Ayatullah Khamenei Ki Shahadat Aur Iran Ka Rad e Amal
آیت اللہ خامنائی کی شہادت اور ایران کا رد عمل
ایران کے سپریم لیڈر اور مسلمانوں کے روحانی پیشوا کی شہادت کے بعد حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایران کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اور استعمال کرنے کے لئے ابھی بہت سارے کارڈز موجود ہیں۔ آیت اللہ خامنائی کی شہادت ایران کے لئے اک بڑا صدمہ ہے۔ جیتے جی خامنائی جمہوریت مخالف تھا، سائنسی فکرکے بھی خلاف تھا، ان کے طویل دور میں انسانی حقوق کی پامالیاں بھی ہوئی، عورتوں کی آزادی کا مسئلہ بھی بارہا سر اٹھاتا رہا، شہریوں کی مورل پولیسنگ تو باقاعدہ جارج آرویل کے 1984 کا منظر پیش کرتی رہی لیکن یہ سب پھر بھی ایران کے اندرونی مسائل تھے۔
رہی بات جمہوریت کی تو جمہوریت کوئی حرف آخر بھی نہیں، انسانوں سے ان کی نام نہاد آزادی چھینو لیکن ان کا معیار زندگی بہتر بناؤ۔ ایران کے عام لوگوں کا معیار زندگی اور ان کو دی جانے والی سہولیات اتنی ہے جتنی پاکستان میں ڈی ایچ اے میں رہنے والوں کو ہی میسر ہوسکتی ہے۔ ان کا نظام تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور نکاسی آب وغیرہ کا نظام پاکستان سے ہزار درجے بہتر ہے۔ ایران میں قدرتی وسائل بھی بے حد وافر مقدار میں ہے اور ان کی منیجمنٹ بھی ترقی پذیر ممالک کے بہ نسبت بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔
مختلف اعداد وشمار کے مطابق ایران خطے کے بہت سارے ممالک سے بہت آگے ہے۔ ہاں اک اسلامی ایٹم بم کی کمی وہ تاحال پوری نہیں کرسکے جس کی وجہ سے دفاعی صلاحیتوں میں پاکستان اس سے آگے ہیں لیکن ان کی کوشش اب بھی جاری ہے۔
سعودی اور دوسرے خلیجی ممالک کا ایران سے علاقائی حاکمیت پر اختلاف ہے۔
تاریخی طور پر سعودی کو خار اس لئے ہے کہ جب عرب کی تپتی صحراؤں میں اسلامی لشکر بقا کی جنگ لڑرہا تھا تب ایران اپنے عروج کے بہت سے ادوار دیکھ چکا تھا۔ ایران کا تاریخی اور ثقافتی ورثہ عربوں سے بہت زیادہ گہرا اور وسیع تھا۔ اسی cultural inertia نے تاریخی طور پر انہیں عربوں سے مختلف راستہ چننے پر مجبور کیا۔
خامنائی کی شہادت کے بعد اب مسئلہ یہ ہے کہ ایران میں ان کے جتنے مخالفین تھے، جتنے لوگ بھی تحریک چلا رہے تھے اس کی موت کے بعد ان تمام تحریکوں سے جان نکل گئی ہے اور وہ بھی امام خامنائی کی عظمت کے گن ہی گائے گیں کیوں کہ وہ ایران کی عظمت کے خاطر شہید ہوگیا۔
امریکہ اور اسرائیل کو ایران سے مسئلہ یہ ہے کہ ایران اپنی من مانی کرتا ہے، فلسطین پر اس کا موقف واضح ہے، مختلف خلیجی ممالک میں مختلف تحریکوں (یمن کے حوثیوں، لبنان کے حزب اللہ، ترکی کے کرد تحریک اور شام کے بشار الاسد حکومت جو اب نہیں رہی)کو بھی کھل کر سپورٹ کرتا تھا۔ ایران روس اور چین سے دوستانہ تعلقات رکھتا ہے اور خلیجی ممالک میں امریکی تسلط (فوجی اڈوں) کی کھل کر مخالفت کرتا ہے۔ ایران سعودی عرب کی اس خطے پر مکمل تسلط کی راہ میں دیوار ہے۔ ایران اسرائیل کی گریٹر اسرائیل منصوبے اور غزہ پر مکمل تسلط کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ یے اور امریکہ کو یہ سب قبول نہیں، اسے تو کوئی کٹھ پتلی چاہئے جسے وہ ایران میں امام خامنائی کی جگہ بٹھا سکے۔
کٹھ پتلی خاندان یعنی پہلوی خاندان کا چشم و چراغ پہلے سے اپنی سی وی اور دیگر کاغذات جمع کرا چکا ہے اور آگے پیچھے گھوم رہا تھا۔ لیکن حالت اب یہ ہے کہ regime change جو سرد جنگ کی شروعات سے اب تک وقفہ وقفہ سے امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ رہی وہ ایران میں ناکام ہوگی اور ایران کو مختلف بحرانوں میں دھکیل دے گی اور خامنائی کے خلاف تحریک چلانے والوں اور حتی کہ پہلوی کے پہلوی کو بھی بحرانوں سے بھرا ایران قبول نہیں ہوگا۔
ایران اب اپنے کارڈز کھیل رہا ہے اور ان تمام خلیجی ممالک کو نشانہ بنارہا ہے جن میں امریکی فوجی اڈے ہیں اور جن سے ایران کو نشانہ بنایا جارہا ہے یا بنایا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ ہوگا کہ اک طرف ایران ایک سمت پر توجہ مرکوز نہیں رکھ پائے گا جو اس کی کمزوری بھی سمجھی جاسکتی ہے لیکن دوسری طرف خلیجی ممالک پر ان غیر متوقع حملوں سے دباؤ بڑھے گا اور امریکہ بھی دباؤ میں آئے گا۔
ایران آبنائے ہرمز بھی بند کرسکتا ہے اور اس بندش سے خلیجی ممالک میں تیل کی ترسیل انتہائی حد تک متاثر ہوسکتی ہے اور ان کی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے جو کوئی بھی ملک برداشت نہیں کر پائے گا۔ ایران تن تنہا (پس پردہ روس اور چین بھی ہے) جان ہتھیلی میں رکھ چکا ہے اور امریکہ اسرائیل اور خلیجی ممالک کے لئے یہ سب غیر متوقع ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے غلط داؤ کھیلا، خامنائی کی موت کو وہ آخری کارڈ کی طور پر استعمال کرسکتے تھے لیکن نہیں جلدی کا کام شیطان کا۔
امام آیت اللہ خامنائی کی شہادت کا خمیازہ اب ایران امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کو خوب بھگتو آئے گا۔

