Monday, 17 January 2022
  1.  Home/
  2. Asif Mehmood/
  3. Kya Islamabad Mein Bewafai Ka Asaib Hai?

Kya Islamabad Mein Bewafai Ka Asaib Hai?

یہ اوائل سرما کی پورے چاند کی رات تھی۔ جھیل کے پانیوں میں چاند اترا تھا اور ماہی گیروں کی کشتی لہروں پر تیر رہی تھی۔ چھوٹا سا جزیرہ قریب آیا تو چاچے بشیر نے چپو چلانا بند کر دیے اورپہلی بار ہماری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا: اسلام آباد کی بنیادوں میں بے وفائی کا آسیب ہے۔ جب تک اسے ختم نہیں کیا جاتا یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونا"۔

بشیر چاچا راول جھیل کا پر اسرار کردار ہے۔ میں نے پہلی بار اسے جھیل کنارے دیکھا تھا۔ وہ اپنی کشتی کو باندھ رہا تھا اور ایک چھوٹا سا لڑکا اس کے ساتھ تھا، جس سے وہ کوئی بات کر رہا تھا۔ سورج جھیل کے درمیان آ چکا تھا مگر ماہی گیر کی کشتی خالی تھی۔ شاید وہ مچھلی پکڑنے میں ناکام لوٹا تھا۔ اسے دیکھتے ہی مجھے ہمنگوئے کا " اولڈ مین اینڈ دا سی"یاد آ گیا۔ یوں لگا جیسے کیوبا کا ماہی گیر، سینتیا گو، آج پھر مچھلی پکڑنے میں ناکام ہوا ہے اور اب اس بچے کو حوصلہ دے رہا ہے کہ انسان ہارجانے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا، ایک انسان برباد تو ہو سکتا ہے لیکن ہار نہیں سکتا۔ آج کی آج کے ساتھ، کل ایک نیا دن ہو گا۔ کل جب پانیوں پر دھوپ اترے گی تو ہماری کشتی مچھلیوں سے بھر چکی ہو گی۔

ماہی گیر سے دوستی کی کوشش میں پورے دو موسم بیت گئے۔ خزاں اور جاڑا سرد مہری میں گزر گیا۔ دوسرے جاڑے میں جب جھیل دھوپ نہا رہی تھی ماہی گیر نے اس آوارہ گرد کو بھی ماحول کی ناگزیر برائی سمجھ کر قبول کر لیا۔ اس روز اس کی کشتی میں بیٹھ کر میں نے گورکھ پان کا قہوہ پیا تھا۔

ماہی گیر نیلاں بھوٹو کا رہنے والا ہے۔ سی ڈی اے کا ریٹائرڈ ملازم ہے۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ داستان گو ہے۔ جاڑے کی رت میں جب اوپر برفیں پڑتی ہیں تو مارگلہ کے پہاڑوں پر کہاں کہاں چیتے آتے ہیں، اماوس کی راتوں میں جھیل کے کن گوشوں پر بھوت پریت اترتے ہیں، مارگلہ کے کس کس گائوں میں کون کون سا شکاری رہتاہے اور ٹریل فائیوکی گھپائوں میں کون رہتا ہے۔ یہ سب اسے معلوم ہے۔ قہوے کے ہر گھونٹ کے ساتھ البتہ داستان گو کو داد دینا پڑتی ہے ورنہ کہانی آگے نہیں پڑتی۔ وہ منجدھار میں پھنس جاتی ہے۔ ماہی گیر کا خیال ہے کہ کہانی بھی کشتی کی طرح ہوتی ہے، داد کا چپو چلتا رہے تو کہانی رواں رہتی ہے ورنہ رک جاتی ہے۔

جھیل پر جب پورے چاند کی رات اترتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ ۔۔۔ داستان گو نے ایک روز ایسا سماں باندھا کہ دل بے قابو ہو گیا۔ طے ہوا کہ اگلی بار جب پورے چاند کی رات آئے گی تو ماہی گیر کی کشتی اجڑے مندر کی دیوار کے پاس ہماری منتظر ہوگی۔ ان دنوں راول جھیل کھلی تھی اور سیاحوں کی آمد پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ سیاح اپنی گاڑیوں پر آتے تھے اور عین مندر کی دیوار کے ساتھ گاڑی پارک کرتے تھے۔ سر شام ہی ہم مندر کی منڈیر پر جا کر بیٹھ گئے۔ دن ڈھلا، ، سیاح رخصت ہوئے، شام اتری اور چاند طلوع ہو گیا۔ اس کی کرنیں مندر پر دھرم شالا کی کھڑکی پر پڑ رہی تھیں۔ ایک بار تو جی چاہا مندر کی سیڑھیاں اتر کر " گربھا گریہا" تک جایا جائے لیکن اس خاموشی میں اس پانچ سو سال قدیم مندر کے اندر جانے کی ہمت نہ ہو سکی۔ ہم دوستوں نے ہمت کی اورد ھرم شالا کی چھت پر جا کر بیٹھ گئے۔

پورے چاند کی رات میں دھرم شالا کی چھت سے جھیل کا منظر ایک طلسم تھا۔ لہروں پر تیرتا ڈوب چاند دیکھا تو بیدل حیدری یاد آ گئے:

رات کو روز ڈوب جاتا ہے

چاند کو تیرنا سکھانا ہے

چپوکی آواز سے یہ طلسم ٹوٹا۔ ماہی گیر کشتی لے کر آن پہنچا تھا۔ دھرم شالے کی چھت سے اتر کر ہم کشتی میں جا بیٹھے۔ کچھ چاند کی باتیں ہوئیں کچھ جھیل کے قصے کہے گئے اور پھر وہی المیہ کشتی میں اتر آیا جو اہل وطن کی ہر محفل کا عارضہ بن چکا ہے۔ سیاست پر گفتگو ہونے لگی اور کشتی میں سوار ہر آدمی یہی سمجھنے لگا کہ اس چاندنی رات میں اگر اس نے دانشوری نہ فرمائی تو جھیل خشک ہو جائے گی اور چاند کو گرہن لگ جائے گا۔ کشتی اب جزیرے پر آ پہنچی تھی۔ چاچے بشیر نے چپو چلانا بند کر دیے اور پہلی بار ہماری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا: اسلام آباد کی بنیادوں میں بے وفائی کا آسیب ہے۔ جب تک اسے ختم نہیں کیا جاتا یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونا"۔

رات کے دوسرے پہر جب ہم مچھلی کھا چکے اور گورکھ پان کا قہوہ پی چکے تو میں نے بشیر چاچا سے پوچھا: جھیل پر بھوت کا آسیب تو سنا تھا یہ بے وفائی والے آسیب کی کہانی کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جب یہ شہر بن رہا تھا تو حکومت نے اعلان کیا کہ اچھا سا نام تجویز کیا جائے اور جس کا نام حکومت کو پسند آ ئے گا اسے اس شہر میں پلاٹ ملے گا اور نقد انعام بھی دیا جائے گا۔ بہت سے لوگوں نے نام بھیجے لیکن پاک پتن شریف کے ایک ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر عبد الرحمن کا بھیجا نام حکومت کو پسند آیا۔ یہ نام اسلام آباد تھا۔ حکومت نے یہ نام تو رکھ لیا لیکن ماسٹر صاحب کے ساتھ بے وفائی کی۔ انہیں نہ پیسے دیے نہ کسی نے پلاٹ دیا۔ ماسٹر جی نے خط بھی لکھے اور ایک بار شاید وہ آئے بھی تھے۔ لیکن کسی افسر نے ان کی بات نہیں سنی۔ اس شہر کی ابتدا ہی بے وفائی سے ہوئی ہے۔ اسی لیے یہاں کسی کام میں برکت نہیں رہی۔ ماسٹر جی کے پیسے اور ماسٹر جی کا پلاٹ جب تک ان کے حوالے نہیں کیا جاتا اس شہر میں برکت نہیں آ سکتی۔

سالوں بعد آج ملکی حالات دیکھ کر مجھے چاچا بشیر یاد آ رہا ہے اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کیا یہ ممکن ہے حکومت پاک پتن کے ماسٹر عبدالرحمن صاحب کو تلاش کرے، وہ زندہ ہیں تو ان کے پاس جائے، وہ فوت ہو چکے ہیں تو ان کے لواحقین کے پاس جائے۔ ان سے معذرت کرے۔ ان کا انعام اور ان کا پلاٹ ان کے حوالے کر آئے۔ کیا عجب بے وفائی کا یہ آسیب ختم ہو جائے اور شہر میں برکتیں آ جائیں۔