Wednesday, 15 April 2026
  1.  Home
  2. Arif Anis Malik
  3. Trump Mujtaba Mulaqat Aur Aman Nodel Prize

Trump Mujtaba Mulaqat Aur Aman Nodel Prize

ٹرمپ-مجتبٰی ملاقات اور امن نوبیل پرائز

بات بہت واضح ہے۔ اگر ایران امریکہ ڈیل ہوئی تو وہ وینس-قالیباف ڈیل نہیں ہوگی۔ وہ ٹرمپ-مجتبی خامنہ ای ڈیل ہوگی اور پس منظر میں نوبیل پرائز ہوگا۔

ٹرمپ نے کل سوموار 13 اپریل کو کہا: "ایران نے آج صبح ہمیں فون کیا۔ وہ بہت بری طرح معاہدہ کرنا چاہتے ہیں"۔

ایک دن پہلے یہی آدمی کہہ رہا تھا: "مجھے فرق نہیں پڑتا"۔

یہ تضاد اتفاقی نہیں۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے اور ٹرمپ کو سمجھنے کے لیے اس کے الفاظ نہیں، اس کا نفسیاتی نقشہ پڑھنا ہوتا ہے۔

سی این این اور رائٹرز اور اسوسییٹڈ پریس کے مطابق امریکی عہدیدار ممکنہ تاریخوں، مقامات اور علاقائی ثالثوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جنیوا اور اسلام آباد دونوں دوبارہ میز پر ہیں۔ ایک ذریعے نے کہا: ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ اگر معاملات اس سمت بڑھیں تو فوری طور پر کچھ ترتیب دے سکیں"۔ سی این این نے لکھا: "ٹرمپ اور اس کے قریب ترین مشیروں میں سے بہت سے جنگ بندی کی کامیابی اور سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔ فوجی حملے دوبارہ شروع ہوتے دیکھنے کی بہت کم خواہش ہے۔

ایک علاقائی ذریعے نے سی این این کو بتایا: "ترکیہ دونوں فریقوں کے درمیان فرق پاٹنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ جنیوا اور اسلام آباد اگلے دور کے لیے ممکنہ مقامات ہیں"۔ اگر ابتدائی بات چیت میں پیشرفت ہوئی تو جنگ بندی کی مدت بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔

اب سب سے اہم سوال: اگلا دور کون لے کر جائے گا؟

وینس نے فاکس نیوز پر کہا: "گیند ان کے پالے میں ہے"۔ مگر سی این این نے لکھا کہ وینس نے یہ بھی کہا کہ "ایرانی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد میں معاہدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اور انھیں تہران واپس جا کر منظوری لینی تھی"۔ یعنی وینس خود تسلیم کر رہا ہے کہ اگلے دور میں ایرانی ٹیم زیادہ اختیار لے کر آئے گی اور اگر ایرانی ٹیم زیادہ اختیار لے کر آئے تو امریکی ٹیم کو بھی زیادہ اختیار والے آدمی کو بھیجنا ہوگا۔ وینس سے اوپر صرف ایک آدمی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ۔

ایکسیوز نے 8 اپریل کو خصوصی رپورٹ شائع کی تھی جس کا عنوان تھا: "ایران کے رہبر اعلیٰ نے ٹرمپ کے ساتھ کیسے جنگ بندی تک پہنچے"۔ تین ذرائع کے حوالے سے بتایا: "رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے پہلی بار جنگ شروع ہونے کے بعد سے اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت کی کہ معاہدے کی طرف بڑھیں"۔ ایک علاقائی ذریعے نے کہا: "ان کی سبز جھنڈی کے بغیر معاہدہ نہیں ہوتا"۔ یعنی مجتبیٰ فیصلے کا آدمی ہے۔ بغیر اس کی منظوری کے کچھ نہیں ہوتا۔

مگر مجتبیٰ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عوام کے سامنے نہیں آ سکتے۔ رائٹرز نے تین ذرائع سے تصدیق کی ہے کہ مجتبیٰ 28 فروری کے حملے میں شدید چہرے اور ٹانگ کی چوٹوں سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کو شبہ ہے کہ وہ شدیدت زخمی ہیں۔ وہ عوام کے سامنے نہیں آئے۔ کوئی تصویر یا ویڈیو نہیں۔ قاصدوں کے ذریعے نوٹ بھیج کر فیصلے کرتے ہیں کیونکہ اسرائیل کے قتل کا خطرہ ہے۔ ای اے ورلڈ ویو نے لکھا: "مجتبیٰ ذہنی طور پر تیز ہے اور جنگ بندی مذاکرات سمیت بڑے فیصلوں میں فعال ہے"۔

اب اس معلومات کو ٹرمپ کی نفسیات سے جوڑیں۔

ٹرمپ نے مارچ میں کہا تھا: "آبنائے ہرمز کو مشترکہ طور پر کنٹرول کیا جائے گا۔ میں اور آیت اللہ، جو بھی آیت اللہ ہو، جو بھی اگلا آیت اللہ ہو"۔ یہ الفاظ نوٹ کریں: "میں اور آیت اللہ"۔ ٹرمپ خود کو ایرانی رہبر اعلیٰ کے برابر رکھ رہا ہے۔ دو طاقتور آدمی جو مل کر فیصلہ کریں۔ یہ ٹرمپ کا تصور ہے: دنیا کا فیصلہ طاقتور آدمی کرتے ہیں۔ نوکر شاہ نہیں، سفیر نہیں، وزیر خارجہ نہیں۔ سربراہ۔

بروکنگز نے لکھا تھا: "ٹرمپ عالمی سیاست کو طاقتور آدمیوں کے درمیان جبری سودے بازی کے طور پر دیکھتا ہے"۔ یہ ٹرمپ کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اسی عقیدے نے اسے کم جونگ ان سے ملنے سنگاپور بھیجا۔ اسی عقیدے نے اسے پوتن سے ہیلسنکی میں ملوایا۔ اسی عقیدے نے اسے طالبان سے دوحہ معاہدہ کروایا۔ ہر بار اس نے وہ تصویر بنائی جو "صدی کی تصویر" ہو: دو دشمن ہاتھ ملا رہے ہیں اور درمیان میں ٹرمپ کھڑا ہے۔

سنگاپور میں کم جونگ ان سے مصافحے کی تصویر نے دنیا کو ہلا دیا تھا۔ مگر کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔ شمالی کوریا نے ایٹمی ہتھیار نہیں چھوڑے۔ مگر ٹرمپ نے وہ تصویر بنا لی جو اس کی سیاسی شناخت کا حصہ بن گئی: "میں نے وہ کیا جو کسی اور نے نہیں کیا"۔

اب سوچیں۔ اگر ایران سے معاہدہ ہوتا ہے تو وہ تصویر کیا ہوگی؟

ٹرمپ ایک طرف۔ مجتبیٰ خامنہ ای دوسری طرف۔ ہاتھ ملا رہے ہیں۔ 47 سال بعد امریکی صدر اور ایرانی رہبر اعلیٰ کی پہلی ملاقات۔ 1979 کے بعد پہلا مصافحہ۔ سرد جنگ کے بعد سے سب سے بڑا سفارتی لمحہ۔ اس تصویر کی قیمت: نوبل امن انعام۔

ٹرمپ کو نوبل انعام چاہیے۔ یہ اس کا جنون ہے۔ اس نے خود کو تین بار نامزد کروایا: شمالی کوریا کے لیے، ابراہم معاہدوں کے لیے اور پاکستان بھارت جنگ بندی کے لیے (پاکستان نے نامزد کیا)۔ ہر بار نہیں ملا۔ ایران معاہدے سے مل سکتا ہے اور ٹرمپ جانتا ہے کہ اگر معاہدہ وینس کرے تو نوبل وینس کو ملے گا۔ اگر خود کرے تو خود کو ملے گا۔

اسلام آباد میں سی این این نے ایک اہم تفصیل بتائی: "مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے لیے عزت کا احساس پیدا کیا۔ ٹرمپ اور مذاکرات سے واقف دوسرے لوگوں کے مطابق گھنٹوں بند کمروں میں رہنے سے باہمی احترام بنا"۔ ایک اور تفصیل: "اسلام آباد میں امریکی مذاکرات کاروں نے ایران کو 20 سال تک یورینیم افزودگی کی معطلی کی پیش کش کی۔ ایران نے 5 سال کی تجویز دی جو امریکہ نے مسترد کر دی"۔

یہ فرق نوٹ کریں: 20 سال اور 5 سال۔ فرق 15 سال کا ہے۔ یہ فرق ناقابل عبور نہیں ہے۔ 7 یا 10 سال پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور جب دونوں اتنے قریب ہوں تو آخری فیصلہ سربراہوں نے کرنا ہوتا ہے کیونکہ صرف سربراہ ہی "ہاں" کہہ سکتے ہیں۔ وینس "ہاں" نہیں کہہ سکتا۔ قالیباف "ہاں" نہیں کہہ سکتا۔ "ہاں" صرف دو لوگ کہہ سکتے ہیں: ٹرمپ اور مجتبیٰ۔

ٹائم میگزین نے لکھا کہ امریکہ کی پیش کش ایک "گرینڈ بارگین" تھی: پابندیوں کا خاتمہ، ایران کو مکمل طور پر بین الاقوامی برادری میں شامل کرنا، حتیٰ کہ۔۔ جملہ ادھورا ہے مگر اشارہ واضح ہے۔ "حتیٰ کہ" کے بعد کیا آتا ہے؟ سفارتی تعلقات کی بحالی؟ تجارت؟ شاید ٹرمپ ٹاور تہران؟ ٹرمپ کے لیے ہر معاہدہ ایک سودا ہے اور ہر سودے میں کاروبار ہے۔

ایران امریکہ معاہدہ دنیا کے بڑے معاہدوں کا باپ ہوگا۔ 1979 سے دشمنی۔ 444 دن یرغمال۔ ایٹمی بحران۔ چھ ہفتے کی جنگ۔ ہزاروں لاشیں۔ 100 ڈالر فی بیرل تیل اور پھر ایک مصافحہ۔

تصویر سوچیں: ٹرمپ اور مجتبیٰ۔ ایک لمبا، سنہرے بالوں والا امریکی ارب پتی جس نے ایرانی رہبر اعلیٰ کے باپ کو مارا۔ دوسرا عمامہ پوش ایرانی رہنما جس کا باپ مارا گیا، جو خود زخمی ہوا، جو مہینوں زیر زمین رہا۔ دونوں ہاتھ ملا رہے ہیں۔ پس منظر میں پاکستانی جھنڈا۔ یا شاید سوئس جھنڈا۔ یا شاید عمانی۔

یہ تصویر نکسن اور ماؤ سے بڑی ہوگی۔ ریگن اور گورباچوف سے بڑی ہوگی۔ رابن اور عرفات سے بڑی ہوگی۔ کیونکہ یہ دو فریقوں کے درمیان ہوگی جنھوں نے ایک دوسرے کو مارنے کی کوشش کی ہے۔ لفظی طور پر نہیں، حقیقی طور پر۔ ٹرمپ نے مجتبیٰ کے باپ کو مارا۔ مجتبیٰ نے ٹرمپ کے فوجیوں کو مارا اور اب مصافحہ۔

ٹرمپ کی نفسیات سمجھنے کے لیے ایک بات اور دیکھیں۔ اس نے خود کو مسیح کی تصویر میں ڈالا۔ "قدرت مطلقہ کا وہم" پوپ کے الفاظ ہیں۔ مگر نفسیاتی اصطلاح میں اسے "نارسسسٹک گرینڈیوسٹی" کہتے ہیں: اپنے آپ کو حقیقت سے بڑا سمجھنا۔ جو آدمی خود کو مسیح سمجھتا ہو وہ یقیناً خود کو نوبل انعام کا مستحق سمجھتا ہے اور نوبل انعام کے لیے اسے "صدی کی تصویر" چاہیے۔

تو سوال یہ نہیں ہے کہ ملاقات ہوگی یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کب اور کہاں۔

سی این این کے مطابق جنیوا اور اسلام آباد دونوں میز پر ہیں۔ ترکیہ فرق پاٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جس پر دونوں فریقوں کو اعتماد ہے۔ جنیوا کا فائدہ غیرجانبداری اور حفاظت ہے۔ مجتبیٰ کے لیے جنیوا زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے کیونکہ سوئس فضائی حدود میں اسرائیلی حملے کا خطرہ کم ہے۔

مگر ٹرمپ اسلام آباد ترجیح دے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اسلام آباد میں وہ "امن ساز" نظر آئے گا جس نے مسلم ملک میں، مسلم ثالث کے ذریعے، مسلم رہبر سے معاہدہ کیا۔ یہ تصویر نوبل کمیٹی کے لیے بنائی جائے گی۔ 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ نے 55 فیصد کیتھولک ووٹ لیا۔ مسلم دنیا میں امن بنا کر وہ عیسائی ووٹرز کو بتائے گا: "میں نے وہ کیا جو اوباما نہیں کر سکا" اور مسلم دنیا کو بتائے گا: "میں تمھارا دشمن نہیں"۔

ٹرمپ نے ہمیشہ "ڈیل" کو اپنی شناخت بنایا ہے۔ "آرٹ آف دی ڈیل" اس کی کتاب کا نام ہے۔ اس کی پوری سیاسی شخصیت اسی اصول پر بنی ہے: "میں سودے کرتا ہوں جو کوئی اور نہیں کر سکتا"۔ ایران معاہدہ سب سے بڑا سودا ہوگا۔ اس سودے کے لیے اسے خود جانا ہوگا۔ وینس کو نہیں بھیج سکتا۔ وٹکاف کو نہیں بھیج سکتا۔ کشنر کو نہیں بھیج سکتا۔ خود جائے گا۔

اور جب خود جائے گا تو وہ تصویر بنے گی جو ٹرمپ چاہتا ہے: دو دشمن، ایک میز، ایک مصافحہ اور درمیان میں ٹرمپ کھڑا ہے۔ جیسے سنگاپور میں تھا۔ جیسے وائٹ ہاؤس کے لان میں ابراہم معاہدوں پر تھا۔ مگر اس بار تصویر اور بھی بڑی ہوگی کیونکہ اس بار حقیقی جنگ ہوئی ہے، حقیقی لوگ مرے ہیں، حقیقی تباہی ہوئی ہے۔

نوبل کمیٹی نے 2015 میں ایران ایٹمی معاہدے پر نوبل نہیں دیا تھا۔ مگر اگر ٹرمپ خود ایرانی رہبر اعلیٰ سے ملے، مصافحہ کرے، معاہدے پر دستخط کرے تو نوبل سے انکار مشکل ہوگا۔ نکسن کو نوبل نہیں ملا تھا چین جانے پر مگر کسنجر کو ملا تھا ویتنام پر۔ ٹرمپ کسنجر نہیں بننا چاہتا۔ نکسن بننا چاہتا ہے۔

سی این این نے لکھا: "ایک عہدیدار نے کہا: ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ فوری طور پر کچھ ترتیب دے سکیں"۔ "فوری طور پر" کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وقت تنگ ہے۔ 22 اپریل قریب ہے۔ آٹھ دن باقی ہیں۔ آٹھ دنوں میں یا تو معاہدہ ہوگا یا جنگ دوبارہ شروع ہوگی۔

ٹرمپ نے سوموار کو کہا: "ایران نے آج صبح فون کیا"۔

یہ جملہ ٹریک ٹو نہیں ہے۔ یہ ٹریک ون ہے۔ ٹرمپ نے عوامی طور پر بتایا ہے کہ رابطہ ہو رہا ہے۔ جب ٹرمپ عوامی طور پر بتائے کہ رابطہ ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ معاہدے کی تیاری کر رہا ہے اور معاہدے کی تیاری میں وہ اپنی بہترین تصویر کا انتظام بھی کر رہا ہے۔

اور اس تصویر کے لیے آٹھ دن باقی ہیں۔

Check Also

Jang Bandi Ya Naka Bandi, Kya Chalay Ga?

By Zulfiqar Ahmed Cheema