Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Asif Mehmood/
  3. Kya Hum Abnormal Zindagi Guzar Rahe Hain?

Kya Hum Abnormal Zindagi Guzar Rahe Hain?

نہ کوئی اچھا ڈرامہ بن رہا ہے نہ کوئی اچھی فلم، نہ کوئی اعلی درجے کا اداکار سامنے آ رہا ہے نہ ادیب، نہ کوئی شاہکار افسانہ لکھا جا رہا ہے نہ شعر، نہ کوئی بڑا گلوکار باقی بچا ہے نہ فنکار۔ نہ کہیں شعرو ادب کی بات ہو رہی ہے نہ فنون لطیفہ کی۔ نہ کوئی علمی محفل باقی بچی ہے نہ فکری نشست۔ پورے ملک کے پاس ایک ہی موضوع ہے اور وہ ہے سیاست۔ شادی کی تقریب ہو یا جنازہ اٹھایا جا رہا ہو اہل وطن سیاست کی گتھیاں سلجھاتے پائے جاتے ہیں۔ سیاست ہی ان کا مزاح ہے، سیاست ہی فنون لطیفہ، یہی ڈرامہ ہے، یہ آرٹ، اسی سے کتھارسس ہوتا ہے اسی سے صف بندی ہوتی ہے۔ اس ملک میں اگر سماج کسی کا موضوع ہوتا اور سماجیات پر تحقیق ہوا کرتی تو کوئی بتاتا ہم کتنے بڑے عارضے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ اس اودھم کو دیکھتا ہوں تو کبھی خیال آتا ہے کیا ہم ایک ابنارمل زندگی گزار رہے ہیں؟

ایک معاشرے کے مختلف رنگ ہوتے ہیں، ذوق کے بھی اور شوق کے بھی۔ معاشرے میں تنوع ہوتا ہے۔ معاشرے میں ایک روانی ہوتی ہے۔ معاشرہ تمام اکائیوں کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھنے کا نام ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے ہم نے سارے شعبے اور سارے کام ملتوی کر کے ایک طرف رکھ دیے ہیں اور ہم بال بچوں سمیت سیاست میں غرق ہو چکے ہیں۔ سیاست کے علاوہ ہمارے پاس نہ کوئی موضوع ہے نہ کوئی سرگرمی۔ کیا ایک صحت مند اور نارمل معاشرہ ایسا ہوتا ہے؟

معاشرے کی ایک افتاد طبع ہوتی ہے۔ کوئی شاعری کی طرف مائل ہے، کوئی سیاحت کی جانب، کسی کو پہاڑ بلا رہے ہوتے ہیں تو کوئی صحرا کے سہرے کہہ رہا ہوتا ہے، کوئی حسن فطرت میں ڈوبا ہوتا ہے تو کوئی حسن یار میں۔ کہیں کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں تو کہیں شعر و ادب کی دنیا آباد ہوتی ہے۔ کوئی فلم ڈراما بن رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی علمی اور فکری تخلیق ہو رہی ہوتی ہے۔ کہیں ٹیکنالوجی کی نئی دنیا آباد ہو رہی ہوتی ہے تو کہیں تحقیق نئی منازل طے کر رہی ہوتی ہے۔ معاشرے میں ان تمام سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان پر بحث بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں یوں لگتا ہے باقی سب کچھ منجمد ہو چکا ہے اور صرف سیاست ہو رہی ہے چنانچہ ہر طرف بحث بھی صرف سیاست پر ہی ہوتی ہے۔ دفاتر میں سیاست، گھروں میں سیاست، شادی بیاہ کی تقاریب میں سیاست، جنازے پر سیاست، بد حواسی کا ایسا آسیب اترا پڑا ہے کہ کسی کے پاس سیاست کے علاوہ بات کرنے کا کوئی موضوع نہیں رہا۔

اخبارات اٹھا کر دیکھیں تو صفحہ اول پر بھی سیاست اور صفحہ آخر پر بھی سیاست، کالموں کا موضوع بھی سیاست، تجزیوں کا میدان بھی سیاست۔ ٹی وی آن کریں تو خبر بھی سیاست، ٹاک شو بھی سیاست، تجزیہ کاری بھی سیاست اوردانشوری بھی سیاست۔ سوال وہی ہے: کیا ہمارے پاس اور کوئی موضوع نہیں؟

یہ ہم نے اپنے معاشرے کے ساتھ کر کیا دیا ہے۔ ٖفنون لطیفہ اجنبی بن چکے اور حس لطیف ختم ہو گئی۔ اب جنون ہے وحشت ہے اور سیاست۔ انسانی طبیعت کے جتنے تقاضے ہیں ہم نے بھلا دیے۔ اس خلاء کو سیاست اور سیاست دانوں نے بھر دیا ہے۔ فلم اور ڈرامے ختم ہو گئے، اب اہل سیاست کے ٹاک شوز اور ان کی چالاکیاں گویا معاشرے کے لیے فنون لطیفہ ہیں۔ یہی ہیرو ہیں، یہی ولن، لوگ انہیں دیکھتے ہیں، ہنستے ہیں، لطف اندوز ہوتے ہیں، ان پر مزاحیہ پوسٹس ہوتی ہیں، میمز بنائی جاتی ہیں۔ مزاح سے طنز تک جتنی بھی تخلیق ہو رہی ہے اس کا عنوان سیاست ہے۔

ذوق لطیف سے لے کر زندگی کے جبر تک جتنے بھی موضوعات تھے، اجنبی ہو چکے۔ اہل علم اور صاحب فن اجنبی ہوتے جا رہے ہیں۔ اب کالم نگار اور اینکر پرسن ہی بقلم خوددانشور ہے اور وہ دنیا کے ہر موضوع پر قوم کی رہنمائی کرنے کو ہر وقت دستیاب ہے۔ حتی کہ کہیں دورے پر جائے یا کسی کی دعوت پر، میزبان کی مدح اور اپنا احوال یوں بیان کرتا ہے گویا اسے گمان ہو یہ سب لکھا نہ گیا تو آنے والی نسلیں علمی سرمائے سے محروم رہ جائیں گی۔ خوفناک سطحیت نے معاشرے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ابلاغ کی دنیا میں سر شام ٹاک شوز کی محافل سجتی ہیں، موضوعات کا چنائو پست فکری کا نوحہ کہہ رہا ہوتا ہے۔ مکالمے کا کلچر تباہ ہو چکا ہے۔ دلیل اور شائستگی کی جگہ شعلہ بیانی نے لے لی ہے۔ سرخرو ہونے کا پیمانہ اب دلیل اور شعور نہیں زبان ہے۔ جس کی کاٹ زیادہ ہے، میدان اسی کے نام ہے۔

جس سیاست نے ہمارے موضوعات کو چاٹ کھایا، جس سیاست کے لیے لوگ دست و گریبان ہوئے پڑے ہیں اور جس سیاست کے لیے دوستیاں ہی نہیں لوگوں نے خونی رشتے بھی دائو پر لگا دیے ہیں، کبھی آپ نے سوچا کہ اس سیاست میں ایک عام آدمی کا کردار ہی کتنا ہے؟ اس کی حیثیت کیا ہے ا ور اس کی کل اوقات کتنی ہے؟ ایک عام آدمی کے لیے پارلیمان کے سارے راستے بند ہیں۔ انتخابی کھیل اتنا مہنگا ہے کہ اس کی دسترس سے دور ہے۔ گماشتے اور کارندے تو حق بجانب ہیں جو اس امید پر پارٹیوں کی ڈور سے بندھے ہوتے ہیں اور انوسٹمنٹ کرتے ہیں کہ اقتدار آئے تو وہ اس بندر بانٹ میں سے سود سمیت حصہ وصول کریں۔ لیکن ایک عام آدمی کے لیے اس سارے کھیل میں کیا رکھا ہے؟ وہ اپنے سماجی تعلقات اور رشتے کس لیے دائو پر لگائے بیٹھا ہے؟

ابھی خبر چل رہی ہے کہ مسجد نبوی میں جن لوگوں نے سیاسی نعرے بازی کی تھی انہیں سعودی عرب میں سزا سنا دی گئی ہے۔ کسی کو دس سال قید تو کسی کو آٹھ سال قید۔ ہمارے لیے اب سوچنے کا مقام یہ ہے کہ اس سیاست میں ہم اس حد تک کیوں چلے گئے کہ نہ ادب رہا نہ حیا رہی؟ یہ کیسی وحشت ہے جو اس سیاست نے ہمارے وجودوں میں بھر دی ہے۔ یہ لوگ یہاں سے محنت مزدوری کرنے گئے تھے۔ سیاسی جہنم نے ان کی دنیا اجاڑ دی۔ آخرت کا معاملہ خدا جانتا ہے، دلوں کے حال بھی وہی جانتا ہے، وہ رحیم بھی ہے اور کریم بھی، خدا سب پر رحم فرمائے، لیکن ان سزا یافتہ لوگوں نے اپنے سے جڑے اپنے خاندانوں کے کتنے ہی خواب اجاڑ دیے؟ کس لیے؟

کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم چیزوں کی ترتیب درست کریں، ان میں توازن اور اعتدال لائیں اور یہ بات جان لیں کہ زندگی محض سیاست کا نام نہیں۔ اس کے اور بھی بہت سے اجزائے ترکیبی ہیں۔ زندگی شعر و ادب بھی ہے، زندگی ابرو کہسار بھی ہے، زندگی جینے اور مر مر کے جینے کی کوہ کنی کا نام بھی ہے، زندگی ناتمام حسرتوں کا آزار بھی ہے، زندگی سرشاری بھی ہے اور حزن بھی۔ زندگی مروت اور وضع داری بھی ہے اور زندگی شرم و حیا بھی ہے۔ زندگی ان تمام سے بے نیاز ہو کر صرف سیاست کا ہو کر رہنے کا نام نہیں ہے۔

Check Also

Mythology

By Sana Shabir