Sunday, 01 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Wo Paras Tha

Wo Paras Tha

وہ پارس تھا

کہتے ہیں ایک درویش کے پاس ایک نوجوان آیا اور عرض کی کہ حضرت! میں جس کام کو ہاتھ لگاتا ہوں ناکام ہو جاتا ہوں، نصیب میرا ساتھ نہیں دیتا۔ درویش مسکرایا، اسے اپنے ساتھ کھیتوں کی طرف لے گیا، مٹی کی ایک ڈھیری پر ہاتھ رکھ کر بولا: بیٹا! یہ مٹی خود کچھ نہیں، لیکن کسان کے ہاتھ میں ہو تو اناج بن جاتی ہے، معمار کے ہاتھ میں ہو تو گھر بن جاتی ہے، کمہار کے ہاتھ میں ہو تو برتن بن جاتی ہے۔ مسئلہ مٹی کا نہیں، ہاتھ کا ہے، قسمت کا نہیں، کردار کا ہے۔ نوجوان خاموش ہوگیا۔ تاریخ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں مٹی بھی سونا ہو جاتی ہے۔ وہ خود پارس نہیں ہوتے، ان کی نیت، ان کی دیانت اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت پارس بن جاتی ہے۔ ہمارے عہد میں اگر کسی ایک شخصیت پر یہ مثال پوری اترتی ہے تو وہ نورخان تھے۔

وہ پارس تھا۔ وہ پارس تھا جس چیز کو ہاتھ لگاتا سونا بنا دیتا۔ ایک بے مثال ہواباز، ایک منتظمِ اعلیٰ، ایک ایسا افسر جس کے فیصلوں میں جرأت بھی تھی اور جمال بھی۔ جب وہ پاک فضائیہ کی قیادت پر فائز ہوئے تو یہ صرف ایک عسکری ادارہ نہ رہا، یہ پیشہ ورانہ وقار، نظم و ضبط اور قومی اعتماد کی علامت بن گیا۔ 1965 کی جنگ کا تذکرہ ہو یا بعد کے مشکل ادوار، ان کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود اگر قیادت باوقار اور باصلاحیت ہو تو نتائج تاریخ بدل دیتے ہیں۔ وہ محض جہاز نہیں اڑاتے تھے، وہ حوصلے اڑاتے تھے، وہ صرف اسکواڈرن نہیں سنبھالتے تھے، وہ ایک قوم کے اعتماد کو سمت دیتے تھے۔ ان کے دور میں فضائیہ نے نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ تربیت، منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی خودمختاری میں بھی ایسی مثال قائم کی جسے آج بھی نصابِ قیادت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

لیکن نور خان صرف عسکری قیادت تک محدود نہیں تھے۔ انہیں جب پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز کی باگ ڈور دی گئی تو قومی ایئر لائن محض ایک سفری ادارہ نہیں رہی، وہ پاکستان کی شناخت بن گئی۔ وقت کی پابندی، سروس کا معیار، عالمی روٹس کی توسیع اور پیشہ ورانہ وقار، یہ سب اس عہد کی نشانیاں بنیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کی بڑی ایئر لائنز کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے بھی پی آئی اے کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ نور خان نے ثابت کیا کہ سرکاری ادارے ناکامی کی علامت نہیں ہوتے، ناکام قیادت کی علامت ہوتے ہیں۔ انہوں نے میرٹ کو رواج دیا، اقربا پروری کو دیوار سے لگایا اور ادارے کو افراد کے بجائے اصولوں کے تابع کیا۔ ایک فوجی پس منظر رکھنے والا شخص جب سویلین ادارے کو بھی اسی دیانت اور نظم سے سنبھالے تو یہ اس کے وژن کی وسعت کا ثبوت ہوتا ہے۔

پھر وقت آیا جب انہیں کھیل کے میدان میں بھی ذمہ داری سونپی گئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی ہو یا قومی کھیلوں کی تنظیم نو، نور خان نے جہاں بھی قدم رکھا وہاں معیار بلند ہوا۔ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی شناخت صرف میدانِ جنگ سے نہیں بنتی، کھیل کے میدان سے بھی بنتی ہے۔ نظم و ضبط، شفاف انتخاب اور طویل المدت منصوبہ بندی، یہ ان کے طرزِ قیادت کے بنیادی ستون تھے۔ بحیثیت ایک ہاکی، فٹ بال، کرکٹ فین، کھلاڑی، امپائر، ریفری اور کوچ آپ میں سے بہت سے جانتے ہیں کہ کھیل میں فیصلے کی دیانت کتنی اہم ہوتی ہے، نور خان کی زندگی گویا اسی دیانت کی عملی تفسیر تھی۔ انہوں نے یہ سبق دیا کہ ادارے شخصیت کے سائے میں نہیں، اصول کے سائے میں پھلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام کسی عہدے کا محتاج نہیں، عہدے ان کے نام سے وقار پاتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں اکثر ہم وسائل کی کمی کا نوحہ پڑھتے ہیں، لیکن کردار کی کمی کا اعتراف نہیں کرتے۔ نور خان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ اصل سرمایہ خزانے میں نہیں، قیادت کے ضمیر میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کبھی خود کو پیش نہیں کیا، انہیں حالات نے پیش کیا، انہوں نے کبھی شہرت کا تعاقب نہیں کیا، شہرت نے ان کا تعاقب کیا۔ آج جب ہم قومی اداروں کی زبوں حالی پر گفتگو کرتے ہیں تو ہمیں کسی جادوئی نسخے کی ضرورت نہیں، ہمیں نور خان جیسے کردار کی ضرورت ہے۔ ایمان دار، باوقار، پیشہ ور اور بے لوث۔ وہ پارس تھے کیونکہ ان کے ہاتھ صاف تھے، نیت شفاف تھی اور مقصد ذاتی نہیں، قومی تھا۔

قوموں کی تاریخ میں چند نام مینارِ نور کی طرح ایستادہ رہتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زوال مقدر نہیں، بدانتظامی مقدر بنتی ہے اور عروج خواب نہیں، عزم سے حاصل ہونے والی حقیقت ہے۔ نور خان اسی عزم کا نام ہے، اسی امکان کا استعارہ ہے کہ اگر قیادت درست ہو تو مٹی بھی سونا بن سکتی ہے۔

وہ شخص تھا تو شہر میں معیار بھی رہا
ہر سمت اس کے نام کا وقار بھی رہا

جو ہاتھ اٹھا تو حق ہی کے لیے اٹھا
فیصلہ اس کا عدل کا معیار بھی رہا

ادارے اس کے لمس سے زندہ مثال تھے
ہر شعبہ اس کی فکر کا اظہار بھی رہا

نہ نام کی ہوس تھی نہ منصب کی آرزو
وہ خود ہی اپنی ذات کا مینار بھی رہا

ہم ڈھونڈتے ہیں آج بھی ویسا کوئی امین
جو پارسِ وقت ہو، وفادار بھی رہا

Check Also

Great Game Ka Chotha Daur

By Imtiaz Ahmad