Tuesday, 03 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Salahuddin Ayyubi: Parindon Se Dil Behlaya Karo

Salahuddin Ayyubi: Parindon Se Dil Behlaya Karo

صلاح الدین ایوبی: پرندوں سے دل بہلایا کرو

کہتے ہیں ایک نوجوان سپاہی جنگی مہم پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے استاد کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: "مجھے کوئی ایسا نسخہ بتا دیجیے جو میدانِ جنگ میں میرے دل کو مضبوط رکھے"۔ استاد اسے شہر کی فصیل پر لے گیا۔ شام ڈھل رہی تھی اور پرندوں کے جھنڈ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ استاد نے کہا: "ان پرندوں کو دیکھو۔ یہ صبح رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں، دن بھر مشقت کرتے ہیں، مگر شام کو اپنے گھونسلوں میں پاکیزہ لوٹتے ہیں۔ نہ یہ شراب میں ڈوبتے ہیں، نہ خواہشات کے اسیر بنتے ہیں۔ ان کی آزادی ان کے ضبط میں ہے۔ تم بھی اگر آزاد رہنا چاہتے ہو تو اپنے نفس کو قید میں رکھنا سیکھو"۔ نوجوان نے اس دن جان لیا کہ تلوار سے پہلے کردار کو صیقل کرنا ضروری ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اصل سپاہ گری محض بازو کی طاقت کا نام نہیں بلکہ نفس کی مہار تھامنے کا ہنر ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے عظیم فاتح صلاح الدین ایوبی نے اپنے قول میں سمو دیا کہ "تم پرندوں سے دل بہلایا کرو کیونکہ سپاہ گری اُس آدمی کے لیے ایک خطرناک کھیل ہے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو"۔ یہ جملہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ ایک عسکری فلسفہ ہے۔ پرندوں سے دل بہلانا دراصل فطرت کی سادگی اور پاکیزگی کو اپنانا ہے۔ وہ سپاہی جو اپنی خواہشات کا غلام ہو، دشمن کا سامنا کرنے سے پہلے ہی شکست خوردہ ہوتا ہے اور جو اپنے باطن کا فاتح ہو، وہ میدان میں اترے بغیر بھی ایک قوت بن جاتا ہے۔

سپاہ گری خطرناک کھیل کیوں ہے؟ اس لیے کہ اس میں طاقت، اختیار اور شہرت تینوں یکجا ہو جاتے ہیں۔ یہ تینوں چیزیں اگر کردار کے تابع نہ ہوں تو انسان کو اندھا کر دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی لشکر تلوار کی کمی سے نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط سے ہارے۔ جب سپاہی عیش و عشرت کے اسیر ہو جائیں تو ان کی آنکھوں سے مقصد اوجھل ہو جاتا ہے۔ وہ دشمن سے پہلے اپنے ضمیر کے ہاتھوں مغلوب ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے سچے قائد اپنے سپاہیوں کو محض جنگی مشقیں نہیں سکھاتے، بلکہ ان کے اندر تقویٰ، ضبط اور سادگی کا چراغ بھی روشن کرتے ہیں۔ پرندے اسی سادگی کی علامت ہیں، بے نیازی، خود کفالت اور نظم کی علامت۔

یہ قول آج بھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ آج کی دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی محاذ پر سپاہی ہے۔ کوئی قلم کا سپاہی ہے، کوئی علم کا، کوئی رزق کی تلاش میں جدوجہد کرنے والا۔ اگر وہ نفس کی لغزشوں کا شکار ہو جائے تو اس کی جدوجہد کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ عورت اور شراب یہاں محض علامت ہیں، ہر اس خواہش کی علامت جو انسان کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا دے۔ پرندوں سے دل بہلانا گویا اپنی فطرت کی طرف لوٹنا ہے، اپنی حدود کو پہچاننا ہے اور اپنی طاقت کو پاکیزہ رکھنا ہے۔ جس نے اپنے دل کو پاک رکھا، اس کا ہاتھ بھی پاک رہا اور اس کی تلوار بھی۔

آج کے نوجوان کو اگر کوئی نصیحت دی جا سکتی ہے تو یہی کہ طاقت سے پہلے طہارت کو اختیار کرو۔ شہرت سے پہلے سچائی کو اور اختیار سے پہلے احتساب کو۔ جو اپنے اندر کی کمزوریوں کو پہچان لے، وہی حقیقی مضبوطی کا مستحق ہے۔ پرندے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بلندی پرواز سے نہیں، نیت کی پاکیزگی سے آتی ہے اور سپاہ گری، چاہے وہ فوج کی ہو، قلم کی ہو یا کردار کی، اسی وقت بابرکت بنتی ہے جب انسان اپنی خواہشات پر قابو پا لے۔

یہ کالم اُن سب کے نام جو کسی نہ کسی محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں، چاہے وہ وردی میں ہوں یا بغیر وردی کے۔ اصل جنگ باہر نہیں، اندر لڑی جاتی ہے۔ جو اپنے باطن کا فاتح ہوگیا، وہی حقیقی سپاہی ہے۔

دل کو پرندوں کی طرح آزاد کیا جائے
نفس کی زنجیروں کو برباد کیا جائے

تلوار سے پہلے خودی کو جیتنا شرط ٹھہرا
پہلے اندر کے دشمن کو یاد کیا جائے

جو خواہشوں کے ہاتھ بک جائے وہ کیا لڑے گا
ایمان کو ہر قیمت پر شاد کیا جائے

پرواز نصیب اُنہی کو ہوتی ہے آخر
جو دل کو گناہوں سے آزاد کیا جائے

اور آخر میں یہ چند سطور اُن محافظوں کے نام جو آج کئی محاذوں پر بیک وقت سینہ سپر ہیں، خشکی کے سنگلاخ مورچوں میں پاک فوج، فضاؤں کی وسعتوں میں پاک فضائیہ اور سمندروں کی گہرائیوں میں پاک بحریہ۔ ان کے سامنے صرف سرحدوں کا دفاع نہیں بلکہ داخلی استحکام، فکری یلغار اور جدید جنگی تقاضوں کا کڑا امتحان بھی ہے۔ جب وہ اپنے اپنے محاذوں پر چوکس کھڑے ہیں تو میرا بھی ایک محاذ ہے، قلم کا محاذ۔ میں نے اپنے لفظوں کو اُن کے حوصلوں کی ڈھال بنانا ہے، اپنے جملوں کو اُن کی عزت کی پاسبانی پر مامور کرنا ہے اور اپنے کالم کو اُن کی پیشانی کے پسینے کا اعتراف بنانا ہے۔ اگر وہ سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں تو مجھ پر فرض ہے کہ میں سچائی، وقار اور دیانت کے ساتھ اُن کی قربانیوں کو حرفوں کا سلام پیش کروں، تاکہ میرا قلم بھی اُن کی صف میں ایک خاموش سپاہی بن کر کھڑا رہے۔

Check Also

Yaad Rakhiye Ke Ab Namumkin Bhi Mumkin Hai

By Wusat Ullah Khan