Israel, Afghanistan Aur Dakhli Inteshar: Pakistan Ke Gird Banta Ghera
اسرائیل، افغانستان اور داخلی انتشار: پاکستان کے گرد بنتا گھیرا
مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر آج وہ مہرہ گرا دیا گیا ہے جس نے دہائیوں تک عالمی طاقتوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔ تہران کے افق سے آنے والی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر محض ایک سوگوار اطلاع نہیں، بلکہ ایک نئے عالمی معرکے کا پیش خیمہ ہے جس کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ عالمی سیاست کے ایک ادنیٰ طالب علم کے طور پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسے محض ایک اتفاق سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی خطے میں طاقت کا توازن بگڑتا ہے، اس کے اثرات سرحدوں سے پار تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ آج ایران کی صورتحال پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ خطے کا نیا جغرافیائی نقشہ ترتیب دینے کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں اور اس کے اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں۔
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں، عین اسی لمحے پاکستان کو اس کی مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ ایک ایسی کشیدہ صورتحال کا سامنا ہے جس میں قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے۔ سرحدوں پر جاری یہ بے چینی کیا محض ایک علاقائی تنازع ہے یا اس کے پیچھے وہ عالمی مصلحتیں کارفرما ہیں جو پاکستان کو ایک بڑے عالمی منظر نامے سے دور رکھنا چاہتی ہیں؟ عیار دشمن کی یہ قدیم چال رہی ہے کہ کسی بھی ریاست کو اس کے اپنے پڑوس میں اس حد تک الجھا دو کہ وہ بڑے عالمی فیصلوں میں اپنا موثر کردار ادا نہ کر سکے۔ ہم افغانستان کے ساتھ سرحد پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف عالمی طاقتیں خطے میں اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جسے سمجھنے کے لیے محض جذبات نہیں بلکہ گہری بصیرت کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی موجودہ داخلی صورتحال پر نظر ڈالیں تو فکری تشویش مزید بڑھ جاتی ہے۔ ملک اس وقت تاریخ کے بدترین سیاسی عدم استحکام سے گزر رہا ہے۔ جب ملک کا ایک بڑا سیاسی طبقہ اور اس کی مقبول قیادت، بشمول عمران خان، طویل عرصے سے سیاسی و قانونی معاملات کی وجہ سے منظر نامے سے دور ہو، تو قومی یکجہتی کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کے اندرونی معاملات میں خلیج بڑھتی ہے، بیرونی قوتوں کے لیے مداخلت کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔ اندلس کی تاریخ ہو یا سقوطِ ڈھاکہ کے اسباق، ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ داخلی انتشار کسی بھی ریاست کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں تاکہ کسی بھی بیرونی سازش کا مقابلہ کیا جا سکے۔
عالمی مبصرین کے مطابق بعض قوتوں کی نظریں ہمیشہ سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور ایٹمی اثاثوں پر رہی ہیں۔ ایران کے بعد، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان کے لیے نئے اور کٹھن سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ اگر ہم آج بھی یہ نہ سمجھ سکے کہ سرحدوں پر مسلسل کشیدگی اور ملک کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم ہمیں کس طرف لے جا رہی ہے، تو آنے والا وقت مزید کٹھن ہو سکتا ہے۔ ایک منقسم قوم کبھی بھی بیرونی دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کر سکتی، خواہ اس کے پاس کتنی ہی بڑی فوجی قوت کیوں نہ ہو۔ اصل طاقت عوام اور ریاست کے اٹوٹ رشتے میں پنہاں ہوتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ریاست اور سیاست کے تمام شراکت دار اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ افغانستان کے ساتھ معاملات کو دور اندیشی، تحمل اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ہماری تمام تر توجہ ملکی سلامتی کے بڑے خطرات پر مرکوز رہے۔ اسی طرح، ملک کے اندر سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا اور تمام سیاسی اسیروں کے معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جو حقیقی قومی یکجہتی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ جب تک عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط نہیں ہوگا، ہم ان عالمی چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکیں گے جو ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے عالمی سیاست میں ایک نیا اور خطرناک موڑ پیدا کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ پھیلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے اور پاکستان اس صورتحال سے کسی طور لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ کیا ہم مصلحتوں کے لبادے میں رہ کر وقت گزاریں گے یا ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر اپنا بھرپور سفارتی اور اخلاقی کردار ادا کریں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے داخلی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ یاد رکھیے، تاریخ ان قوموں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو وقت آنے پر درست فیصلے کرنے میں ذرا سی بھی دیر کر دیتی ہیں۔ اب وقت محض خاموش تماشائی بنے رہنے کا نہیں، بلکہ قومی وقار، خود مختاری اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کا ہے۔

