دا نکسن مومنٹ آف پاکستان

واشنگٹن پوسٹ۔ پچیس مارچ دو ہزار چھبیس۔ آج صبح۔ سرخی: "پاکستان کی امریکہ ایران مذاکرات کی ثالثی کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں"۔ ایران نے پاکستان کی "نیک نیتی" کی تعریف کی۔ پاکستانی تجزیہ نگار نے "بالواسطہ مذاکرات میں تیز اور اہم پیش رفت" کی تصدیق کی۔ وال سٹریٹ جرنل نے ابھی انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کے چیف کو رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات اگلے دو دن میں اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔
رائٹرز نے اپنی خصوصی رپورٹ میں کہا۔ "اگر مذاکرات ہوئے تو یہ پاکستان کی عالمی اہمیت کو اس سطح تک لے جائے گا جو انیس سو اکہتر میں نکسن کے خفیہ چین دورے کی ثالثی کے بعد نہیں دیکھی گئی"۔
رکو۔ یہ جملہ دوبارہ پڑھو۔ نکسن کا چین دورہ۔ انیس سو اکہتر۔ وہ لمحہ جب پاکستان نے دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان پل بنایا اور سرد جنگ کا رخ بدل دیا۔ آج رائٹرز اسی موازنے پر بات کر رہا ہے۔ مشہور بھارتی اخبار دا ہندو نے آج اسی پر خصوصی مصرع باندھا ہے کہ نکسن، چین کی ملاقات کرانے کے بعد پاکستان دولخت ہوگیا۔
اب حقائق جوڑو۔
پچیس دن ہو گئے۔ اٹھائیس فروری کو ٹرمپ نے اسے بہتر گھنٹے کی گیم سمجھ کر شروع کیا تھا۔ خامنہ ای مارو، قیادت ختم کرو، نظام بدلو، گھر جاؤ۔ اورنج تباہی غلط نکلا۔ چالیس سے زائد اعلیٰ عہدیدار مارے مگر ایران ڈگمگایا نہیں۔ پانچ سو سے زائد بیلسٹک میزائل اور دو ہزار ڈرون داغے۔ آبنائے ہرمز بند کر دی۔ خلیجی ممالک پر حملے کیے۔ امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تیرہ امریکی فوجی مارے گئے۔ دو ارب ڈالر یومیہ جنگی لاگت۔ پٹرول کی قیمتیں تیئس دن مسلسل بڑھیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے کہا یہ ستر کی دہائی کے دونوں تیل بحرانوں سے بدتر ہے۔ ٹرمپ کا خود اعتراف: "ہم نے سوچا نہیں تھا کہ ایران دوسرے ممالک پر حملہ کرے گا"۔
تیس مارچ کو پانچ دن کی مہلت ختم ہوتی ہے۔ اس سے پہلے یا تو جنگ بندی ہوگی یا ٹرمپ ایرانی بجلی گھر تباہ کرے گا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ بجلی گھروں پر حملے کی صورت میں پوری خلیج کے توانائی اور پانی کے ڈھانچے تباہ کیے جائیں گے اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔ خلیج میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ تباہ ہوئے تو کروڑوں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں ملے گا۔ تیل کی سپلائی مکمل بند ہوگی۔ عالمی معیشت تباہ ہوگی۔ یہ تیسری عالمی جنگ کا دروازہ ہے۔
اس دروازے کو بند کرنے والوں میں سب سے آگے کون ہے؟ اسلام آباد۔
سی این این نے پانچ ذرائع سے تصدیق کی: "پاکستانی ایک تجویز پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستانی انٹیلی جنس چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک وٹکاف اور کشنر سے رابطے میں ہیں۔ اسلام آباد میں اس ہفتے ملاقات کی تجویز ہے جس میں نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کر سکتے ہیں"۔ رائٹرز کے مطابق گزشتہ مہینے میں شہباز شریف اور وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے ہم منصبوں سے تیس سے زائد گفتگو کیں۔ ان میں نصف درجن ایرانی عہدیداروں سے تھیں۔ پانچ عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان نے جنگ شروع ہونے سے اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان کم از کم نصف درجن پیغامات پہنچائے ہیں۔
وینس کو آگے رکھنے کی وجہ صاف ہے۔ ٹرمپ خود میز پر نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ وہ ایک فریق ہے۔ وٹکاف اور کشنر بالواسطہ بات کر رہے ہیں مگر روبرو ملاقات کے لیے سینئر سیاسی شخصیت چاہیے۔ وینس وہ چہرہ ہے جو ٹرمپ کی طرف سے معاہدے پر مہر لگا سکتا ہے بغیر ٹرمپ کی ساکھ داؤ پر لگائے۔
اب امن کے سات ممکنہ منظرنامے دیکھو۔ یہ میرا اندازہ ہے، ذرائع کے اشاروں پر مبنی۔
پہلا: آبنائے ہرمز پر عبوری اتفاق۔ تجارتی جہازوں کی محدود آمدورفت۔ ایران "غیر متحارب" ممالک کے جہازوں کو پہلے سے گزرنے دے رہا ہے۔ چینی، ترک، ہندوستانی جہاز گزرے ہیں۔ یہ جزوی کھلاؤ مکمل کھلاؤ میں بدل سکتا ہے۔ ٹرمپ نے "مشترکہ انتظام" کا ذکر کیا ہے۔
دوسرا: توانائی ڈھانچے پر باہمی بندش۔ ایران بجلی گھروں پر حملہ نہیں کرتا، امریکہ بھی نہیں کرتا۔ یہ پہلا اعتماد سازی قدم ہو سکتا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل نے بتایا کہ مصری خفیہ اداروں نے پاسداران انقلاب سے پانچ دن کی اعتماد سازی لڑائی بندی کی تجویز دی ہے۔
تیسرا: اسلام آباد میں بالواسطہ مذاکرات۔ ایرانی اور امریکی وفود الگ الگ کمروں میں۔ پاکستانی ثالث درمیان میں۔ عمان ماڈل۔ دو ہزار پندرہ کا ایٹمی معاہدہ اسی طرز پر ہوا تھا۔
چوتھا: ایٹمی پروگرام پر عبوری فارمولا۔ مکمل خاتمہ نہیں ہوگا۔ ایران اسے کبھی قبول نہیں کرے گا، خاص طور پر جنگ کے بعد۔ مگر "افزودگی کی حد بندی اور بین الاقوامی نگرانی" کا فارمولا ممکن ہے۔ ستائیس فروری کو عمانی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ ایران اس پر تقریباً راضی تھا۔
پانچواں: خلیجی ممالک کی سلامتی کی ضمانت۔ ایران خلیجی ممالک پر حملے بند کرے۔ بدلے میں خلیجی ممالک اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اس ضمانت کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔
چھٹا: لبنان میں جنگ بندی۔ اسرائیل کے لیے سب سے مشکل نکتہ۔ نیتن یاہو جنوبی لبنان میں مستقل موجودگی چاہتا ہے۔ مگر امریکی دباؤ میں عبوری بندوبست ممکن ہے۔
ساتواں: پابندیوں میں تدریجی نرمی بمقابلہ ایرانی رعایتیں۔ طویل مذاکرات۔ مہینوں یا برسوں پر محیط۔ مگر بنیاد اسی ہفتے رکھی جا سکتی ہے۔
دستخط کہاں ہوں گے؟ اسلام آباد سب سے مضبوط امیدوار ہے۔ مسقط دوسرا۔ دوحہ تیسرا۔ مگر قطر پر خود ایرانی حملے ہوئے ہیں اس لیے غیرجانبداری مشکوک ہے۔ عمان روایتی ثالث ہے مگر اس بحران میں کم فعال رہا۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایڈم وائنسٹائن نے رائٹرز کو بتایا: "خلیجی ممالک کے برعکس پاکستان میں امریکی فوجی اڈے نہیں ہیں اور وہ خود ایک فوجی طاقت ہے"۔
اب اصل بات۔ یہ پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟
رائٹرز نے نکسن کے چین دورے سے موازنہ کیا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ اس سے بڑا ہے۔ انیس سو اکہتر میں پاکستان پیغام رساں تھا۔ آج پاکستان ثالث ہے، تجویز ساز ہے، میزبان ہے اور ضامن ہے۔
دیکھو کیا ہوا ہے ایک سال میں۔ مئی دو ہزار پچیس میں بھارت سے جنگ لڑی اور جنگ بندی کروائی۔ ٹرمپ نے عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس بلایا۔ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جو نیٹو کی شق پانچ جیسا ہے۔ جنوری میں ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا۔ فروری میں ایران جنگ شروع ہوئی تو تین مارچ کو ایران کو سعودی عرب پر حملے سے خبردار کیا اور ایران نے سنجیدگی سے لیا۔ سات مارچ کو سعودی دفاعی معاہدہ فعال ہوا۔ نو مارچ کو بحریہ نے آپریشن محافظ البحر شروع کیا۔ بیس مارچ کو شیعہ علماء سے ملاقات کرکے اندرونی محاذ سنبھالا۔ بائیس مارچ کو ٹرمپ سے فون۔ تیئس کو ٹرمپ نے حملے ملتوی کیے۔ چوبیس کو شہباز شریف نے عوامی طور پر میزبانی کی پیشکش کی اور ٹرمپ نے ایک گھنٹے کے اندر اسکرین شاٹ شیئر کیا۔ پچیس کو واشنگٹن پوسٹ نے لکھا: "کوششیں تیز ہو رہی ہیں"۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ پکا ہوگیا۔ میدان میں آزمایا گیا۔ ایران کو بھی بچا لیا کیونکہ اگر پاکستان نہ ہوتا تو خلیجی ممالک اجتماعی فوجی کارروائی کر چکے ہوتے۔ چین کے خصوصی ایلچی خلیجی دورے پر ہیں اور پاکستان کی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ روس نے جنگ کی مذمت کی ہے اور پاکستان سے افغان ثالثی بھی مانگی ہے۔ مصر اور ترکی کے ساتھ تکون بن چکی ہے جو عالمی جنوب کا نیا طاقت بلاک ہے۔ امارات، قطر، بحرین، کویت سب دیکھ رہے ہیں کہ جب ایرانی میزائل ان کے شہروں پر گر رہے تھے تو کون ان کی بات سن رہا تھا اور کون ان کے لیے کھڑا تھا۔
یار بات سیدھی ہے۔
پاکستان نے انیس سو اڑتانوے میں ایٹمی دھماکہ کیا تو دنیا نے کہا: "اب پاکستان کو سنجیدگی سے لو"۔ آج اگر پاکستان اکیسویں صدی کی سب سے خطرناک جنگ رکوانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ ایٹمی طاقت بننے سے بھی بڑی بات ہوگی۔ ایٹمی بم تباہ کرنے کی طاقت ہے۔ جنگ رکوانا بچانے کی طاقت ہے۔ تباہی کوئی بھی کر سکتا ہے۔ تعمیر بہت کم لوگ کر سکتے ہیں۔
اور اگر رب نے یہ کام اسی ٹوٹے پھوٹے، بدحال، قرض میں ڈوبے پاکستان سے کروایا تو سمجھ لو کہ اس کی خصوصی عنایت ہے۔
مگر ایک بات کان کھول کر سن لو۔
ابھی کچھ نہیں ہوا۔ ابھی صرف کھڑکی کھلی ہے۔ تیس مارچ کو مہلت ختم ہوتی ہے۔ پانچ دن ہیں۔ یا تو اس کھڑکی سے امن آئے گا یا آگ اور اگر آگ آئی تو خاکم بدہن یہ آگ پاکستان کا جغرافیہ بدل دے گی۔ نو سو کلومیٹر ایرانی سرحد۔ خلیج میں لاکھوں مزدور۔ اندر فرقہ وارانہ تناؤ۔ باہر افغان جنگ۔ یہ آگ صرف ایران کی نہیں ہوگی۔
اس لیے یہ ثالثی خواہش نہیں، مجبوری ہے۔ ایشین مرر نے صحیح لکھا: "یہ سفارتی عزائم سے نہیں، ضرورت سے چل رہی ہے"۔
مگر ضرورت ہی تو ایجاد کی ماں ہے اور آج پاکستان ایجاد کر رہا ہے۔ اپنے لیے۔ اس خطے کے لیے۔ اس دنیا کے لیے۔
واشنگٹن پوسٹ لکھ رہا ہے "کوششیں تیز ہو رہی ہیں"۔ رائٹرز لکھ رہا ہے "نکسن کے چین دورے کے بعد سب سے بڑا سفارتی لمحہ"۔ ٹرمپ نے شہباز شریف کی پوسٹ ایک گھنٹے میں شیئر کی۔ ایران نے پاکستان کی نیک نیتی کی تعریف کی۔
اب دعا کرو۔ صرف دعا۔ کہ اگلے پانچ دن میں وہ ہو جو ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر نہیں ہوا تو جو ہوگا وہ خدانخواستہ ڈیڑھ سے دو ارب انسانوں کو نگل جائے گا اور اس آگ میں سب سے پہلے وہ جلیں گے جو آگ کے سب سے قریب ہیں اور آگ کے سب سے قریب پاکستان ہے۔
یہ پاکستان کی سب سے بڑی آزمائش ہے اور سب سے بڑا موقع۔ دونوں ایک ساتھ۔ تاریخ میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔

