Monday, 17 January 2022
  1.  Home/
  2. Asad Ullah Khan/
  3. Wakeelon Ki Hikmat e Amli, Tareekh Pe Tareekh

Wakeelon Ki Hikmat e Amli, Tareekh Pe Tareekh

نہ جانے ان میں سے کچھ لوگوں نے عدالتوں کو کیا سمجھ رکھا ہے۔ عدالتوں سے کھیلتے ہیں اور قانون کے دائرے میں رہ کر کھیلتے ہیں۔ عدالت کو معلوم ہوتا ہے سامنے کھڑا شخص آنکھ میں دھول جھونک رہا ہے لیکن تاریخ دینے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ۔

بتائیے اب کیا کیا جائے ایسے شخص کا جو بیس دن بعد عدالت میں وکیل کے بغیر پیش ہو جائے اور کہے اس نے تو ابھی اپنا بیان حلفی تک نہیں پڑھا جو اخبار میں چھپا ہے۔ عدالت پوچھے کیوں نہیں پڑھا تو کہے یہ تو میرا وکیل تحریری طور پر بتائے گا۔ پوچھا جائے اس سے پہلے جو نوٹس جاری کیا گیا ہے اس کا تحریری جواب جمع ہو گیا ہے کیا؟ تو جواب آئے یہ بھی اس کا وکیل ہی بتائے گا کہ تحریری جواب جمع کیوں نہیں ہوا۔ پوچھا جائے وکیل کہاں ہے تو پتہ چلے وکیل صاحب تو آئے ہی نہیں۔ اگلی تاریخ دینے کی باری آئے تو ملزم عدالتوں سے یہی استدعا کرتا پایا جاتا ہے کہ اسے لمبی تاریخ دی جائے، اس کے لیے طرح طرح کی توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔ اکثر اوقات ملزمان اصرار کر کے لمبی تاریخ لینے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔

دوسری طرف سندھ حکومت نے نسلہ ٹاور گرانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے سبق سیکھ کر غیر قانونی اجازت نامے روکنے کی حکمت عملی تیار کرنے کی بجائے انوکھا راستہ اختیار کیا ہے۔ سندھ سرکار ایک آرڈیننس لانے کی تیاری کر رہی ہے جس کے ذریعے وہ غیر قانونی رہائشی تعمیرات کو ریگولرائز کرے گی۔ یعنی غیر قانونی تعمیرات روکنے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ہو گی، رشوت لے کر این او سی جاری کرنے والے افسران اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو لگام دینے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں بنائے جائے گی، سپریم کورٹ کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے آرڈیننس لایا جائے گا تاکہ آئندہ اگر سپریم کورٹ کسی غیر قانونی عمارت کو گرانے کا حکم جاری کرنے لگے تو یہ آرڈننس آڑے آ جائے۔

یوں سرکاری افسران، سیاست دانوں اور بلڈر مافیا کے درمیان ایک نیا معاہدہ ہو جائے گا، سرکاری زمینوں پر سیاسی آشیر باد سے غیر قانونی تعمیرات کے لیے این او سی جاری ہوں گے، اونچی اونچی عمارتیں بنیں گے، کروڑوں اربوں میں بکیں گی اور پھر سندھ سرکار انہیں ریگولرائز کر دے گی۔ تماشا چلتا رہے گا، سندھ سرکار نے ایک اور کارنامہ بھی دکھایا ہے جس پر کراچی میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں سراپا احتجاج ہیں۔

سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل میں مئیر اور ڈپٹی مئیر کے انتخاب کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا گیا ہے، اب مئیر اور ڈپٹی مئیراوپن بیلیٹنگ کے ذریعے نہیں خفیہ رائے شماری سے منتخب ہوں گے۔ صاف نظر آتا ہے بولیاں لگیں گی، خرید و فروخت ہو گی، مئیر اور ڈپٹی مئیر کے لیے کونسلرز خریدے جائیں گے۔ کوئی پوچھے تو کیسی کیسی سیاسی روایات متعارف ہو رہی ہیں، اندھیر مچاہے، حکمران جوتیوں سمیت آنکھوں میں اتر جا تے ہیں، پیٹنے والے پیٹتے رہ جاتے ہیں۔

ادھر لاہور میں شہباز شریف کی قانونی ٹیم عدالت کو مسلسل گھمانے کی کوشش میں ہے۔ پچھلی کئی تاریخوں پربغیر سماعت کارروائی ملتوی ہونے کی چند وجوہات دیکھئے۔"نئے نیب آرڈننس کے بعد عدالت میں آڈیو ویڈیو سسٹم موجود نہیں ہے، لہذا سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی جائے۔ ایک نیا ملزم گرفتار کیا گیا جب تک وہ جوڈیشل نہیں ہوجاتا کارروائی نہیں ہو سکتی، لہٰذا تاریخ دے دی جائے۔ نیا ملزم آنے کے بعد گواہان کو پھر سے ریکارڈ کرنا پڑے گا جس کے لیے آج ہماری تیاری نہیں ہے، تاریخ دے دی جائے۔ آج گواہان موجود ہیں لیکن امجد پرویز ڈینگی میں مبتلا ہیں، جرح تو وہی کریں گے جب صحت یاب ہوں گے، ایسوسی ایٹ وکیل ایسا نہیں کر سکتے، لہٰذا تاریخ دے دی جائے۔

آج شہباز شریف اسمبلی اجلاس کی غرض سے اسلام آباد میں ہیں، حاضری معافی کی درخواست قبول کی جائے اور تاریخ دے دی جائے کہ گواہان کا بیان ملزم کی موجودگی میں ہی قلم بند ہونا چاہیے۔ آج امجد پرویز لند ن میں ہونے کی وجہ سے نہیں آ پائے، تاریخ دے دی جائے۔ آج شہباز شریف صاحب نے اسلام آباد کے لیے نکلنا ہے، عدالت کے احترام میں وہ حاضر ہو گئے ہیں لیکن انہیں جلدی ہے، لہٰذا سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی جائے "۔ یہ چند حقیقی مثالیں ہیں جو میں نے قارئین کے سامنے رکھی ہیں، کم وبیش الفاظ بھی یہی تھے۔ پچھلے چند مہینوں میں حقیقت میں یہی وجوہات بیان کر کے تاریخیں حاصل کی گئی ہیں۔

ادھر قانونی ٹیم کی شاندار حکمت عملی اور پراسیکیوشن کی نہ سمجھ آنے والی نرمی کے باعث اڑھائی سال میں رانا ثناء اللہ کے خلاف فرد جرم تک عائد نہیں ہو سکی، ٹرائل تو بہت دور کی بات ہے۔

چند دن پہلے علی احمد کرد نے ایک جوشیلا خطاب کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ عدالتوں میں جلدی انصاف نہیں ملتا اور کیس سالوں چلتا رہتا ہے۔ لیکن کیا علی احمد کرد کو اپنی برادری سے بھی نہیں پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے تاریخ پہ تاریخ حاصل کر کے کیس کو لٹکانے میں مہارت کو ہی اپنا تعارف کیوں بنا لیا ہے۔ اب تو باقاعدہ کسی وکیل کے پروفائل میں تعریف کے طور پر شامل کیا جاتا ہے کہ موصوف کیس کو لٹکانے میں مہارت رکھتے ہیں۔

نظام کیسے ٹھیک ہو گا، کون کرے گا، چودھری سرور نے گذشتہ روز اعتراف کیا کہ ان کی حکومت پولیس اور عدلیہ کے نظام میں اصلاحات لانے میں ناکام رہی ہے، اعتراف کافی نہیں ہے، اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔