Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Ashraf Sharif/
  3. Jamhuriat Ka Kharcha

Jamhuriat Ka Kharcha

ایک وفاقی، جمہوری اور عوامی جماعت کو برباد کرنے کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کے عوام سرمائے اور جعل سازی کے ملاپ سے ابھرنے والے سیاستدانوں کے نرغے میں ہیں۔ لاہور کے حلقہ این اے 133 میں ضمنی انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔ پی ٹی آئی امیدوار اپنی غلطی کے باعث مقابلے سے باہر ہو چکے۔ مسلم لیگ ن کی امیدوار شائستہ پرویز عدت کے ایام میں ہیں۔ مسلم لیگ ن نے تاحال حلقے میں کوئی سیاسی سرگرمی شروع نہیں کی۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل ہیں جو روزانہ کئی کئی مقامات پر انتخابی جلسے کر رہے ہیں۔

اسلم گل کو ایک برتری یہ حاصل ہے کہ وہ حلقے کے سکونتی ہیں۔ ان کے جلسوں اور انتخابی مہم کو کامیاب کرنے کے لیے کئی مرکزی رہنما این اے 133 میں بیٹھے ہیں، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید اور سندھ سے شہلا رضا۔ نوجوان تحریک انصاف سے مایوس ہو کر پیپلزپارٹی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ اس سارے عمل میں فیصل میر اور پیپلزپارٹی لاہور کے ان کارکنوں کا کردار اہم ہے جو شہر میں پی پی کا احیاء چاہتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی کو نوازشریف کی دولت کے ذریعے تباہ کیا۔ دنیا بھر سے دولت جمع کر کے نوازشریف کو دی گئی، عورت کی حکمرانی کے مخالف نوازشریف کے اے ٹی ایم بنے، دائیں بازو کی بالادستی برقرار رکھنے کے خواہشمند نوازشریف کے مالی مددگار ٹھہرے، نچلے طبقات کے مخالفین نے نوازشریف کو پیسہ دیا، بتایا گیا کہ بے نظیر بھٹو سکیورٹی رسک ہیں، ملک کو ان سے بچانے کے آرزو مند نوازشریف کی مدد کو آئے۔ بتایا گیا کہ پیپلزپارٹی سرمایہ داری کو ختم کر دے گی، سارے سرمایہ دار ہاتھ میں چیک لیے اور بریف کیس پکڑے نوازشریف کی خدمت میں حاضر کر دیئے گئے۔ یہاں تک کہ جہاد کی مخالف بتا کر عرب جہادیوں سے رقوم ہتھیالی گئیں۔ یہ سب ہاتھ نوازشریف کی جیب میں پیسے ٹھونس رہے تھے، جو کمی رہ گئی وہ آئی جے آئی بنا کر پوری کرلی گئی۔

پیپلزپارٹی کی ایک کمزوری آصف علی زرداری تھے۔ آصف علی زرداری نے کسی کی پروا کی نہ کسی نے ان کی۔ وہ بہت سے سکینڈلز کا مرکزی کردار بنائے گئے۔ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا بھی جواب نہ دیا، اس لیے آج بھی ان کے مخالفین انہیں برے القابات سے یاد کریں تو وہ نوٹس نہیں کرتے۔

بے نظیر بھٹو ذاتی طور پر اپنے عہد کے سیاستدانوں میں نسبتا سمجھدار تھیں، ان کے ساتھی اور اردگرد کے لوگ کرپشن میں ملوث رہے۔ تیسری دنیا کی جمہوریت کرپشن سے چلتی ہے کیونکہ ریاست جمہوریت کا مالی بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ جمہوریت اپنا خرچ بھتے، کمیشن اور کک بیکس سے نکالتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت جاگیردار ہے لیکن جماعت میں ہمیشہ متوسط اور نچلے طبقات کی نمائندگی باقی جماعتوں کی نسبت زیادہ رہی ہے۔ اختیار ملنے پر یہ غریب لوگ جمہوریت کا خرچ چلانے کے لیے جو کرپشن کرتے اسے پی پی مخالف حلقے آصف زرداری سے جوڑ دیتے۔ یوں بے نظیر اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کو حقیر بنا دیا گیا۔

مسلم لیگ ن نے جمہوریت کا خرچ مختلف ادوار میں مختلف ذرائع سے پورا کیا۔ وہ کہانی تو سنی ہوگی: جنگل کے قریب بستی میں ایک شکاری آیا۔ بستی والوں کو پیشکش کی کہ ایک بندر پکڑکر لائو تو 100 روپے ملیں گے۔ فارغ نوجوان گئے اور چند بندر شکار کرلائے۔ شکاری نے اگلے دن اعلان کیا کہ ایک بندر کے بدلے 500 ملیں گے۔ یہ سن کر آدھی بستی بندرپکڑنے چلی گئی۔ دوچار دن میں جنگل سے تمام بندر شکاری کے پنجرے میں بند ہو گئے۔ اب شکاری نے اعلان کیا کہ ایک بندر کے بدلے 700 ملیں گے۔

ساری بستی کے لوگ جنگل کے کونے کونے میں پھیل گئے لیکن کوئی بندر نہ ملا۔ شکاری کے کارندوں نے شہر میں ایک دکان پر بندر فروخت کرنا شروع کردیئے۔ ایک بندر کی قیمت 500 رکھی۔ ایک کارندے نے عام آدمی کا بھیس بدل کر بستی والوں کو 500 روپے میں بندر ملنے کی خبر دی۔ لوگ پانچ کا بندر خرید کر 700 میں بیچنے کے لالچ میں سارے بندر خرید لائے۔ اب ٹھگ شکاری کا کام پورا ہو چکا تھا۔ لوگ بندر لے کر بیٹھے رہ گئے۔ مسلم لیگ ن نے اے ایس آئی اور پٹواری مفت میں بھرتی کئے، پھر نائب قاصد سے لے کر گزیٹڈ افسران تک کی آسامیوں کے نرخ مقرر ہو گئے۔ قریبی لوگ جمہوریت کا خرچہ پورا کرتے رہے۔

عام لوگوں کے بچوں پر ملازمت بین لگایا جاتا رہا۔ یہ طریقہ بدنام ہوا تو پلاٹوں پر قبضے شروع ہو گئے۔ کئی پلاٹوں پر قبضے میں براہ راست حکمران شہزادے کا نام آیا۔ فیروز پور روڈ پر ماڈل ٹائون موڑ کے پاس وہ پلاٹ اب بھی چار دیواری کے ساتھ پڑا ہے جس پر اقتدار کے آخری دنوں قبضہ ہوا۔ اقتدار رہتا تو اب تک پلازہ تعمیر ہو چکا ہوتا۔ اس عہد میں پراپرٹی ڈیلر اور بلڈروں کی بڑی تعداد مسلم لیگ میں آئی۔ اسلام آباد اور لاہور میں سبھی ن لیگی نمائندے پراپرٹی ڈیلر ہیں۔ یہ کام زیادہ محفوظ تھا۔ گڑ بڑ کا الزام مقامی بدمعاشوں اور پراپرٹی ڈیلروں پر آتا۔ قیادت اپنے لوگوں کے جرائم سے لاتعلقی کا اظہار کردیتی۔

ایک اور طریقہ موٹروے کی تعمیر کے دوران آزمایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی کمیشن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔ میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے معاملات بھی۔ میٹرو بس منصوبے کا ریکارڈ ایل ڈی اے پلازہ میں محفوظ تھا۔ وہاں آگ لگا دی گئی۔ کچھ ریکارڈ سیکریٹریٹ میں تھا، وہ بھی جل گیا۔ اس مسلم لیگ ن کو مقبول اور نیک نام بتانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے کیا کچھ نہ کیا۔ کون سے پاپڑ تھے جو نہ بیلے گئے۔ ایک سیانے رابر ٹ گلبرٹ نے کہا تھا؛ پہلے ہم عادتیں بناتے ہیں، پھر عادتیں ہمیں بناتی ہیں۔ اپنی بری عادتوں پر قابو پائو ورنہ وہ تم پر قابو پا لیں گی۔ جمہوریت کیسی ہو، اس کی اقدار کیسی ہوں، ہم نے غلط روایت کی پرورش کی۔ اب اسٹیبلشمنٹ کے گلے نواز شریف پڑ گیا ہے تو کچھ شرمندگی کا اظہار، تاسف، معذرت تو بنتی ہے۔