Tuesday, 03 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Arslan Malik
  4. Saddam Hussain Hukumat Par Americi Hamla Aur Irani Kirdar

Saddam Hussain Hukumat Par Americi Hamla Aur Irani Kirdar

صدام حسین حکومت پر امریکی حملہ اور ایرانی کردار

جب مارچ 2003 میں امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج نے عراق پر حملہ کیا تو دنیا نے اسے "صدام حسین کی سنی حکومت کے خاتمے" کے طور پر دیکھا۔ صدام کی بعثی حکومت کا تختہ الٹا گیا، لیکن اس جنگ میں لاکھوں عراقی جانیں گئیں۔ عراق باڈی کاؤنٹ اور لینسیٹ جیسی معتبر رپورٹس کے مطابق، 2003 سے 2011 تک تشدد سے متعلقہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 1 لاکھ سے 6 لاکھ تک پہنچی، جبکہ مجموعی طور پر جنگ اور اس کے اثرات سے متاثرہ اموات کا تخمینہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس تناظر میں ایک اہم سوال اٹھتا ہے: ایران نے اس وقت کیا کردار ادا کیا؟ عوامی طور پر امریکہ کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے تہران نے خفیہ طور پر امریکہ کی "خاموش مدد" کی، جو بعد میں عراق کی شیعہ اکثریتی سیاست اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کی بنیاد بنی۔

سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد (جو بعد میں افغانستان، عراق اور اقوام متحدہ میں سفیر رہے) نے اپنی کتاب "The Envoy" میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ حملے سے پہلے جنوری 2003 میں جنیوا میں ان کی ایرانی سفارت کار جواد ظریف (جو بعد میں ایران کے وزیر خارجہ بنے) سے متعدد خفیہ ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ ملاقاتیں عراق کے مستقبل پر تھیں۔ خلیل زاد نے ظریف سے وعدہ لیا کہ اگر امریکی طیارے غلطی سے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہو جائیں تو ایران ان پر فائرنگ نہیں کرے گا۔ ظریف نے اس "non-interference" معاہدے پر رضامندی ظاہر کی۔

نیویارک ٹائمز (مارچ 2016) نے بھی اس کی تصدیق کی۔ یہ معاہدہ حملے کی کامیابی کے لیے اہم تھا، کیونکہ امریکہ کو ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی فضائی مداخلت کا خوف نہیں رہا۔ خلیل زاد لکھتے ہیں کہ امریکہ چاہتا تھا کہ ایران عراقی شیعہ برادری کو نئی حکومت کی تشکیل میں تعاون کرنے کی ترغیب دے۔ یہ بات بعد میں ثابت ہوئی کہ ایران نے اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔

ایران نے 1980-88 کی ایران-عراق جنگ کے دوران عراقی شیعہ مخالفین کو تربیت دی تھی۔ ان میں سب سے اہم "بدر آرگنائزیشن" (سابقہ بدر بریگیڈ) تھی، جو سپریم کونسل فار اسلامک ریوولیوشن ان عراق (SCIRI، بعد میں ISCI) کا فوجی بازو تھی۔ 2003 کے حملے کے فوراً بعد بدر کے ہزاروں جنگجو ایران کی سرحد پار کرکے عراق داخل ہوئے۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس اور بعد کی تحقیقاتی دستاویزات (جیسے وکی لیکس کیبلز اور اٹلانٹک کونسل کی رپورٹس) کے مطابق، بدر نے امریکی اتحادی افواج کو انٹیلی جنس فراہم کی۔ خاص طور پر بصرہ (عراق کا دوسرا بڑا شہر) میں عراقی فوج کی پوزیشنز، کمزوریاں اور اندرونی حالات کی معلومات دیں۔ بدر کے لیڈر ہادی العامری (جو فارسی بولتے ہیں) نے امریکی قبضہ کاروں اور تہران کے درمیان رابطے کا کام کیا۔ بدر نے بصرہ اور جنوبی علاقوں میں مزاحمت کو کچلنے میں مدد دی، جہاں برطانوی افواج نے شہر پر قبضہ کیا تھا۔

SCIRI اور بدر نے نئی عراقی حکومت میں کلیدی عہدوں پر قبضہ کیا۔ بدر کے ارکان عراقی پولیس اور فوج میں شامل ہوئے اور بعد میں "وولف بریگیڈ" جیسی یونٹس نے امریکی افواج کے ساتھ مل کر سنی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ یہ سب ایران کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس نے صدام کی سنی حکومت کے خاتمے کو "مثبت" قرار دیا۔

ایرانی رہنماوں نے عوامی طور پر حملے کی مذمت کی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے فروری 2003 میں کہا کہ امریکہ کا مقصد تیل کے وسائل پر قبضہ اور علاقائی توسیع ہے۔ تاہم، تہران نے صدام کی حکومت کو "ظالم" قرار دیا اور اس کے خاتمے کو خوش آئند سمجھا۔ ایرانی حکام نے خفیہ طور پر یہ یقینی بنایا کہ عراق میں کوئی سنی غلبہ والا یا امریکہ نواز سیکولر حکومت نہ بنے۔

اس حکمت عملی نے کامیابی حاصل کی۔ 2003 کے بعد عراق کے تمام وزیراعظم شیعہ رہے: ابراہیم الجعفری (2005-06)، نوری المالکی (2006-14)، حیدر العبادی (2014-18)، عادل عبدالمهدی (2018-20)، مصطفی الکاظمی (2020-22) اور محمد شیاع السودانی (2022 سے اب تک)۔ یہ "محاصصہ" نظام کا نتیجہ ہے، جس میں وزیراعظم کا عہدہ شیعہ کے لیے مخصوص ہے۔ ایران نے شیعہ پارٹیوں (دعوہ، SCIRI/ISCI) کے ذریعے عراق کی سیاست پر گہرا اثر قائم کیا۔

2003 کی جنگ ایران کے لیے "مکسڈ بلیسنگ" ثابت ہوئی۔ ایک طرف صدام (جو 1980 کی جنگ میں ایران پر حملہ آور تھا) ختم ہوا، شیعہ اکثریت کو طاقت ملی۔ دوسری طرف امریکہ کی موجودگی نے ایران کو فکرمند کیا، جس کے جواب میں تہران نے شیعہ ملیشیا کو سپورٹ کیا۔ بعد میں ایران نے "اسپیشل گروپس" (جیسے کتائب حزب اللہ) کے ذریعے امریکی افواج کے خلاف بھی مزاحمت کی۔

تحقیقاتی ذرائع (خلیل زاد کی کتاب، امریکی انٹیلی جنس کیبلز، ولسن سینٹر اور سٹمسن سینٹر کی رپورٹس) سے واضح ہے کہ ایران نے "دشمن کے دشمن" کی پالیسی اپنائی۔ عوامی بیانات میں مخالفت، خفیہ طور پر تعاون۔ نتیجہ؟ آج عراق میں ایران کا اثر و رسوخ بے مثال ہے، جبکہ امریکہ کی جنگ اربوں ڈالر کی لاگت اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بنی۔

Check Also

Jang Ke Harbi Maqasid

By Mohammad Din Jauhar