Tuesday, 03 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Asad Jootah
  4. Aik Lahu Rang Sisakti Tareeh, Iran

Aik Lahu Rang Sisakti Tareeh, Iran

ایک لہو رنگ سسکتی تاریخ، ایران

تاریخ کو اگر ہم غور سے دیکھیں تو ایران کی کہانی دکھوں اور جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ 1979 کا وہ مشہور انقلاب، جس کے لیے روشن خیالوں اور دانشوروں نے اپنا خون پسینہ ایک کیا تھا، ایک ایسی امید تھی جس نے بادشاہت کا خاتمہ کیا۔ اگرچہ اس سفر میں کئی تلخیاں بھی آئیں، اپنوں کا خون بھی بہا اور تودہ پارٹی کے کارکنوں جیسی قربانیاں بھی دی گئیں، لیکن آج جب ہم ایران کو دنیا کے نقشے پر دیکھتے ہیں، تو تمام پرانے گلے شکوے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ آج سوال ایران کی بقا اور اس کی غیرت کا ہے۔

​آج دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ آج دنیا بھر کے تمام سچے مسلمان، چاہے ان کا تعلق کسی بھی فقہ یا فرقے سے ہو، وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج امتِ مسلمہ ایک حقیقی، نڈر اور بہادر سپہ سالار سے محروم ہوگئی ہے۔

​آج کے حالات ہمیں سیدھا کربلا کے میدان کی یاد دلاتے ہیں۔ ذرا یاد کیجیے 61 ہجری کا وہ منظر، جب ایک طرف امام حسینؑ کا چھوٹا سا لشکر تھا اور دوسری طرف ہزاروں کا یزیدی لشکر، جو صرف طاقت اور سلطنت کا بھوکا تھا۔ امام حسینؑ جانتے تھے کہ سامنے موت کھڑی ہے، لیکن انہوں نے ظالم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے کٹوانا بہتر سمجھا۔ بظاہر یزید جیت گیا، لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ رہتی دنیا تک جیت صرف حسینؑ کی ہوئی۔

​آج پھر وہی منظر ہے۔ پوری دنیا کی بڑی طاقتیں ایک طرف ہیں اور ایران تنِ تنہا ایک طرف کھڑا ہے۔ آپ کے سیاسی یا مذہبی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ اس وقت "حسینی" راستے پر کون ہے اور "یزیدی" طریقے پر کون؟ کون ہے جو مسلمانوں کو مٹانے پر تلا ہوا ہے اور کون ہے جو تمام تر پابندیوں کے باوجود نعرہِ تکبیر بلند کرکے ڈٹا ہوا ہے؟ کیا ہم غزہ کے مظلوموں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے؟

​آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی جرات کی ایک جیتی جاگتی مثال تھی۔ انہوں نے دہائیوں تک امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ وہ ایک ایسے بہادر لیڈر تھے جنہوں نے اپنی قوم کو جھکنا نہیں سکھایا۔ ان کی شہادت یقیناً ایک بہت بڑا صدمہ ہے، لیکن حسینی سوچ رکھنے والوں کے لیے شہادت ایک انعام ہوتی ہے۔ خامنہ ای نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف باتیں نہیں کرتے تھے، بلکہ حق کی راہ میں اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار تھے۔ ان کے جانے سے کام نہیں رکے گا، کیونکہ جہاں ایک حسینی گرتا ہے، وہاں کئی اور علم تھامنے والے پیدا ہو جاتے ہیں۔

​پاکستان کے لیے بھی یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے۔ ایران ہمارا پڑوسی اور اسلامی بھائی ہے۔ جب ایران کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بھائی کا مکمل ساتھ دیں۔ مدد کا مطلب صرف ہتھیار اٹھانا نہیں ہوتا، بلکہ ظالم کو ظالم کہنا اور مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا بھی سب سے بڑا جہاد ہے۔ اگر ہم آج خاموش رہے تو یاد رکھیے کہ ظالم کا ہاتھ کسی کا دوست نہیں، آج باری ان کی ہے تو کل ہماری بھی ہو سکتی ہے۔

​کربلا کے بعد بہت سے لوگ تاحیات یہ کہہ کر روتے رہے کہ "کاش ہم اس وقت وہاں ہوتے تو امام حسینؑ کی مدد کرتے"۔ آج پھر تاریخ نے ہمیں اسی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ آج ہم زندہ ہیں اور ہمارے سامنے حق اور باطل کی جنگ ہو رہی ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہم بھی صرف افسوس کرتے رہ جائیں۔ آئیے، ظالم کے خلاف آواز بلند کریں اور ایران کے اس دکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں، کیونکہ ظلم جہاں بھی ہو، وہ ظلم ہی ہے۔

​خدا ایران کی حفاظت کرے اور ہم سب کو حق کا ساتھ دینے کی ہمت دے۔

Check Also

Sikar Unani Ne Iran Kese Fatah Kiya Tha?

By Rauf Klasra