Tuesday, 03 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Dada Behtareen Dost

Dada Behtareen Dost

دادا بہترین دوست

مجھے آج بھی یاد ہے کہ اپنی شادی پر میں نے بارات والے دن کیلئے اپنی مرضی سے تھری پیس سوٹ بنوایا جو کافی مہنگا تھا۔ ابا جی کو وہ سوٹ کافی پسند آیا تھا۔ شادی سے چار دن پہلے دوستوں کی پرزور فرمائش پر بارات والے دن شیروانی جبکہ ولیمے والے دن وہ تھری پیس سوٹ پہننے کا فیصلہ کیا جس پر ابا جی تھوڑا ناراض ہوئے۔ دادا جی کو جب پتہ چلا تو رات کو انھوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور چپکے سے پچیس ہزار روپے میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا "یہ پیسے لو اور اپنی پسند کا سوٹ لے آؤ تمہارے ابا کو میں خود منا لوں گا"۔

اگلے دن ہی میں اپنے کزن کے ساتھ لاہور گیا اور بہترین سی شیروانی خرید لایا۔ تب میں نے یہ جانا کہ "بچے کا سب سے پہلا دوست اس کا دادا ہوتا ہے، جبکہ دادا کا سب سے آخری دوست اس کا پوتا ہوتا ہے" کیوں کہا جاتا ہے۔ یہ جملہ محض لفظوں کی ترتیب نہیں، یہ وقت کے پرت پر لکھی ہوئی ایک ایسی سچائی ہے جو پڑھتے ہی دل میں اتر جاتی ہے اور اتر کر وہیں ٹھہر جاتی ہے۔

بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو دنیا اس کے لیے شور، اجنبیت اور خوف کا نام ہوتی ہے۔ ماں کی گود اسے سکون دیتی ہے، باپ کا سایہ اسے تحفظ دیتا ہے مگر دیگر مرد حضرات میں جو رشتہ اسے لفظوں سے پہلے مسکراہٹ سکھاتا ہے، جو اسے باتوں سے پہلے لمس کی زبان سمجھاتا ہے، وہ اکثر دادا کا رشتہ ہوتا ہے۔ دادا وہ پہلا انسان ہوتا ہے جو بچے کو گود میں لیتے ہوئے عمر، تھکن اور بیماری سب بھول جاتا ہے۔ اس کی جھریوں میں چھپی مسکراہٹ بچے کے لیے کھلونا بن جاتی ہے اور اس کی کانپتی آواز لوری۔

دادا بچے کو زندگی کے اس مرحلے میں ملتا ہے جب اس کے پاس وقت تو کم ہوتا ہے مگر محبت بے حساب۔ اس نے دنیا دیکھ لی ہوتی ہے، دھوکے چکھ لیے ہوتے ہیں، لوگ پہچان لیے ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ بچے کے لیے دنیا کو نرم بنا کر پیش کرتا ہے۔ جہاں ماں باپ نظم و ضبط سکھاتے ہیں وہاں دادا چھوٹے چھوٹے اصول توڑ کر مسکراہٹ خریدتا ہے۔

"ابا نے منع کیا ہے"

"کوئی بات نہیں، دادا ہیں نا"

یہ جملہ بچپن کا سب سے محفوظ قلعہ ہوتا ہے۔ ابا کی پھینٹی سے بچنے کیلئے سب سے محفوظ جگہ دادا کی آغوش ہوتی ہے۔ یہی چھوٹی چھوٹی بغاوتیں بچے کے بچپن میں رنگ گھولتی ہیں جو حسین یادیں بن کر انسان کو زندگی بھر تروتازہ رکھتی ہیں۔ دادا کہانیاں سناتا ہے۔ ایسی کہانیاں جو کتابوں میں نہیں ملتیں۔ ان کہانیوں میں گاؤں کی مٹی کی خوشبو ہوتی ہے، پرانے درختوں کی چھاؤں، سائیکلوں کی گھنٹیاں اور ایسے لوگ جن کے نام اب قبروں پر لکھے جا چکے ہوتے ہیں۔ بچہ ان کہانیوں کو سنتے ہوئے ہنستا ہے مگر دادا انہیں سناتے ہوئے ماضی میں جیتا ہے۔ وہ ہر کہانی کے ساتھ کسی کھوئے ہوئے لمحے کو چھو لیتا ہے، کسی بچھڑے چہرے کو یاد کر لیتا ہے۔

اور پھر وقت گزرتا ہے۔ بچہ بڑا ہوتا ہے۔ دادا چھوٹا۔

یہ زندگی کا وہ الٹا سفر ہے جس میں ایک بڑھتا ہے تو دوسرا سمٹنے لگتا ہے۔ اب دادا کی چال آہستہ ہو جاتی ہے، حافظہ کمزور پڑنے لگتا ہے، باتیں دہرانے لگتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں پوتا، جو کبھی دادا کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا تھا، اب دادا کا سہارا بن جاتا ہے۔ یہاں رشتہ پلٹ جاتا ہے۔ اب دادا سوال پوچھتا ہے اور پوتا جواب دیتا ہے۔ اب دادا کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ دوا کھانی ہے، نماز کا وقت ہوگیا ہے، لاٹھی ساتھ رکھنی ہے اور پوتا یہ سب کرتے ہوئے بوجھ محسوس نہیں کرتا کیونکہ اسے یاد ہوتا ہے کہ کبھی یہی ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھا جاتا تھا۔

دادا کے پرانے دوست آہستہ آہستہ رخصت ہو جاتے ہیں۔ کوئی قبرستان میں، کوئی یادوں میں۔ محفلیں ختم ہو جاتی ہیں، بیٹھکیں ویران ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ہے جو دادا کے پاس بیٹھ کر موبائل چھوڑ دیتا ہے، جسے اس کی پرانی باتیں بور نہیں کرتیں، جو اس کی خاموشی کو بھی سمجھ لیتا ہے تو وہ اس کا پوتا ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دادا کا سب سے آخری دوست اس کا پوتا ہوتا ہے۔ یہ دوستی بے غرض ہوتی ہے۔ اس میں مفاد نہیں، حساب نہیں، شکایت نہیں۔ صرف ساتھ بیٹھنا، خاموشی بانٹنا اور کبھی کبھار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرا دینا۔

دادا جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو پوتا پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ کچھ رشتے چھت کی طرح ہوتے ہیں۔ جب تک ہوتے ہیں احساس نہیں ہوتا اور جب اٹھ جاتے ہیں تو آسمان بہت بڑا اور سرد لگنے لگتا ہے۔ دادا کے جانے کے بعد گھر وہی رہتا ہے، کمرے وہی ہوتے ہیں مگر وہ آواز نہیں رہتی جو نام لے کر بلاتی تھی، وہ ہاتھ نہیں رہتا جو سر پر رکھا جاتا تھا۔

اور پھر برسوں بعد، جب وہی پوتا خود دادا بنتا ہے تو کسی ننھے ہاتھ کی گرفت میں وہی پرانی گرمی محسوس کرتا ہے۔ تب اسے سمجھ آتا ہے کہ یہ رشتہ وقت کا ایک دائرہ ہے جو مکمل ہو کر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ دادا اور پوتے کا رشتہ دراصل زندگی کی سب سے خوبصورت یاد دہانی ہے کہ محبت عمر نہیں دیکھتی، دوستی نسل نہیں پوچھتی اور کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو شروع بھی معصومیت سے ہوتے ہیں اور ختم بھی دعا پر۔ اسی لیے اگر آپ کے پاس دادا ہیں تو ان کے پاس بیٹھئے۔ ان کی باتیں سنئے چاہے وہ دہرائی ہوئی ہوں۔ کیونکہ ایک دن یہ کہانیاں نہیں رہیں گی۔۔ صرف یادیں رہ جائیں گی۔

Check Also

Jang Ke Harbi Maqasid

By Mohammad Din Jauhar