی نفسیات کے آئینے میں دیکھتا ہے۔ تاریخ دان کے لیے زندگی قوموں کے عروج و زوال کا نام ہے۔ سیاست دان اسے طاقت، اختیار اور عوامی خدمت کے تناظر میں سمجھتا ہے۔ ایک مزدور کے لیے زندگی دن بھر کی محنت کے بعد بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے کا نام ہے۔ کسان کے لیے زمین میں ڈالا گیا بیج اور اس سے اُگنے والی فصل زندگی ہے۔ مستری کے لیے اینٹ پر اینٹ رکھ کر خوابوں کو عمارت میں ڈھال دینا زندگی ہے۔ انجینئر کے لیے مسائل کا حل تلاش کرنا زندگی ہے اور ڈاکٹر کے لیے کسی بیمار کی جان بچا لینا زندگی کا سب سے بڑا مفہوم بن جاتا ہے۔ بے روزگار نوجوان کے لیے زندگی ایک امید کا نام ہے جو اسے ہر صبح دوبارہ کوشش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یوں ایک ہی دنیا میں رہنے والے کروڑوں انسان دراصل کروڑوں مختلف زندگیاں جی رہے ہوتے ہیں۔

زندگی کی سب سے بڑی خصوصیت شاید اس کی غیر متوقع فطرت ہے۔ یہ انسان کو کبھی پیشگی اطلاع نہیں دیتی۔ آج جو شخص خوشیوں کی بلندیوں پر کھڑا ہے، ممکن ہے کل آزمائشوں کے گرداب میں ہو اور جو آج مایوسی کی گہری کھائی میں گرا ہوا ہے، بعید نہیں کہ آنے والا دن اس کے لیے نئی امیدوں کا سورج لے کر طلوع ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دانا لوگ حالات کے نشے میں مست نہیں ہوتے اور مشکلات کے سامنے ہتھیار بھی نہیں ڈالتے۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی ایک مسلسل سفر ہے جس میں کوئی کیفیت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ خوشی اور غم، کامیابی اور ناکامی، قربت اور جدائی، ملاقات اور بچھڑنا، یہ سب زندگی کے لازمی رنگ ہیں۔ جو شخص صرف خوشیوں کا طالب ہو، وہ زندگی کی حقیقت سے ناواقف ہے۔ زندگی تو مکمل تصویر کا نام ہے اور اس تصویر میں روشن رنگوں کے ساتھ گہرے سائے بھی شامل ہوتے ہیں۔

انسان جتنا زیادہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی یہ اس کے لیے ایک نئے راز کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاید اسی لیے بڑے بڑے مفکرین نے اعتراف کیا کہ زندگی کو مکمل طور پر سمجھ لینا ممکن نہیں۔ اسے صرف جیا جا سکتا ہے، محسوس کیا جا سکتا ہے اور اس کے تجربات سے سیکھا جا سکتا ہے۔ زندگی ایک کتاب کی مانند ہے جس کا ہر صفحہ نیا سبق لیے ہوئے ہے۔ بعض لوگ پوری عمر صرف شکایتوں میں گزار دیتے ہیں اور بعض لوگ انہی حالات میں شکرکے چراغ روشن کر لیتے ہیں۔ فرق حالات میں نہیں بلکہ زاویۂ نگاہ میں ہوتا ہے۔ زندگی کسی کو مکمل خوشی نہیں دیتی اور نہ کسی کو مکمل غم۔ یہ دونوں چیزوں کا ایسا امتزاج ہے جس سے انسان کی شخصیت نکھرتی ہے۔ جو لوگ زندگی سے محبت کرتے ہیں، وہ اس کی تلخیوں کو بھی قبول کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہی تلخیاں آگے چل کر میٹھی یادوں میں بدل جاتی ہیں۔

جیلانی بی اے کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہی احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ انہوں نے زندگی کو محض دیکھا نہیں بلکہ اسے پوری گہرائی سے محسوس کیا ہے۔ ان کے ہاں زندگی کسی ایک رنگ، ایک طبقے یا ایک زاویے تک محدود نہیں رہتی۔ وہاں ہنسی بھی ہے اور آنسو بھی، کامیابی بھی ہے اور محرومی بھی، امید بھی ہے اور حسرت بھی۔ ان کی تحریروں میں عام آدمی کے دکھ درد بھی ملتے ہیں اور انسانی عظمت کے روشن پہلو بھی۔ وہ زندگی کو فلسفے کی خشک بحث نہیں بناتے بلکہ اسے روزمرہ کے تجربات، واقعات اور کرداروں کے ذریعے ہمارے سامنے زندہ کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں پڑھتے ہوئے قاری کو اپنے اردگرد کی دنیا بھی دکھائی دیتی ہے اور اپنے اندر کا انسان بھی۔

شاید زندگی کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ وہ ہر لمحے ایک نئی کہانی جنم دیتی ہے، ہر چہرے میں ایک نیا باب چھپا ہوتا ہے اور ہر انسان اپنے اندر ایک پوری کائنات لیے پھرتا ہے۔ زندگی آخرکار شاید کسی تعریف کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے سفر کا نام ہے جسے ہر انسان اپنی الگ راہ، الگ انداز اور الگ کہانی کے ساتھ طے کرتا ہے۔

Check Also

Chasham Deed Gawah

By Zulfiqar Ahmed Cheema